پروفیسر عاصم صدیقی نے بردوان یونیورسٹی میں کئی موضوعات پر خطبات دئے

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ انگریزی کے پروفیسر محمد عاصم صدیقی نے مغربی بنگال کی بردوان یونیورسٹی کی خصوصی دعوت پروہاں کئی خطبات دئے اور بین الاقوامی کانفرنس میں کلیدی خطبہ پیش کیا۔ بردوان یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی و ثقافتی مطالعات کے زیر اہتمام پروفیسر عاصم صدیقی نے دو اہم موضوعات ’’انگریزی تراجم میں سعادت حسن منٹو‘‘ اور ’’سرسید احمد خاں، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور مسلمانوں میں جدید شعور کی بیداری‘‘ پر خطبات دئے ۔ سامعین میں اساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ’اردو میں باباصاحب امبیڈکر‘، ’شیکسپیئر کس نے لکھی؟‘، ’ناول کیسے پڑھیں‘ اور ’ریسرچ اسکالروں کے لئے لکھنے کا ہنر‘ موضوعات پر بھی اظہار خیال کیا۔ پروفیسر صدیقی نے ’بے وطنی‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی اور کلیدی خطبہ پیش کیا۔ کانفرنس میں متعدد دانشوروں اور اسکالروں نے پرمغز خطابات کئے، جس میں پروفیسر نندنی بھٹاچاریہ، پروفیسر پال شراڈ، پروفیسر سجا کمار بھٹاچاریہ، ڈاکٹر رتوپرنا رائے، ڈاکٹر ارپتا چٹرجی، ڈاکٹر اینوے مکھوپادھیائے اور ڈاکٹر ارنب کمار سنہا شامل تھے۔ کئی مقالات میں سرحد اور بے وطنی کے سلسلہ میں ہنّا ارینٹ کے تنقیدی افکار اور بااختیار رہنے کے حق پران کے زور پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دنیا میں پناہ گزینوں کا بڑھتا ہوا بحران، آسٹریلیا میں قیدیوں کی حالت اور سندربن میں ماحولیات کو ہونے والے نقصان پر بھی اظہار خیا ل کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest