ذیادہ بچے ہونے پر اس ریاست میں نہیں ملیگی سرکاری نوکری

آسام کی سربانند سلووال حکومت نے ملک کی بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک اہم اقدام اٹھایا ہے۔ آسام کی کابینہ نے پیر کو منعقدہ ایک اجلاس میں کہا ہے کہ اگر کسی شخص کے دو سے زیادہ بچے ہوںگے  تو اس شخص کو سرکاری ملازمت نہیں دی جائے گی۔ ریاستی حکومت کا یہ قاعدہ 01 جنوری 2021 سے نافذ ہوگا۔۔ یعنی یہ قانون فی الحال لاگو نہیں ہوگا۔س سلسلے میں سی ایم آفس کی جانب سے ایک نوٹس اور سرکولر بھی جاری کیا گیاہے۔ جس کے مطابق ، 02 جنوری 2021 سے ، دو سے زیادہ بچوں والے والدین کو سرکاری ملازمت نہیں دی جائے گی۔ اس کے علاوہ نئی آراضی کی پالیسی بھی نافذ کی گئی ہے ، جس کے مطابق جن کے پاس زمین نہیں ہے ان کو کاشتکاری کے لئے تین بیگہ زمین دی جائے گی اور آدھا بیگہ زمین مکانات بنانے کے لئے دی جائے گی۔ حکومت کو ملنے والی یہ اراضی 15 سال تک فروخت نہیں ہوگی۔
صرف یہی نہیں ، دو سے زیادہ بچے والوں کو ٹریکٹر دینے ، رہائش فراہم کرانے اور دیگر سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہیں ملے گا۔ اس کے علاوہ ، ریاستی الیکشن کمیشن کے تحت پنچایتیں ، خود مختار کونسلیں اور میونسپل باڈیز بھی انتخابات میں امیدوار پیش کرنے کی اہل نہیں ہوں گی۔ستمبر 2017 میں ، آسام کی قانون ساز اسمبلی نے “آبادی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی” منظور کی۔ جس کے مطابق صرف دو بچے رکھنے والے امیدوار ہی سرکاری ملازمت کے اہل ہونگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *