تمام بزم جسے سن كے ره گئى مشتاق

فیروز عالم ندوی
معاون اڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی
سن 2019 کی ابتدا کچھ یوں ہوئی کہ ندوہ کا ایک عظیم فرزند، مادر علمی کا وفا شعار خادم و محسن اور کئی نسلوں کا جلیل القدر معلم و مربی مولانا واضح رشید ندوی اس دار فانی سے رخصت ہو گئے ۔ اپنے پیچھے ہزاروں محبین و معتقدین کو روتا بلکتا اور کف افسوس ملتا چھوڑ گئے ۔ ان میں طلبہ بھی ہیں معلمین اور اساتذہ بھی، ملت کے مخلص درد آشنا علماء و صلحاء بھی ہیں اور فکر و ادب کے شناور صحافی اور دانشور بھی ۔ زہد و توکل ایمان و یقین کی مکمل تصویر، تواضع خاکساری الفت و محبت صدق و وفا اور تمام اعلی اسلامی قدروں کا پیکر جمیل ہمیں داغ مفارقت دے گیا ۔
البعث الاسلامی میں آپ کے لیے ایک کالم مختص تھا، اسی طرح تعمیر حیات میں مشترکہ اداریہ تسلسل کے ساتھ آتا رہتا تھا، آپ اپنے مضامین میں عالم اسلام کے سیاسی اور معاشرتی مسائل کو بڑے انوکھے انداز میں اٹھایا کرتے تھے۔ ایک خاص انداز میں متعلقہ مسئلہ کو پیش کرتے اور بڑی ہی باریکیوں کے ساتھ اس کی گرہوں کو کھولتے، کڑی سے کڑی ملتی چلی جاتی اور یوں ایک مسئلے کی مکمل تصویر بن کر آپ کے سامنے آجاتی، مسئلے کی تہہ تک پہنچنا آسان ہوجاتا اور اس کے تمام خدوخال واضح ہو جاتے۔ عالم اسلام میں وقوع پذیر ہورہے واقعات اور نشیب و فراز پر آپ کی بڑی گہری نظر تھی، ان سے متعلق آپ کے تحلیل و تجزیے بڑے ہی واقعی اور حتمی ہوا کرتے تھے۔
1973 عیسوی میں آپ دارالعلوم ندوۃ العلوم ندوۃ العلماء درس و تدریس کے لئے تشریف لائے اور آخری وقت تک اسی فریضہ میں مشغول رہے۔ آپ کے آتے ہی علمی و ادبی مجالس کا لطف دوبالا ہو گیا۔ آپ پندرہ روزہ الرائد کے ایڈیٹر بنائے گئے اور البعث الاسلامی میں بھی شریک ادارت رہے۔ حالات حاضرہ پر آپ کے مضامین بڑے ہی مدلل اور تجزیاتی ہوا کرتے تھے۔ اردو، عربی اور انگریزی تینوں زبانوں میں آپ کو یکساں مہارت حاصل تھی، اور اسی وجہ سے ان زبانوں کی صحافت پر آپ کی نگاہ بڑی گہری تھی۔ عالمی حالات پر آپ کا مطالعہ بہت ہی وسیع تھا۔ فکری موضوعات پر آپ کی متعدد کتابیں ہیں، آپ درجنوں کتاب کے مصنف تھے۔ یورپ کی فکری ساخت اور تعلیمی نظریات پر گہری نگاہ تھی، اس کے عروج و زوال کا بھرپور مطالعہ تھا جو آپ کی تحریروں میں بالکل نمایاں تھی۔ جب کسی مسئلہ پر لکھتے تو اس کے مالہ وماعلیہ کو پیشِ نظر رکھتے اور اس کا پورا پورا حق ادا کردیتے۔ آپ قلم کے مجاہد تھے۔ ایک طویل عرصہ تک آپ نے اس کے ذریعہ فریضہ جہاد کو انجام دیا ، باطل کے ایوانوں کو کھل کر للکارا ۔ آپ کبھی بھی مداہنت اور دوہرے معیار کا شکار نہیں ہوئے۔
جب آپ نے ندوۃ العلماء کے معتمد تعلیمات کا عہدہ سنبھالا تو اپنی تنخواہ سے بھی دستبردار ہو گئے اور رضائے الٰہی کے ساتھ اس خدمت کو انجام دیتے رہے۔ دارالعلوم کے تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے آپ کے مشورے انتہائی مفید اور صائب ہوا کرتے تھے۔ آپ کے ذہن و دماغ پر افراد سازی کے جذبے کا غلبہ تھا، نتیجتا آپ نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ کو تعمیری تدریسی طریقہ پر ابھارا۔ صاحب طرز ادیب و انشاء پرداز ہونے کی حیثیت سے سیکڑوں ادیب اور انشا پرداز پیدا کیئے، انہیں قلم پکڑنا سکھایا، انہیں فکر کو آراستہ کرنے کا ہنر سکھا یا، انھیں یہ بتایا کہ خیالات کے گیسو کیسے سنوارے جاتے ہیں۔
آپ کے وفات سے نہ صرف یہ کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں بلکہ پورے عالم میں اسلام کے علمی حلقہ میں ایک خلا پیدا ہو گیا ، ندوہ اپنے ایک علمی محسن سے محروم ہو گیا۔ آپ اس دار فانی کو الوداع کہہ کر چلے گئے مگر اپنے پیچھے اپنی تصانیف، اپنے گراں قدر مضامین اور اپنے شاگردوں کی اتنی بڑی تعداد کو چھوڑ گئے ہیں کہ دنیا ایک طویل عرصے تک بھلا نہ پائے گی۔
كوئى نالاں، كوئى گرياں،  كوئى بسمل ہوگيا
اس كے اٹهتے ہى  دگر گوں رنگ محفل ہوگيا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram