مدرسہ عربیہ مدینتہ العلوم نور گنج پکھرایاں میں ایک روزہ عظیم الشان مظاہرہ قرأت قرآن کا انعقاد

کانپور: (سیف الاسلام مدنی)
۵/ اگست بروز پیر مدرسہ عربیہ مدینتہ العلوم نورگنج پکھرایاں میں بعد نماز مغرب ایک روزہ عظیم الشان مظاہرہ قرأت قرآن کریم کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر کے معروف و مشہور قراء کرام نے شرکت کی اور اپنی اپنی خوش الحان اور سحر انگیز تلاوت کلام پاک سے سامعین کے قلوب کو باغ باغ کردیا!
پروگرام کے آغاز میں، ناظم اجلاس مولانا عبد الماجد قاسمی مدرس مدرسہ ہذا نے اپنے تمہیدی خطاب میں بیان کیا!
حضرات سامعین محترمین، آج کا یہ پروگرام سرزمین پکھرایاں کا تاریخ ساز اور نرالا پروگرام ہے،جسکی نسبت اللہ کے پاکیزہ کلام سے ہے،جو اللہ رب العزت کے پاک کلام سے منسوب ہے، آج کی اس پرنور اور باعظمت محفل کا انعقاد اس لئے کیا گیا ہے کہ ملت اسلامیہ قرآن کریم کو سمجھے پڑھے اور پڑھنے کی کوشش کرے،اور قوم مسلم کے اندر خوش الحانی کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے کا جذبہ پیدا ہو، بلا شبہ یہ کلام الہی اتنی رفعتوں والا ہے، کہ جو چیز اس کلام پاک سے منسوب ہوجاتی ہے وہ باعظمت ہوجایا کرتی ہے،
قرآن کریم میں اللہ رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن ہی وہ کتاب ہے، جو قیامت تک آنے والے انسانوں کو ظلمت سے نکال کر راہ حق کی روشنی میں ڈال دیتا ہے،
جو پوری انسانیت کے کے لئے رحمت اور ہدایت کا سامان ہے چاہے وہ کسی ملک کسی قبیلے کسی قریہ اور کسی رنگ و نسل کا ہو قرآن کی تعلیمات عالم گیر ہے جو روز اول سے ہی دنیائے انسانیت کو حق کی تعلیمات سے روشناش کرارہا ہے یہی وہ قرآن ہے جو آج سےصدیوں قبل سر زمین عرب میں انسانیت کے سردار محتاجوں کے غمخوار، محسن انسانیت فخر کون ومکاں مونس انس جاں، جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی ذات بابرکات پر نازل ہوا، اور اسی دن سے یہ کلام باری، انسانوں کو ظلم کفر شرک کی سنگلاخ وادیوں سے نکال کر حق کی طرف گامزن کررہا ہے،
معبود حقیقی سے دور لاکھوں معبودان باطلہ کی عبادت کرنے والوں کو توحید کی معرفت عطا کررہا ہے، بھٹکتی ہوئی انسانیت کو جام توحید و وحدت پلا رہا ہے ‘
تاریخ شاہد ہے کہ جب مسلمانوں کا تعلق اللہ کے اس پاکیزہ کلام سے رہا ہے وہ سربلند ہوئی،
ڈاکٹر اقبال کہتا ہے، وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر، اور خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر،
قرآن ہی وہ نظام حیات ہے جس نے انسانیت کی کایہ پلٹ دی، لیکن افسوس صد افسوس آج امت مسلمہ اس کلام باری سے دور ہوگئی، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، کہ جس دل کے اندر قرآن نہ ہو وہ اجڑے ہوئے ویران مکان کی مانند ہے،
اقوام عالم میں مسلمان ہی وہ قوم ہے جو سب سے زیادہ تابناک اور روشن ماضی رکھتی ہے ایک دور تھا جب سندھ کا ساحل بھی اسلام کی قدم بوسی کررہا تھا مصرو شام،کے محلات پر ہمارے پرچم لہرارہے تھے!
مگر جب ہم قرآن کی تعلیمات سے دور ہوگئے، تو ہم روز بروز عالمی میدان میں شکست خوردہ ہوتے چلے گئے!
قرآن کریم جو ساری انسانیت کی ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ،اللہ تعالی نے اپنے اس بے مثال کلام میں عجیب و غریب برکا ت رکھی ہیں ،اس کی تلاوت ،اس کی سماعت ،اس میں غور وفکر کرنا،اس کے معانی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرنا، اس کے حلال پر عمل کرنا اس کے حرام سے اجتناب کرنا ،اس کی تعلیمات سے زندگیوں کو روشن کرنا ،اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق زندگی گذارنا ہر اعتبار سے انسانوں کے لئے اس میں خیر وبرکات ،انقلاب اور کامیابی اور کامرانی ہے ۔قرآن مجید کے انقلاب سے جو لوگ کفر اور شرک کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے ،اور خدا فراموشی کی زندگی گذاررہے تھے ،وہ نہ صرف ہدایت سے فیض یاب ہوئے بلکہ راہِ ہدایت میں مشعل راہ بنے،اس کلام الہی کو تھامنے والوں کو اللہ تعالی نے دنیا میں عزت دی اور آخرت مین سرخرو کرنے کا وعدہ فرمایا ،اور انہیں دنیا کی قیادت و سیادت سونپی ۔دنیا میں جن کو ذلیل و حقیر سمجھا جارہا تھا اس کلام کی انقلاب انگیز تاثیر نے ان کی شان کو بلند وبالا کیا اور قیامت تک کے لئے ان کے ذکر خیر کو جاری کردیا ۔دنیا میں جو کچھ انقلاب نظر آرہا ہے بلاشبہ یہ اس عظیم کتاب کی بدولت ہے جو صاحب کتاب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے بطور امانت انسانوں تک پہنچایا اور اس کے تقاضوں کو عملی طور پر پورا کرکے دکھایا۔قرآن کا نزول عرب کی سرزمین پر ہوا لیکن وہ پوری دنیا کے لئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے واسطے معجزۂ نبوی بن کر آیا اور اس کی کرنیں سارے عالم میں پھیل گئیں اور جہاں قرآن کا نور پہنچا وہاں اندھیریوں کا خاتمہ ہوا اور کفر و شرک نے دم توڑدیا ۔حضرات صحابہ کرام کی زندگیوں میں انقلابی اثرات اسی کلام نے پیدا کئے ،اور وہ انسانوں کی رہبر اور رہنما بنی۔قرآن نے ہر شعبۂ زندگی میں مثالی انقلاب بر پا کیا ۔اور اسکی یہ تاثیر ہمیشہ باقی رہیگی!
اس موقع پر قراء کرام نے تلاوت کلام پاک پیش کی!
قاری القرا جناب قاری محمد علاؤالدین صاحب قاسمی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند، جناب قاری محمد ریاض صاحب استاذ دارالعلوم ندوة العلماء لکھنؤ، جناب قاری محمد شمشیر صاحب استاذ جامع العلوم پٹکا پور کانپور، جناب قاری محمد سعید صاحب کیسی کانپور دیہات، جناب قاری محی الدین صاحب قاسمی استاذ مدرسہ مظہر العلوم نکھٹو شاہ کانپور، جناب قارری محمد کمال الدین صاحب کانپور، جناب قاری شمشاد صاحب قاسمی سہارنپور یوپی، قاری محمد زبیر صاحب مظفر نگر،جناب قاری محمد سفیان صاحب مدرس مدرسہ ہذا، قاری احمد یاسر صاحب دیوبند، نےاپنی تلاوت سے سامعین کے قلوب کو مسرور کیا!
شاعر اسلام جناب مفتی طارق جمیل صاحب قاسمی قنوج نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعت کلام کا نذرانہ پیش کیا
پروگرام کی صدارت مولانا مشتاق احمد قاسمی ناظم مدرسہ ہذا نے کی اور نظامت مولانا عبد الماجد قاسمی، مدرس مدرسہ ہذا نے کی،
اس موقع پر خواص طور سے مفتی محمد شاہد قاسمی، مولانا عبد الواجد قاسمی، مولانا فضل رب قاسمی، مولانا محمد خالد قاسمی، حافظ احسان صاحب، جناب حافظ سیف الاسلام مدنی، حافظ نعیم صاحب، شریک رہے، بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور پروگرام کو کامیاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest