عتیق سحرؔ کی شاعری رومانی جذبات کی بہترین عکاس: ڈاکٹر الیاس نویدؔ گنوری

عتیق سحرؔ کوانڈین اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ’’شہزادۂ غزل‘‘ایوارڈ ملنے پر علی گڑھ کی مختلف ادبی انجمنوں کا اظہارِمسرت

علی گڑھ: علی گڑھ کے معروف نوجوان شاعرعتیق سحرؔ کو ریاستی زرعی و صنعتی نمائش علی گڑھ میں انڈین اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک پروگرام میں ’’شہزادٔ غزل‘‘ کے ایوارڈ سے نوازے جانے پر علی گڑھ کی مختلف ادبی انجمنوں نے اظہارِ مسرت کیا ۔اس سلسلے سے ہلال ہائوس نگلہ ملاح سول لائن علی گڑھ میں ایک تہنیتی نشست کا انعقاد عمل میں آیا جس میں علی گڑھ اور بیرونِ علی گڑھ کی علمی و ادبی انجمنوں کے اراکین نے شرکت کی ۔پروگرام کی صدارت بزمِ نویدِ سخن کے سرپرستِ اعلیٰ استاذالشعراء ڈاکٹر الیاس نویدؔ نے کی ۔مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے علامہ قیصر اکیڈمی علی گڑھ کے بانی و صدر ڈاکٹررضیؔ امروہوی اور انجمنِ تعلیماتِ حسینی علی گڑھ کے صدر محمد محسن مظفر نگری شامل ہوئے پروگرام کی نظامت کے فرائض سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی نے انجام دئیے۔اس موقع پر پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر ہلال نقوی نے کہا کہ’’ کوئی بھی میدان ہو کسی نوجوان کی دنیا بلا وجہ پزیرائی نہیں کرتی جب تک اس میں یہ صلاحیت نہ ہو کہ لوگ اس کے فن سے متاثر ہو سکیں۔نوجوان شاعر عتیق سحرؔ کو انڈین اردو جرنلسٹ کی جانب سے علی گڑھ کی نمائش میں ایک بڑے پروگرام میں صحافیوں کے درمیان ’’شہزادۂ غزل‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عتیق سحرؔ ایک ایسے شاعر ہیں جن کے فن نے اہلِ ادب کو متاثر کیا ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عتیقق سحرؔ کی شاعری میں ایک جاذبیت اور ادبیت کی فضا کا احساس ہوتا ہے ۔میں ان کو ایوارڈ ملنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘‘۔اپنی صدارتی گفتگو میں ڈاکٹر الیاس نویدؔ گنوری نے کہا کہ’’ عتیق سحرؔ کا شمار میرے عزیز شاگردوں میں ہوتا ہے وہ جہاں غزل کہتے ہیں وہیں نعت گوئی کے حوالے سے بھی انھوں نے اپنی پہچان بنائی ہے۔ان کے نعتیہ پروگرام اکثر رمضان اور اس کے علاوہ بھی ای ٹی وی اردواور دیگر چینلس پر نشر ہوتے رہتے ہیں۔ان کی شاعری پر گفتگو کی جائے تو واضح ہوگا کہ ان کی شاعری رومانی جذبات کی بہترین عکاس ہے‘‘۔ڈاکٹر رضیؔ امروہوی نے کہا کہ’’ عتیق سحرؔ ایک خوش گلو شاعر ہیں ان کا کمال یہ ہے کہ جہاں وہ غزل گوئی میں اپنی پہچان بنا چکے ہیں وہیں نعت کے حوالے سے بھی ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔وہ جب کسی مشاعرے یا شعری نشست میں اپنا کلام پیش کرتے ہیں تو لوگ انھیں بھر پور داد سے نوازتے ہیں۔میں انھیں شہزادۂ غزل ایوارڈ ملنے پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے انڈین اردو جرنلسٹ ایسو سی ایشن کے قومی صدر مبین خاں اور علی گڑھ کے معروف سیاست داں اور منفرد لب و لہجے کے شاعرو ناظم مشرف حسین محضرؔ کی بھی تعریف کروں گا کہ جنھوں نے ایک نوجوان کو ایوارڈ سے نواز کر نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے‘‘۔محمد محسن مظفر نگری نے کہاکہ’’کسی بھی فن کار کی پزیرائی نہ صرف اس کے حوصلے کا باعث ہوتی ہے بلکہ اس سے نئے لکھنے والوں کو ایک تحریک ملتی ہے جس سے بلا شبہ ادب کو فائدہ پہنچتا ہے‘‘۔جاویدؔ وارثی نے کہا کہ’’ عتیق سحرؔ بزمِ نویدِ سخن کے اہم رکن ہیں ان کی وجہ سے اس بزم کی شہرت میں اضافہ ہوا ہے۔ان کے کلام کو دیکھا جائے تو اس میں ایک خاص قسم کی لذت اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت بخوبی پائی جاتی ہے۔ان کا کمال یہ ہے کہ وہ سادگی میں بہت گہری بات کہہ جاتے ہیںوہ ادق الفاظ سے اپنی شاعری کو دور رکھتے ہیں اور عام فہم تراکیب و استعاروں کے توسل سے اپنی بات کہتے ہوئے اہلِ ادب کے دلوں پر راج کرتے ہیں‘‘۔سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی نے کہا کہ’’عتیق سحرؔ جہاں نعت گوئی کے توسل سے اہلِ ادب میں مقبول ہیں وہیں ان کی غزلیں اور گیت بھی قابلِ ستائش ہیں ان کی شاعری کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں انڈین اردو جرنلسٹ ایسو سی ایشن کی جانب سے شہزادۂ غزل ایوارڈ ملنے پر میں انھیں تہنیت پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ مستقبل میں بھی وہ اپنے قلم کے جوہر دکھاتے رہیں گے‘‘۔انجمنِ محبانِ اردو علی گڑھ کے سکریٹری سید محمد عادل فرازؔ نے کہا کہ’’عتیق سحرؔ کی شاعری مشکل الفاظ،بناوٹ،تعقیدِ لفظی اور ابہام سے دور ہے انھوں نے جو کچھ دیکھا محسوس کیا اس کو شاعری بنا دیا ان کو ایوارڈ ملنے پر بہت مبارکباد‘‘۔تفسیر بشرؔ نے کہا کہ’’عتیق سحرؔ غزل کے لغوی معنی کو دھیان میں رکھ کر شاعری کرتے ہیں ان کے یہاںروایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ عصری ماحول کے رنگ بھی خوب واضح ہیںان کو اعزاز ملنا اہلِ سخن کے لئے بھی باعثِ مسرت ہے‘‘۔اس موقع پر صاحبِ اعزاز عتیق سحرؔ نے کہاکہ’’ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں ادب کا طالبِ علم ہوں اور خدا نے مجھے شاعری کا ہنر عطا کیا ہے اور میری آواز کو ترنم سے ہم آہنگ کیا ہے یہ اس کی بڑی نعمتیں ہیں۔میں شاعری کو دل کی آواز سمجھتا ہوں مجھے ایسی شاعری پسند ہے جو حقیقت سے قریب ہو اور جس میں وارداتِ قلبی پائی جاتی ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ابھی بہت کچھ لکھنا ہے اور میں شکرگزار ہوں انڈین اردو جرنلسٹ ایسو سی ایشن کے قومی صدر مبین خاں اور مشرف حسین محضر ؔ کا جنھوں نے مجھے ایوراڈ دے کر میر ی حوصلہ افزائی کی۔طالب علی شیداؔ نے کہا کہ’’عتیق سحرؔ کو ایوارڈ ملنے کی ہزاروں مبارکباد۔انھوں نے جس لہجے اور نہج کی شاعری کی ہے اس کا تقاضہ تھا کہ ان کی پزیرائی کی جائے‘‘۔ پروگرام میں شامل ہونے والوں میں ڈاکٹر شجاعت حسین، کلیم ثمرؔ بدایونی،شاکر علی گڑھی،ریشمہ طلعت،نگار فاطمہ،عامر حسین زیدی،مظفر حسین مظفر نگری،جعفر رضا روشنؔ،مبارک حسین،حیدر رضا کاملؔ اور عبد الحفیظ جدرانؔ وغیرہ وغیرہ پیش پیش رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest