آسام شہریت معاملہ

مرکزاور آسام حکومت کا 20اور 10فیصددوبارہ تصدیق کا مطالبہ رد، این آرسی کی مدت میں 31اگست تک کی توسیع

این آرسی میں رخنہ اندازی کرکے فرقہ پرست طاقتیں ڈراورخوف پید اکرنا چاہتی ہیں: مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی جولائی: آسام شہریت معاملہ میں آج اس وقت ایک نیاموڑآگیا جب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس ایف اے نریمن کی دورکنی بینچ نے مرکزاور آسام حکومت کی طرف سے داخل کی گئی اس عرضی کو مستردکردیا جس مطالبہ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش سے متصل سرحدی اضلاع میں 20فیصد اورعام اضلاع میں 10فیصد ناموں کے ری ویریفکشن یعنی کے دوبارہ تصدیق کی اجازت دی جائے، عرضی میں دلیل دی گئی تھی کہ عام لوگوں میں یہ غلط فہمی یقین کی شکل اختیارکرگئی ہے کہ این آرسی میں بہت سے غیر ملکی شہریوں نے اپنا نام درج کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور بہت سے حقیقی شہریوں کا نام این آرسی میں اب تک شامل نہیں ہوسکاہے اس لئے این آرسی میں شامل سرحدی اضلاع میں 20اور عام اضلاع میں 10فیصدناموں کے ری ویریفکشن یعنی دوبارہ تصدیق کی اشدضرورت ہے، عرضی میں این آرسی کی حتمی فہرست کی تاریخ 31/جولائی میں اضافہ کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی جسے عدالت نے تسلیم کرلیا اور اس کی مدت میں 31/اگست تک کی توسیع کردی، قابل ذکر ہے کہ 18جولائی کو جب یہ عرضی داخل کی گئی تھی تب جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء مسٹرکپل سبل اور مسٹرسلمان خورشید نے اس کی شدید مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ جن لوگوں کے نام پہلے ہی این آرسی میں شامل ہوچکے ہیں آپ ان کے لئے ضرورت سے زیادہ فکرمندی کا اظہارکررہے ہیں اور ان کے ناموں کی دوبارہ تصدیق بھی کرانا چاہتے ہیں لیکن جن لوگوں کے نام اب تک این آرسی فہرست میں شامل نہیں ہوئے ہیں اور جواس کے لئے دردرکی خاک چھان رہے ہیں ان کے تعلق سے حکومت کی طرف سے ذرابھی فکرمندی اور حساسیت کا مظاہرہ نہیں ہورہا ہے، آج جب اس عرضی پر باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوا تو مرکز کی طرف سے کے کے وینوگوپال اورآسام حکومت کی طرف سے سالیسٹرجنرل مسٹرتشارمہتانے ایک بارپھر یہ دلیل پیش کی کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کانام این آرسی میں غلط طریقہ سے شامل ہوگیا ہے اور بہت سے ایسے حقیقی شہری ہیں جن کانام اب تک این آرسی میں شامل نہیں ہوسکاہے اس لئے دوبارہ تصدیق یعنی ری ویریفکشن بہت ضروری ہے، اس دلیل کے جواب میں جمعیۃعلماء ہند اور آمسو کے وکیل مسٹرسلمان خورشید نے کہا کہ اگر اس مطالبہ کو عدالت تسلیم کرلے تی ہے توایک بارپھر این آرسی کامعاملہ طول اخیتارکرجائے گاانہوں نے یہ بھی کہا کہ عرضی میں ان لوگوں کے ناموں کے دوبارہ تصدیق کی بات کہی گئی ہے جن کے نام پہلے سے این آرسی میں موجودہیں لیکن جن صحیح لوگوں کے نام اب تک این آرسی میں شامل نہیں ہوئے ہیں ان کے لئے دوبارہ تصدیق کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ اس بات کی تصدیق کی زیادہ ضرورت ہے کہ حقیقی شہریوں کے نام اب تک این آرسی میں شامل کیوں نہیں ہوئے، پچھلی سماعت پر آسام حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے سالسٹرجنرل مسٹرتشارمہتانے عدالت سے یہ بھی کہاتھا کہ اگلی سماعت پر اسٹیٹ کوآرڈی نیٹر مسٹرپرتیک ہزیلااس پر اپنی رپورٹ پیش کریں گے مگرآج جب مسٹرہزیلا نے تین سیل بند لفافوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کی تو عدالت نے اسے قبول نہیں کیا بحث کو غورسے سننے کہ بعد عدالت نے جہاں این آرسی کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کا اعلان کیا وہیں مرکز اورآسام کے دوبارہ تصدیق کے مطالبہ کو مستردکردیا۔
آج کی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ یہ جمعیۃعلماء ہند اور ہمارے وکلاء کی ایک بڑی کامیابی ہے، انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں ابتداہی سے این آرسی کے عمل میں رخنہ اندازی کرکے اور نت نئے شوشہ اٹھاکرہندوستانی شہریوں اورخاص کر مسلمانوں میں ڈراورخوف پیداکرناچاہ رہی ہیں حالانکہ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ آسام میں ایک بڑی تعدادغیر مسلموں کی ہے جن کے نام اب تک این آرسی میں شامل نہیں ہوسکے ہیں اورجمعیۃعلماء ہند ان کے لئے بھی مشترکہ طورپر قانونی جدوجہد کررہی ہے، مولانامدنی نے کہا کہ ہماراموقف بالکل صاف ہے کہ جوغیر ملکی ہیں ان کانام این آرسی میں نہیں آناچاہئے لیکن جو لوگ صدیوں سے یہاں آبادہیں انہیں حیلوں بہانوں اور نت نئی رخنہ اندازی سے این آرسی کی فہرست سے باہر کردینا اور غیر ملکی قراردیدیناسراسرغلط اورغیر قانونی ہے ملک کا آئین بھی اس کی اجازت نہیں دیتامگر افسوس کہ جب سے آسام میں این آرسی کی تیاری کا عمل شروع ہواہے نئے نئے ضابطوں اورطریقوں سے لوگوں کو ڈراورخوف میں مبتلارکھنے کی نہ صرف کوشش ہورہی ہے بلکہ حقیقی شہریوں کو بھی غیر ملکی ثابت کرنے کی منظم سازش بھی ہورہی ہے تازہ عرضی بھی اسی کی ایک کڑی تھی جس میں سرحدی اضلاع میں 20فیصداور باقی اضلاع میں 10فیصد ناموں کے دوبارہ تصدیق کا مطالبہ کیا گیا تھا ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے اصل مقصدتویہی تھا کہ جن لوگوں کانام این آرسی میں آچکاہے دوبارہ تصدیق کی آڑمیں انہیں پھرپریشان کیا جائے مگر اللہ کا شکرہے کہ اس میں انہیں منہ کی کھانی پڑی جمعیۃعلماء ہند کی بروقت مداخلت سے انہیں ناکامی کاسامناکرناپڑاہے، مولانامدنی نے آخرمیں کہاکہ اب یہ سلسلہ آسام تک ہی محدودنہیں رہے گابلکہ اب وہ این آرسی کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ایسے میں عدالت کایہ فیصلہ ایک نظیر بن کرہماری رہنمائی اورمعاونت کرے گا، اورکورٹ پر ہمارے اعتمادمیں اوربھی اضافہ ہواہے،قابل ذکر ہے کہ جمعیۃ علما ء آسام روز اول سے آسام شہریت معاملے میں پیش پیش ہے وہ اس کے لئے نہ صرف قانونی جدوجہد کرتی رہی ہے بلکہ زمینی سطح پر بھی اس کے رضاکار متأثرین کی ہر طرح سے مددر کررہے ہیں، آج بھی کمرہ عدالت میں جمعیۃعلماء آسام اور آمسوکے ذمہ داران موجودتھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest