مسجد فتحپوری میں امانت اللہ خان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد

 

بورڈ چیئرمین امانت اللہ خان کا شاندار استقبال، کارناموں کے اعتراف میں سپاسنامہ پیش،مسجد فتحپوری کی اس کے شایان شان تزئین کاری کرائی جائے گی:امانت اللہ خان

اہم اعلانات
مدرسہ عالیہ فتح پوری کے طلباء کو ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ
مدرسہ کے طلباء کے لئے مطبخ کا قیام
مسجد فتح پوری کی تزئین کاری و مرمت کرائی جائے گی
مسجد طلباء کے لئے اسکل ٹریننگ سینٹر کے قیام کا اعلان
مدرسہ عالیہ فتحپوری کی تمام ضروریات کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کا اعلان
مسجد فتحپوری کی لائبریری میں قرآن میوزیم کے قیام کا اعلان

مدرسہ عالیہ مسجد فتحپوری کے اساتذہ و طلبہ نے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خاں ن کو ان کی قیادت میں دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ کرائے گئے تاریخی کاموں اور کارناموں کے اعتراف میں ایک شاندارتقریب کا انعقاد کرکے استقبالیہ دیا اور امانت اللہ خاں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں سپاسنامہ پیش کیا۔مدرسہ عالیہ مسجد فتحپوری کے اساتذہ نے دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ ان کے ماہانہ مشاہرہ میں قابل قدر اضافہ کرنے پر چیئرمین امانت اللہ خان کے استقبال میں آج 11بجے مسجد فتحپوری میں ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں مدرسہ کے اساتذہ وطلبہ کے علاوہ مساجد کے ائمہ حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر امانت اللہ خان نے اپنے اعزازمیں مدرسہ کے اساتذہ کے ذریعہ منعقد کی گئی استقبالیہ تقریب پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور مسجد فتحپوری اور مدرسہ عالیہ کی ترقی کے لئے کئی اہم اعلانات کئے۔امانت اللہ خان نے کہا کہ مجھے وقف بورڈ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تقریبا ایک سال ہوا ہے اور اس دوران وقف بورڈ کی کارکردگی سدھارنے کے لئے ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کام کو پیشہ وارانہ طریقہ سے کرنے اور تیزی لانے کے لئے سب سے پہلے استاف کی تقرری کی گئی اور آج الحمدللہ 160سے بھی زائد عملہ دہلی وقف بورڈ میں کام کر رہاہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل جب میں نے بورڈ کی ذمہ داری سنبھالی تھی اس وقت بھی وقف بورڈ کے کاموں کی انجام دہی کے لئے اسٹاف کی تقرری کی تھی مگر بورڈ پر بری نظر رکھنے والے لوگوں نے مجھ پر مقدمہ کردیا اور سی بی آئی انکوائری کرادی اور اب بورڈ کی جائداد کے صحیح انتظام کے لئے میں نے پھر اسٹاف کی تقرری کی ہے،امانت اللہ خان نے کہاکہ دہلی وقف بورڈ کا ایکٹ ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے اور یہ ایک خود مختار ادارہ ہے جہاں اگر محنت اور ایمانداری سے کام کیا جائے تو نہ صرف بورڈ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے گا بلکہ دہلی کے مسلمان اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں گے جو مخالفین بالکل نہیں چاہتے،امانت اللہ نے کانگریس پارٹی پر طنز کرتے ہوئے کہ مسلمانوں کو برباد کرنے اور ان کی اقتسادیات کو تباہ کرنے میں کانگریس نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور ہندوستانی مسلمانوں کو تحفہ کی صورت میں 48ہزار فسادات دئے اور آج پورے ملک میں بڑی تعداد میں وقف جائدادوں پر یا تو غیر قانونی قبضہ ہے یا ان جائداد کا صحیح انتظام نہیں ہورہاہے۔انہوں نے مزید کہاکہ ہماری اسی محنت اور ایمانداری سے کام کرنے کا نتیجہ ہے کہ آج دہلی وقف بورڈ کے پاس اپنی خود کی آمدنی ماشاء اللہ کروڑوں میں ہے اور بورڈ کے پاس پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ امانت اللہ نے دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ حالیہ دنوں میں کئے گئے کاموں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج بورڈ جسکی ماہانہ آمدنی صرف ساڑھے تین لاکھ روپئے تھی وہ ائمہ اور مؤذنین اور اسٹاف کی تنخواہ کی مد میں 3کروڑ سے زائد رقم جاری کرتا ہے اور ضرورتمندوں کے علاج،غریب طلبہ کی فیس،بیواؤں کو وظیفہ کی ادائگی اور حاجت مندوں کو بروقت مالی تعاون کی مد میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپیہ کی ادائگی کرتاہے جس کے لئے مذہب کی کوئی قید نہیں ہے اور ہندو مسلم سبھی دہلی وقف بورڈ سے آج مستفید ہورہے ہیں۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اس موقع پر مدرسہ عالیہ اور مسجد فتحپوری کی ترقی کے لئے کئی اہم اعلانات بھی کئے۔انہوں نے مدرسہ عالیہ کے طلبہ کا ماہانہ وظیفہ 500روپیہ سے بڑھاکر ایک ہزار کرنے کا اعلان کیا اس کے علاوہ طلبہ کے لئے وقف بورڈ کی جانب سے مطبخ کا قیام،مدرسہ میں اساتذہ کی کمی دور کرنے اور تاریخی مسجد فتحپوری کی مرمت و تزئین کاری کرانے کا بھی اعلان کیا،انہوں نے کہاکہ مسجد فتحپوری ایک تاریخی مسجد ہے جس میں اس کے شایان شان تزئین کاری کرائی جائے گی خواہ اس کے لئے کروڑوں روپیہ خرچ ہو اس کی فکر نہیں کی جائے گی سارا پیسہ دہلی وقف بورڈ برداشت کرے گا۔امانت اللہ خان نے مسجد فتحپوری کے شاہی امام مفتی مکرم احمد سے خصوصی ملاقات میں مسجد کی لائبریری میں ایک قرآن میوزیم بنانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا جس پر امام صاحب نے پسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ بہت اچھا قدم ہوگا۔اس سے قبل تلاوت کلام اللہ سے تقریب کا انعقاد عمل میں آیا اور امانت اللہ خان کی خدمت میں گلدستہ اور سپاسنامہ پیش کرکے ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔اس موقع پر مدرسہ عالیہ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram