اعترافِ محبت

رمّانہ تبسم،پٹنہ سٹی
رابطہ۔9973889970

۔صبح سے دل بیقرار تھا ۔بیقراری کے عالم میں الجھی الجھی قدموں سے چلتی ہوئی ساحل کے کنارے پر آکر بیٹھ گئی اوراس کی نظریں سمندر کی لہروں پر جاکر مرکوز ہوگئیں۔اس وقت سمندر کا پانی پہاڑوں سے ٹکراتا ہوا زور سے گر رہا تھا ۔وہ خاموش بیٹھی غروب ہوتے ہوئے سورج کے بنفشی لالی کو دیکھ رہی تھی ۔جو سمندر کی گہرائیوں میں دھیرے دھیرے اپنا رنگ گھولتا جا رہا تھا اور چند ہی لمحوں میں دیکھتے ہی دیکھتے سارا کا سارا پانی لال ہو گیااور افق میں شوخ رنگوں کے لہرئے نظر آنے لگے۔شفق کی لالی اس کے چہرے پر پڑنے سے معلوم پر رہا تھا کہ اس کے چہرے پر رنگ بسنتی کی اوڑھنی اڑھا دی ہو۔ساحل پربندھی ہوئی کشتیاں ایک دوسرے سے ٹکڑا رہی تھیں ،تمام ملاح غائب تھے اور ننھے منے پرندے اپنے اپنے آشیانوں کی طرف پرواز کر رہے تھے۔
’’ہیلو شازین۔۔۔۔۔!‘‘
تبھی شیراک کی آواز سمندر کی لہروں سے ٹکڑاتی ہوئی دور سے ابھری مگر اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئی اور خاموش بیٹھی مڑمڑی انگلی سے ریت پر لکیروں کا جال بنتی رہی۔شیراک اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر مایوسی،پریشانی اور ملال کے آثار دیکھا تو اس کے لئے تڑپ اٹھا ۔۔۔۔۔امریکہ سے آئی تھی تو اس کا زیر لب تبسم سے کبھی خالی نہیں رہتا تھا لیکن یہاں آکر بالکل گم سم رہنے لگی تھی ۔اس کی اداسی کی وجہ وہ جانتا تھا کیوں کہ جب سے وہ امریکہ سے آئی تھی نصرت پھوپھی اور آشتی دونوں ماں بیٹی اسے دیکھ کر زہر اگلتی رہتی تھیں۔
نصرت بیگم اپنے چھ بھائی میں سب سے بڑی تھی اور سبھی ان کی عزت کیا کرتے تھے۔نصرت بیگم شادی کر کے ایک بار سسرال گئی اس کے بعد میکے آئی تو دوبارہ سسرال میں قدم نہیں رکھا ۔ شوہر کو لے کر میکے میں بس گئی اور اپنے مفاد کے لئے ایک بھائی کے سامنے دوسرے بھائی کے خلاف کان بھرتی رہتی اور ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھائیوںکے بیچ نفرت کی لکیر کھینچ دی۔جس سے گھر کا ماحول درہم برہم ہو گیا تھا ۔گھر کے ماحول سے تنگ آکر شجاع جو بھائی میں سب سے چھوٹے تھے ایم۔ڈی کرنے کے لئے امریکہ گئے تو وہاں اپنی کلاس فیلو نیلوفر سے شادی کرلی ۔شجاع شادی کے بعد نیلوفر کو لے کر گھر آئے تو نصرت بیگم نے انہیں خوب زہر خند جملوں سے نوازا۔ ان کی ایک ایک بات شجاع نے پیوست کر لیا اور جب امریکہ گئے تو صرف بہن کی وجہ کر دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے ۔بھائیوں سے کبھی کبھی فون پر بات ہو جاتی تھی ۔بڑے بھائی نے کافی ذور دیا کے وہ واپس آئے لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔
ایک روز امریکہ سے دل دہلا دینے والی خبر آئی کہ شجاع اور نیلوفر کی ناگہانی حادثہ میں موت ہو گئی اور بیٹی شازین جو شدید طور پر زخمی ہے بچ گئی ہے۔یہ خبر سن کر نصرت بیگم کو چھوڑ کر سبھی کی آنکھوں سے جھڑ جھڑآنسوبہنے لگے اورجب خون نے اپنا جوش مارا تو شجاع کی آخری نشانی کو گھر لانے کے لئے تڑپ اٹھے لیکن نصرت بیگم نے سختی سے منع کر دیا۔
’’کوئی ضرورت نہیں شجاع میاں کی بیٹی کو یہاں لانے کی ۔۔۔۔۔بھائی کے مرنے کے بعد تم لوگوں کو بہت پیار آرہا ہے اس کی بیٹی پر یہاں سے گیا تولوٹ کر واپس نہیں آیااور نہ اس کی بیوی نے کبھی فون کیا ہم لوگ کیوں ان کی بیٹی کو اپنائیںوالدین کی غلطی کی سزا بچے کو ملتی ہے۔‘‘
ایسے ماحول میں فراز جو بھائی میں سب سے بڑے تھے بہن کی سنگ دلی پر مضطرب ہو کر بول پڑے۔
’’نصرت آپا !ٓپ اتنی سنگ دل کیوں ہیں اور آخرت میں بابا جان کو کیا جواب دیں گی۔۔۔۔۔آپ سب سے بڑی تھیں اس لئے بابا جان نے آپ کو وصیت کی تھی کہ اپنے سے چھوٹے کا خیال رکھنا لیکن آپ نے خیال رکھنے کے بجائے ایک دوسرے میں خلیج پیدا کر دی لیکن پھر بھی شجاع ہمارے دل سے نہیں نکلا۔‘‘
فراز میاں!شاید آپ بھول رہے ہیں شجاع میاں نے ہمارے خاندان کے وقار کو مجروح کیا ہے۔‘‘نصرت بیگم نے تیش میں آکر کہا۔
’’نہیں آپا! اس نے خاندان کے وقار کو مجروح نہیں کیا بلکہ آپ کے سخت رویہ کی وجہ کر اس نے ایسا قدم اٹھایا اور آج وہ اس دنیا فانی سے رخصت گیا لیکن پھر بھی آپ کا دل اس کے لئے نہیں پسیجا۔۔۔۔۔کاش ایسے ماحول میں آپ شجاع کی بیٹی کے بارے میں سوچتیں۔
’’میں تم لوگوں کی دشمن ہوں۔۔۔۔۔اپنا سسرال چھوڑ کر میکے میں بس گئی ۔۔۔۔۔تم لوگوں کی محبت میں۔‘‘نصرت بیگم نے گلوگیر آواز میں کہا۔لیکن اس بار نصرت بیگم کی بات کسی نے نہ سنی اور شازین کو جاکر اپنے ساتھ لے آئے ۔شازین یہاں آئی تو کافی بڑا خاندان تھا۔بہت سارے کزن بھائی بہن تھے اور صرف نصرت بیگم اور آشتی کے علاوہ سبھی لوگ اس کے لئے اپنے پہلو میں شفقت بھرا دل رکھتے تھے۔اس لئے نصرت بیگم اور آشتی کی بے رخی کو نظر انداز کر سب کے ساتھ بہت جلدایڈجسٹ کر گئی۔
شیراک جو فراز کا اکلوتا بیٹا تھا اپنی اس موہنی صورت اور جھیل سی آنکھوں والی کزن کو دیکھا تو پہلی ہی نظر میں اس کے دل کے نہاں خانے میں اتر گئی کیونکہ امریکہ جیسے ماحول میں اتنا عرصہ رہنے کے باوجود اس میں مغربی خدوخال بالکل نہیں تھا دیکھنے میں سیدھی سادھی ہندوستانی لڑکی لگتی تھی۔جب نصرت بیگم اور آشتی نے شیراک کا جھکائو اس کی طرف دیکھا تو دونوں ماں بیٹی کے دل میںشکوک پیدا ہونے لگا۔کیوں کہ شیراک اپنے والدین کی ساری جائیداد کا اکیلاوارث تھا۔ دونوں ماں بیٹی کی نظر شیراک سے ذیادہ اس کی جائیداد پر لگی ہوئی تھی اور ایک دن نصرت بیگم اور آشتی نے اسے اکیلا پاکر گرج دارآواز میں کہا۔
’’شازین !یہ امریکہ نہیں ہندوستان ہے اگر تم نے میری محبت کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کی تومجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔شیراک میرا ہے۔۔۔۔۔ اور میرا ہی رہے گا۔‘‘آشتی اسے سلگتی ہوئی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی تیزی سے باہر نکل گئی ۔ان کی ایک ایک بات اس کے دل پر سرایت کر گئی اور کتنی دیر بیٹھی روتی رہی اور آنسوئوں سے لبریز آنکھیںلئے الجھی الجھی قدموں سے چلتی ہوئی ساحل کے ایک کنارے پرآکر بیٹھ گئی ۔اس وقت اس کی نظروں کے سامنے ممی ڈیڈی کا چہرہ گھومنے لگا،کتنا وہ اس کا خیال رکھتے تھے ۔اس کی آنکھوں میں ذراسی نمی دیکھ کرپریشاں ہو جایا کرتے تھے لیکن آج زندگی اسے ایسے موڑ پر لے آئی تھی جہاں آنسو اس کا مقدر بن گیا تھا۔ شیراک نے جب اسے ساحل کے کنارے خاموش بیٹھے ہوئے دیکھا تو اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔
’’ہیلوشازین!ان لکیروں کے جال میں کسے الجھانے کی سازش کر رہی ہیں۔۔۔۔۔پلیز مجھے بھی بتائیں۔‘‘اس نے نشاط آمیز لہجہ میں کہالیکن وہ خاموش رہی اس نے بہت کوشش کی کہ وہ کچھ کہے لیکن اس کے ہونٹ تک نہ ہلے اور نہ اس کی طرف متوجہ ہوئی تو وہ تڑپ اٹھا۔
’’شازین!تمہاری یہ خاموشی مجھے جینے نہیں دے گی ۔۔۔۔۔پلیز بتائو۔‘‘اس نے سرمست نگاہیں اس کی آنکھ میں ڈالتے ہوئے کہا تو وہ پلکوں پر آئے بے شمار آنسو کو چھپاتے ہوئے بے وزن آواز میں بولی۔
’’کیا کریں گے جان کر۔۔۔۔۔اس جال میں آپ نے مجھے الجھا دیا ہے جس سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔‘‘
’’کیا۔۔۔۔۔؟لفظوں کی ملکہ آپ۔۔۔۔۔اور الجھائوں گا میں۔۔۔۔۔ اور میں عالم الغیب نہیں ہوں۔اس لئے آپ کو میری قسم پلیز بتائو۔‘‘اس نے جب اپنی قسم دی تو اس نے فورااپنے نازک انگلی کی مہر اس کے ہونٹوں پر رکھ دی۔
’’پلیز شیراک !اپنی قسم نہ دیں۔‘‘
’’پھر کیا بات ہے شازین۔‘‘
’’آشتی!‘‘اور اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’کیا آشتی۔۔۔۔۔ ؟شیراک نے اس کی خوشتر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آشتی آپ سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔‘‘ بے ساختہ اس کی زبان سے نگل گیا۔
’’شازین!اس دل پر صرف تمہاری حکومت ہے اور محبت میں عشق حقیقی کا تعلق دل سے ہوتا ہے اور میرا یہ نازک صنف دل صرف اور صرف تمہارے لئے دھڑکتا ہے ۔وہ آپ سے تم کہہ کر اسے مخاطت کرنے لگا۔
’’شازین!کوئی مجھے چاہتا ہے دیگر یہ میں نہیں جانتا اور نہ ہی سوچتا ہوں یہ تو دنیا ہے یار۔۔۔۔۔ اس لئے تمہیں میری اس پاک محبت کا واسطہ آشتی کی باتوں کا دل پراثر نہ لیا کرو ۔‘‘اس نے اپنی نشیلی آنکھیں اس کی آنکھوں میں ڈالتے ہوئے کہا تو شازین کے دل میں عشق و محبت کے تصورات لے کر ایک نیا احساس طلوع ہونے لگا لیکن اس نے فورااپنے آپ کو سنبھالا اور اس کا ہاتھ زور سے جھٹکتے ہوئے بے رخی سے بولی۔
مسٹر شیراک !کان کھول کر سن لیںآپ کے چاہنے سے نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔میں جو چاہوں گی وہ ہوگا۔‘‘
شیراک نے اس کے منہ سے سخت جملے سنے تو اس کے رومان انگیز خوابوں کی دنیا بکھرنے لگی ۔اس کی پیشانی پر سلوٹیں ابھر آئی اور مضطرب ہو کر فرط حیرت سے کچھ دیر تک اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
’’شازین !تم کیا چاہتی ہو۔‘‘
’’میرا خیال اپنے دل سے نکال دیں اور آشتی کو اپنا لیں ۔۔۔۔۔میں امریکہ واپس جا رہی ہوں۔’’
’’ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔پریشان کرنے کا تمہارا یہ نایاب طریقہ ہے،تم بھی کان کھول کر سن لو تمہارے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘اس کی مڑمڑی کلائی پکڑتے ہوئے بولا۔
لیکن اس نے شیراک کی کسی بات کا جواب نہیں دیا اوراس کا ہاتھ جھٹک کر وہاں سے اٹھ کر چلی آئی۔وہ اسے بے تاب نگاہوں سے جاتا ہوایکھتا رہا۔
اچانک اس کا امریکہ واپس جانے کا فیصلہ سن کر سبھی لوگ مضطرب ہوگئے لیکن نصرت بیگم اور آشتی اپنے سنگ راہ کے فیصلہ سے کافی خوش تھیںلیکن فراز صاحب کو یہ بات سمجھنے میں دیر نہ لگی کیونکہ انہوں نے دونوں کی بات سن لی تھی اور بیٹے کی پسند جان کر خوش تھے لیکن شازین کے فیصلہ سے مضطرتھے اور اسے سمجھانے کی غرض سے اس کے کمرے میں آئے تو اس وقت وہ آنکھوں میں نمی لئے واپس جانے کی تیاری کر رہی تھی ۔فراز نے اس کے سر پر محبت و شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے اسے سمجھایا تو اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کا سیلاب امنڈ پڑا۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔۔دل کی بات مانے یا دماغ کی۔
’’شازین!نصرت بیگم اور آشتی کی وجہ کر اتنے لوگوں کی محبت ٹھکرا کر جا رہی ہو ۔۔۔۔۔کسے ملتی ہے اتنی محبت ۔۔۔۔۔اس کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا۔اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا وہ پیشانی اور بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی اور شیراک کے لئے اس کا نازک دل تڑپ اٹھا ۔اس کے قدم اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔اس کے کمرے سے آہستہ آواز میں ریکارڈ پر یہ گیت بج رہا تھا۔
ؔؔ؎ میںنے کب تجھ سے زمانے کی خوشی مانگی تھی
بس ہلکی سی میرے لب نے ہنسی مانگی تھی
پردہ اٹھا کر دیکھا تو وہ اپنے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا بے قراری کے عالم میں ٹہل رہا تھا ۔اچانک دونوں کی نظریں مل گئیں تو وہ اندر چلی آئی او ریکارڈ بند کر دیا۔
’’شازین !تم جا رہی ہو۔۔۔۔۔‘‘اس نے بے کیف نظر سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’ہاں۔۔۔۔۔‘‘اوراپنی گھنیری پلکیں جھکا لیں تو اس کی مخمور آنکھیںپر یشاں ہو گئیںاور تڑپ کربولا۔
’’کیوں آئی ہو مجھے یہاں جلانے ۔۔۔۔۔؟پلیز چلی جائو اور مجھے اکیلا چھوڑ دو۔‘‘اس کی آواز میں اتنی تڑپ تھی کہ شازین کی پلکیں آنسوئوں سے کانپنے لگیں اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے متبسم نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔‘‘
’’شیراک!تمہاری محبت کا اعتراف کرتی ہوں۔‘‘
اس کا فیصلہ سن کر شیراک پر شراب مستی چھانے لگی اور چمن میں روٹھی بہار پھر سے آگئی۔۔۔۔۔۔اور رومان انگیز فضا ہو گئی۔

ؤؤؤ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest