اے ایم یو کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں دوروزہ قومی سیمینار کا افتتاحی اجلاس

دہشت گردی عالمی مسئلہ جس کے تدارک کے لئے سیرت نبوی کی روشنی میں رہنمائی کی ضرورت:پروفیسر طارق منصور
مسلم اقلیتوں کے لئے سب سے بڑا نمونہ رسول اکرمﷺ کی مکی زندگی ہے : پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز کے کانفرنس ہال میں منعقدہ قومی سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصورنے کہا کہ سیرت پاکﷺ کا ہرگوشہ ہمارے لئے آنکھوںکا سرمہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیمینار کے مقالہ نگاروں کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ معاصر مسائل میں سیرت پاک سے ہمیں کیا رہنما ئی ملتی ہے۔سیرت پاک پر روایتی اور کلاسیکی انداز میں ہندو اور مسلمان سیرت نگاروں نے زبردست کام کیا ہے اور وہ یقینا لائق تحسین ہے مگر آج کی بدلتی دنیا میں نئے مسائل اور نئے بحرانوں پر سیرت کی روشنی میں جدید انداز سے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے دہشت گردی کو عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے تدارک کے لئے سیرت نبوی کی روشنی میں رہنمائی کرنے پر زور دیا۔ حکومت کی مختلف فنڈنگ ایجنسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جدید موضوعات پر بحث وتحقیق کی ہرچہار جانب سے ہمت افزائی ہورہی ہے ۔ وائس چانسلرنے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی عظیم الشان لائبریری کی تعریف کی اور اس کو زیادہ مفید مطلب اور تحقیق کے لئے مؤثر بنانے کے سلسلے میں انتظامی وتعمیری منصوبوں کو بروئے کار لانے میں اپنے تعاون کا بھرپور یقین دلایا۔ پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی نے اپنے بنیادگزار خطبہ میں ان کرداروں کو پیش کیا جن کے ذریعہ مکہ اور مدینہ کی گلیوں میںرسول اکرمﷺ نے غیر مسلمین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انہوںنے کہا کہ تکثیری معاشرہ کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں عالمی امت مسلمہ کے لئے درس و نصیحت ہے، مکی زندگی میں مشرکین کے کام آنا، ان کے ساتھ کھانا کھانا، غم اور خوشی میں شریک ہونااور دست تعاون دراز کرنا وہ اعمال اور کردار ہیں جنہوں نے تبلیغ اسلام کے ضمن میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے دہشت گردی کے مقابلہ کے لئے رسول اللہ ؐ کی حکمت عملی کا بھرپور حوالہ دیا اور عدل وانصاف کی حصولیابی پر زور دیتے ہوئے نبوی معاشرت کو سنجیدگی سے اختیار کرنے کی تلقین کی ۔ناظم تعلیمات جامعۃ الفلاح اعظم گڈھ کے مولانا محمد طاہر مدنی نے کہا کہ سیرت پاک کے سارے نمونے کسی فرشتہ نے نہیں بلکہ ایک انسان ہی نے پیش کئے تھے اور وہ ہمارے لئے دلیل وحجت اور قابل عمل اسوہ ہیں۔انہوں نے پروفیسر محمد یسین مظہر صدیقی کی خدمات کو تاریخ ساز قرار دیا اور پروفیسر عبدالعلیم سابق صدرشعبہ اسلامیات ،پروفیسر ظفرالاسلام اصلاحی، ڈاکٹر اخلاق احمد ، ڈاکٹرطیبہ نسرین، ڈاکٹر عبیداللہ فہد اور ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی کی تحقیقات سیرت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ افتتاحی اجلاس کے اختتام پر شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے استاذ ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی، کنوینر سیمینار نے سامعین ، مقالہ نگاران اور مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر خدا کا شکر ادا کیا کہ شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے علم وتحقیق کی ایک دنیا آباد کی ہے۔ افتتاحی اجلاس کا آغاز ایم اے کے طالب علم حافظ مصباح کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram