امیر خسرو اور ہم آہنگی

مکرمی!مذہبی رواداری کی پہچان،ہندو۔مسلم یکجہتی،سماجی ہم آہنگی اورفرقہ وارانہ یکجہتی کی مثال امیر خسرو حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے شاگرد تھے۔(جن کا عرس امسال21جون کو منایا گیا)امیر خسرو بھائ چارہ کی ایک مثال ہیں۔وہ ہندوی کے بانی ہیں جو بعد میں ہندی زبان کے طور پر پلی بڑھی۔جو ایک بڑے پیمانے پر پورے ہندوستان میں بولی جاتی ہے۔بسنت پنچمی تہوار جو بین العقائد کی پہچان ہے،اس کی شروعات بھی امیر خسرو نے اپنے استاد حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی ہدایت پر کی تھی۔بسنت پنچمی تہوار اب بھی مختلف طبقے بالخصوص اولیاءؒ اور خسرو کے شاگردوں کیلئے یکجہتی کا پیغام لاتا ہے۔خسرو کی تعلیمات ہندوی اور اودھی نظم کی شکل میں ہیں ۔جو ہندوستان کی تکثیری روایت کی پہچان ہے۔امیر خسرو اتر پردیش کے ایٹہ میں 653 میں پیدا ہوئے۔خسرو ایک مذہبی شاعر تھے۔انہوں نے مرشدی(مذہبی ہدایات ) میں اپنے عقیدے کا اظہار کیا۔خسرو اپنے دوہا اور مثنوی کے ذریعہ مقبول ہوئے،جو صوفیزم کے وجود(وحدت الوجود) کا ذریعہ بنی۔یہ ویدانتا فلسفہ کی بالکل ضد ہے۔مثال کے طور پر اس کائنات میں جو بھی ہے وہ سب مختلف چیزوں سے ختم ہو جائے گا.دونوں میں سے بس ایک بچے گا۔
خوبصورتی بستر پر لیٹی ہے اور اس کے بال اس کے چہرے پر ہیں۔۔۔۔
خسرو،گھر جائو ہر طرف شام ہو چکی ہے۔۔۔(خسرو)
خسرو نے(صلح.کل)کا بھی نفاذ کیا۔جس کا مطلب یہ کہ خدا اس کو عزیز رکھتا ہے جو خود سے پیار کرتے ہیں اور انسانیت کا خیال رکھتے ہیں۔اور وہ جو خدا کی خاطر انسانیت سے محبت کرتے ہیں۔
میں تو اپنی محبت کی عبادت میں کافر ہوں۔میری ایک ایک نبض ایک تار کی طرح میرے اوپر طعنے کس رہی ہیں۔مجھے کسی نسل یا ہندو مسلم سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خسرو کی شاعری آج کے دور میں مزید اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کی شاعری ملک کی ہم آہنگی،بھائ چارہ ،رواداری اور آپسی پیارو محبت کیلئے بہت اہم ہے۔

محمد حزیفہ
نئ دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram