اسلم چشتی

ڈِبائی ضلع بُلند شہر ( یو پی) کے آب و گل کی پیداوار اسلم چشتی عصرِ حاضر کے مشہور اور فعّال شاعر و ادیب ہیں – مُلکی و غیر مُلکی مُنتخب عالمی اور آل انڈیا مُشاعروں اور سمیناروں میں شرکت کرتے رہتے ہیں – ادبی رسائل اور اخبارات میں ان کی تخلیقات شایع ہوتی رہتی ہیں – ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں مُختلف شہروں کی علمی و ادبی انجمنوں نے انہیں انعام و اکرام سے بھی نوازا ہے – موجودہ دور کے با ہُنر اور فعّال شعراء و شاعرات اور دیگر اصنافِ سُخن سے تعلق رکھنے والوں کی کتابوں پر ان کے تبصرے ، تجزئے اور مضامین اُردو دُنیا میں پسند کیے جاتے ہیں – رمز آفاقی ( مرحوم) اور حضرتِ عنوان چشتی ( مرحوم ) کے خاص شاگردوں میں ان کا شُمار ہوتا ہے – پیشے سے تاجر ہیں مگر دورِ حاضر کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کے سیاسی شعور کی بالیدگی کی وجہ سے یہ میڈیا کے بہت سے اہم پراگرامس میں شرکت کرتے رہتے ہیں – سیاست پر ان کی گہری نظر اور دلچسپی کی وجہ سے ہی ” صدا ٹو ڈے” ویب پورٹل کی بنیاد ڈالی گئی ہے – پونے میں قیام پذیر ہیں – تجارتی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر اُردو زبان و ادب کی خدمت کو فرض سمجھتے ہیں اُردو دُنیا میں ان کے دوست احباب اور چاہنے والوں کی کمی نہیں – پونے میں ان کے احباب نے ان کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے ACFC(اسلم چشتی فرینڈس سرکل) اس ادارے کے تحت وقتاً فوقتاً ادبی پروگرامس ہوتے رہتے ہیں – اس ادارے کی خُصوصیت یہ ہے کہ یہ ادارہ باہر سے آنے والے اُردو کے قلمکاروں کا خیرمقدم کرتا ہے – اعزازی نشستیں منعقد کرتا ہے – انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعے ان کی شہرت عالمگیر ہے! ان کی ایک نثری کتاب ” سرحد پار کی توانا آوازیں” 16 مارچ 2018.ء کو منظرِ عام پر آئی جس کی رسمِ اجراء مشہور صحافی کلدیپ نیر اور مشہور فلم ساز مہیش بھٹ صاحب کے ہاتھوں کانسٹی ٹیوشن کلب دہلی میں عمل میں آئی – ان کا ایک شعری مجموعہ ” حرف و ہُنر” اور دو نثری مجموعے ” ہم اپنے فن میں رہیں گے زندہ ” اور ” اکیسویں صدی میں دبستانِ دہلی” زیرِ ترتیب ہیں – اُردو زبان اور تہذیب کے خادم کی حیثیت سے معزز سماجی حلقوں میں جانے پہچانے جاتے ہیں –

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram