ممبئی پر ولیوں کا سایہ ،حاجی علی،مخدوم شاہ ،شیخ مصری ،سمیت لاتعداداللہ والے آرام فرما ۔

جاوید جمال الدین
جنوبی ممبئی میں بڑی مسلم آبادی کے بعد جنوب وسطی اور شمال وسطی ممبئی میں متعدد ایسے علاقے واقع ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے ،لیکن یہاں اس بات کو بھی پیش کردیں کہ عروس البلاد کے بارے میں عام طورپر کہا جاتا ہے کہ یہاں ولیوں کا سایہ رہا ہے ،بحرعرب میں واقع مشہور حاجی علی باباؒکے مزار سے انکم ٹیکس صدردفتر کے احاطہ میں حضرت بہاؤالدین شاہ باباؒکا مزار،ماہم کے ساحل پر واقع حضرت مخدوم شاہ باباؒاور ڈونگری کے حضرت عبدالرحمن شاہ بابا ؒاور حضرت شیخ مصری ؒسمیت لاتعداد اللہ والے شہر کے مختلف علاقوںمیں آرام فرما رہے ہیں جبکہ مذکورہ ولی اللہ کے آستانوں پر سال کے بارہ مہینے جم غفیر رہتا ہے ،بحرعرب میں ساحل سے کچھ فاصلہ پر واقع حاجی علیؒ کے مزار پر ویسے تو ہمیشہ بھیڑرہتی ہے ،لیکن جمعرات اور اتوار کو یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے جبکہ عیدالفطر کے دوسرے روز جسے عام طورپر’باسی عید‘کہا جاتا ہے ،لاکھوں کی تعداد میں زائرین یہاں آتے ہیں اور انتظامیہ کو خصوصی بسوںاور حفاظتی انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔اس شاہراہ پر تقریباً7کلومیٹر کے فاصلہ پر ماہم میں حضرت مخدوم مہائمی فقی کا مزارلب سڑک واقع ہے،ان دونوں مزار کی دیکھ بھال کی ذمہ داری محمد سہیل کھنڈوانی اپنے معاوئین کے ہمراہ بخوبی نبھارہے ہیں کیونکہ عبدالستارمرچنٹ ضیعف العمری کی وجہ سے سرگرم نہیں رہے ہیں۔
ان دونوں مقامات پر ماہ صیام میں نمازعشاءاور تراویح کے بعد زائرین کے آنے کا سلسلہ رات بھر جاری رہتا ہے ،البتہ حاجی علیؒ درگاہ پر جانے کے لیے مدوجزر کے سبب اوقات مقررکیے گئے ہیں۔یہاں مذہب وملت بلاتفریق زیارت کے لیے آتے ہیں اور کسی طرح کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ان درگاہوں کی چندے کے طورپر جمع ہونے والے فنڈ سے ضرورت مندمسلمانوں کو تعلیمی،طبّی ضروریات کے تحت مالی مدد کی جاتی ہے ۔
ماہم میں واقع حضرت مخدوم شاہ ؒ کا کتابت کردہ قرآن شریف کے نایاب نسخہ کی ماہ رمضان کی 27ویں شب (شب قدر) پر عام لوگوںکو زیارت کرائی جاتی ہے اور اس موقع پر ہزاروں افراد یہیں عبادت کرتے ہیں اور قرآن کی زیارت کرتے ہیں۔حضرت مخدوم ؒ نے علم فقہ پر متعدد کتابیں تحریر کی ہیں اور ان کتابت کردہ قرآن شریف ایک نایاب تحفہ ہے۔مزارٹرسٹ چیئرمین محمد سہیل کھنڈوانی نے اپنی سربراہی میں اس فنڈ کے استعمال کا طریقہ کار ہی بدل دیا ہے جس سے قوم کے حاجت مند اور ضرورت مند افراد فیض اٹھارہے ،ماہ رمضان میں درگاہ اور متصل مسجدکے دروازے رات بھر عبادت گزاروںاور زائرین کے لیے کھلے رہتے ہیں،مزار کے احاطہ میں ایک کتب خانہ اور این جی او وغیرہ کے تعاون سے مسلم بچوںکے لیے کمپیوٹر کلاسیس کا اہتمام بھی کیا گیاہے ۔ماہم کی آبادی کوکنی اور میمن مسلم برادری پر مشتمل ہے ،موجودہ چیئرمین سہیل کھنڈوانی کے چچا امین کھنڈوانی نے سرگرم سیاست میں حصہ لیا اور کانگریس کے ٹکٹ پر عمرکھاڑی حلقہ سے مہاراشٹر اسمبلی سے کا نگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ،اس سے قبل وہ میونسپل کارپوریشن میں اسٹنڈنگ کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ،لیکن 1970کی دہائی میں یکساں سول کوڈ اور وندے ماترم کی مہم کی بھینٹ چڑھ گئے حالانکہ 2000میں کانگریس ۔این سی پی سرکارنے انہیں ریاستی اقلیتی کمیشن کا چیئرمین مقررکیا تھا اور ان کی کوششوں سے کمیشن کو قانونی حیثیت بھی حاصل ہوگئی،اس اختیارکو بعد میں بی جے پی ۔شیوسینا ختم کردیا۔مشہور قانون داں اور راجیہ سبھا میں این سی پی کے ممبرایڈوکیٹ مجید میمن اور اقبال گایا بھی یہیں سے تعلق رکھتے ہیں،مجید میمن باندرہ منتقل ہوگئے ہیں ،ماہم جزیرہ نماءممبئی کا وہ علاقہ ہے ،جہاں سے کھاڑی پار مضافات کی شروعات ہوجاتی ہے۔اور پہلا مقام باندرہ واقع ہے ۔ماہم میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے ،حالانکہ چند غریب بستیاں بھی اطراف میں واقع ہیں ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہاں کے لوگ خیراتی کاموںمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیے ہیں اور ماہ رمضان میں اس میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ماہم پولیس اسٹیشن کی جانب سے حضرت مخدوم مہائمی کے عرس کے موقع پر پہلا صندل پیش کیا جاتا ہے اور یہ رواج کئی سوسال سے جاری ہے۔
ماہم اسٹیشن کے مشرق میں ایشیاءکی سب سے بڑی جھوپڑا بستی دھاراوی واقع ہے ،جوکہ ایک ملی جلی آبادی ہے ،لیکن مسلمان بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں، اب بھی بڑے پیمانے پر کام کی ضرورت ہے ،ملی جلی اس آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے جبکہ جنوبی ہنداور ماہی گیروں(کولیوں) کی بڑی تعداد بستی ہے ،دلتوں کی آبادی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے ،یہاں سے مسلم کارپوریٹر ببوخان کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں،جوکہ ممبئی کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین بھی ہیں،جبکہ ایم ایل اے ورشا گائیکواڑ ہیں ۔دھاراوی کی شکل بدلنے میں مقامی کارپوریٹر ببوخان عرصہ سے سرگرم رہے ہیں۔اس گنجان آبادی میں سے 60فٹ اور 90فٹ دوشاہراہیں نکلتی ہیں جوکہ سائن اور ماہم ۔باندرہ لنک روڈ پر نکلی ہیں۔ماہ رمضان میں دھاراوی جامع مسجد اسٹیشن روڈ اور 90فٹ روڈ پر چلنا مشکل ہوتا ہے ،کیونکہ نماز ظہر کے بعد سے خوانچے والے فٹ پاتھ اور سڑک پر اپنی دکانیں سجا لیتے ہیں،دھاراوی گھریلوصنعت کے لیے مشہور ہے ،روزمرہ کی اشیاءکے ساتھ ساتھ چمڑے کے پرس اور ریڈی میڈکپڑوں کے لاتعداد کارخانے ہیں اور ان کارخانوں میں مزدورزندگی گزاردیتے ہیں جن کا تعلق شمالی ہند اترپردیش اور بہارسے ہے ،اور آخری عشرے میں عید سے چند روزقبل یہ لوگ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ عید منانے آبائی وطن روانہ ہوجاتے ہیں۔دھاراوی میں قومی ہم آہنگی کی مثال دی جاسکتی ہے ،لیکن کبھی کبھی سحری میں اعلانات کرنے پر مسئلہ پیدا ہوتا ہے ،جس کا حل بھی مقامی شہریوں نے پولیس مددسے نکال لیاہے ،البتہ پنچ وقتہ نماز کے لیے اذان پر کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا ہے اور نہ نماز جمعہ اور عیدین پر سڑکوں پر نماز کی ادائیگی پر کوئی ناراضگی ہوئی ہے۔ماہ رمضان میں مقامی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے افطار پارٹیوں کا انعقاد کیا جاتاہے اور سبھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔دھاراوی کو چھوٹا ہندوستان بھی کہا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram