یہ بھی شایدایک صورت ہے خداکے قہرکی

’چڑھتے سورج کوسلام،اور’ہرکمالے رازاولے،اردوزبان وادب کے ان دومحاروں کا اگر کسی طالب علم کومطلب وتشریح سمجھنا ہوتواس کو ہندنژادانگریزی زبان کے سینئرمسلم صحافی جن کاثانی انگریزی صحافت میںکوئی دوسرامسلمان نہیں یعنی ایم جے اکبر کویادکرناچاہیئے۔ یہ وہی جناب ایم جے اکبرہیں کہ سابق وزیراعظم وکانگریس صدرمسٹرراجیوگاندھی کے عہدحکومت میں جب شاہ بانوکیس میں مسلم پرسنل لاء اورہندوستانی مسلمانوں کے خلاف طلاق دینے والے شوہرپر طلاق شدہ عورت کے لئے سپریم کورٹ آف انڈیانے تاعمرگذارہ بھّتہ دینے کافیصلہ تھوپاتوبھائی ایم جے اکبر کی گرفت راجیوگاندھی کے درباراتنی مضبوط تھی، کہ انھوںنے براہ راست راجیوکی آنکھیں کھولنے کے لئے فرمایاسر! سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے ہندوستان کامسلمان اتناناراض ہے کہ آپ کی حکومت کی چولیں ہل جائیں گی لہٰذا کسی طرح بھی ا س فیصلہ کے نفاذکوٹالئے ۔ راجیوگاندھی نے ان کی اس بات کا اتنااثرلیاکہ فوراََپارلیمنٹ ہاؤس میں ایک نیابل پیش کیااور تعزیرات ہند کی مذکورہ دفعہ جس کے تحت مطلقہ کوبھتہ دینے کافیصلہ عدالت نے دیاتھا، کانگریس کی اکثریت کی بناپرپارلیمنٹ میںترمیم کرکے عدالت عالیہ کے فیصلہ کوکالعدم کردیا۔
مگرمحترم ایم جے اکبرچونکہ حکومتوں کے بڑے قریب رہنے کے مکمل تجربہ کارہیں،اقتدار کامکھن اورملائی ان کے منھ لگ چکاتھا،حکومت وقت کے درپرجبہ سائی ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی اس لئے سیکولرازم کی وہ چادر جوکہ ان کے نزدیک بوسیدہ ہوچکی تھی انھوںنے اس کوپھینک کرمودی جی کے قیمتی وستروںمیں کی ایک نفیس شال اپنے کاندھے پرڈال لی، جس سے ان کونہ صرف بی جے پی اور مودی حکومت میں رس میسرہوئی بلکہ ایک عددوزارت بھی ہاتھ آ گئی،جس کے نشہ میں وہ اپنی تمام ان تحریروںکو بھول بیٹھے جوانھوں نے وطنی محبت ،قومی ہمدردی اوربابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستانی آئین کے ٹوٹنے ہی پرنہیں بلکہ بھارت کے سیکولرازم کی تباہی او رملک میں امت رمسلمہ بربادی پر قلم کی روشانئی نہیں بلکہ اپنے خون جگرسے تحریرکی تھیں، یہی ہے چڑھتے سورج کوسلام کامطلب۔
اب آجائیے دوسرے محاورے’’ہرکمالے رازوالے، کی طرف ،تویہ جناب ایم جے اکبر کے عروج اورکمال کاوقت تھا ، اب شروع ہوا ئی ان کے زوال کی کہانی، یادکیجئے مسٹرراجیوگاندھی ہی کے ایک کابینی وزیر جناب عارف محمدخاں ، کے عروج کا وقت اور راجیوگاندھی کے دربارمیں ان کی رسائی کہ جب مذکورہ شاہ بانوکیس میں راجیوگاندھی حکومت کاموقف مطلقہ کوبھتہ دلانے کاتھاتو پارلیمنٹ میں مسٹرراجیوگاندھی نے اپنے خیالات کی نمائندگی کے لئے عارف خان صاحب بھی کواسی طرح چناتھا جس طرح موجودہ وزیراعظم مسٹرمودی نے ایم جے اکبرکومسلم پرسنل لاء بورڈ ، تین طلاق،اورشریعت مخالف بل کی حمایت کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس میں کھڑاکیااوراپنے من کی بات کی بندوق اسلام اورمسلمانوںکے خلاف ایک مسلمان ہی سے چلوائی۔اسی طرح عارف صاحب نے باقاعدہ اخبارت میں مضمون لکھ لکھ کرحکومت کے موقف کی تائید ہی نہیں جم کر علمائے حقّہ کی توہین وتذلیل بھی تھی، کیونکہ اہل اقتدارواہل زراسلام مخالفین کوہماری قوم میں بہت سارے میرصادق ،میرجعفر اورعبدالکریم چھاگلہ بھی بروقت مل جاتے ہیں، جن کو ایک چھوٹاسالالی پاپ تھماکروہ اپنابڑے سے بڑامقصد حل کرلیتے آئے ہیں۔جوکام عارف محمدخان سے راجیوگاندھی حکومت نے لیاتھا گذشتہ دنوں یہی کام طلاق بِل پروزیراعظم نریندرمودی حکومت نے بھی ایم جے اکبرسے لیااوربقول اقبال اشہرؔ ’ہماری صفوںمیں اب بھی شامل ہیں/چراغ بجھتے ہی خیمہ بدلنے والے لوگ۔
یعنی مسلم شریعۃ اورقرآن کی مشہورومعتبرتفاسیر کے خلاف جناب ایم جے اکبر نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں مودی جی اوران کی حکومت کی اسی طرح چرب زبانی اورڈھٹائی کے ساتھ وکالت کی جس طرح کسی وقت عارف خان صاحب نے کی تھی، جس میں اکبر نے مسلم علما اور شریعت کے خلاف خوب جملہ بازیاں بھی کیں اورحکومت کے مزاج کے مطابق انھوں نے شریعہ مخالفت میں ملک کے موجودہ حالات کوبھی مسلم کش نہ مان کر غیروںکی نظرمیں عام مسلمانوں، مسلم لیڈروں اورعلمائے اسلام سبھی کوایک ساتھ جھوٹااوردروغ گوٹھہرایا ۔
مگراب جب ہمارے محترم ایم جے اکبر پر’# Me To،کاالزام آیااورایک نہیں ملک کی /26عورتوں نے جن میں ایک مسلم بھی شامل ہے،ان پرجنسی مظالم، چھیڑچھاڑ،بدسلوکی ، فحش پیغامات، اشارات وکنایات میں یابراہ راست الزام عائد کئے توبڑی ڈھٹائی سے ان کونکارتے اوراپنے اِڑیل رویّے پرقائم رہے مگرشایدحکومت نے کو الیکشنی ماحول کے پیش نظرخودکواس اسکینڈل سے دوررکھنے ہی میں عافیت سمجھی اس لئے ان سے استعفیٰ لیکربلاتاخیرمنظور کرلیاگیا اوران کو کابینہ سے باہرکاراستہ دکھادیا جس پروہ عدالت کورعب میں لینے کے لئے ایک دونہیں 97وکیلوںکی فوج یعنی ’رام کی بارات،کورٹ، میں لے کرجادھمکے مگرعدالت نے ان کی ایک نہ مانی اوران کے خلاف مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھادی، یہی ہے دوسرے محاور ے کا ملطب۔
اوراب آجائیے اس طرف بھی کہ جب دودھ جیسی نعمت انسانوں کے کام نہیں آتی تووہ بھی خراب ہوکر نالی کی گندگی کاایک حصہ بنجاتی ہے ،خاکم بدہن ، ہوناتویہ چاہیئے تھا کہ آج جس وقت انگلش جرنل ازم کے میدان میںمسلمانوںکی کوئی آوازنہیں جس کی وجہ سے ان کی آواز حکومت، پارلیمنٹ ہاؤس ورایوانوںتک نہیں پہنچ پاتی اگرموصوف بھی اپنی خدادصلاحیتوں کی دولت کامنھ اپنی قوم پرکھولدیتے توشاید دنیامیں بھی سرخ روئی حاصل ہوتی اورخداکے یہاں کے اجرعظیم کی توکئی گنتی ہے اورنہ ہی تحدید وانتہاء ۔
مگربقول استاذمحترم اعجازؔ وارثی سنبھلی
؎ یہ بھی شاید ایک صورت ہے خداکے قہرکی۔
مضمون نگار مولاناآزادایجوکیشنل اینڈمیڈیکل آرگنائزیشن کے جنرل سکریٹری، رسالہ ’دعوت وتبلیغ، دہلی، کے چیف ایڈیٹرہیں
dawat.tableegh@yahoo.in
9891562005

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest