’’ایک رشتہ‘افسانہ

ابراہیم نثار اعظمی،شاہین اکیڈمی

لکھنو
اگر اس کی زندگی میں اتنی مشکلات نہیں تھی تو اسے کیوں ایسا محسوس ہوا کہ رشید نے اسے دھوکہ دیا ہے ۔معمولی سی بات اسے زندگی کی تا ریک راہوں میں چھوڑکرچلی گئی۔ آئندہ زندگی بہت دردناک گزرنے کے ڈر سے وہ اپنے علاقے میں ناموس ہو گیا ۔
’’ہان ہان ٹھیک ہے ‘‘
تم کو اگر جانا ہے تو جائو ، مگر اتنا یاد رکھنا کبھی زندگی میں تم کو میرے جیسا نہیں ملے گا ۔رمشا تم کیا سمجھ رہی ہو دنیا ختم ہو گئی ۔یہ تمہاری بیو قوفی ہے دنیا بہت بڑی ہے اس دنیا میں بہت سارے لوگ ہیں ۔ہر موڑ ھ ہر چوراہے ،ہر گلی میں کوئی نہ کوئی مل ہی جائے گا ۔یہ تمہاری غلط فہمی ہے ۔
’’کیا مطلب ہے تمیارا
’’ر مشااتنا تو جان لو کی تم کو میرے سوا کوئی نہیں دیکھ سکتا ‘‘
’’ہاں میں جانتی ہوں ،تم کو اپنی بات قبول کرانے کا ہنر آتا ہے ۔‘‘
’’اس میں ہنر کی کیا بات ہے ۔یہ تو میری آزادی ہے ‘‘امان نے چھت میں لگے پنکھے تو گھور کر بولا
’’میں کسی سے بھی کبھی بھی کہیں بھی بات کرسکتا ہوں ‘‘
’’نہیں کر سکتے ،دونوں ہاتوں کو اپنے سر تک اٹھا کر رمشا بولی‘‘
’’کیوں نہیں کر سکتا ؟؟کوئی وجہ میں جان سکتا ہوں ::
’’کر سکتے ہو بالکل اجازت ہے ۔اس کے سامنے آکت بولی لیکن ‘‘
’’کیا لیکن ؟؟؟
کیا تم کو اتنا معلوم نہیں کہ ہم دونوں کی شادی ہو چکی ہے ۔اب ہم دوست سے میاں بیوی بن چکے ۔کہاں ہے تمہاری عقل بھینس چرنے گئی ہے ۔امان کے اس طنز پر رمشا جھلا اٹھی ::
’’اس کا مطلب ہے اب تم مجھے قید کر کے رکھو گے :میں آزاد پنچھی ہوں۔ اور میرے والدین نے بڑے ناز نکھرے اٹھا کے پال پوس کے بڑا کیا ہے ‘‘
’’ایسا تو میں نے کہا نہیں ہے ۔میں نے کب تم کو کہیں آنے جانے سے منع کیا ہے ‘‘
’’پھر تو اتنا چلانے کی ضرورت کیوں آن پڑی ‘‘
’’رمشا میں چلا نہیں رہا میں صرف تمہاری اصلاح چاہتا ہوں‘‘
’’ٹھیک ہے تو اپنا مشورہ اپنے پاس ہی رکھیئے اپنی نظر کو تیرچھی کرکے امان کی طرف دیکھ کر بولی ‘‘
’’اگر معلوم ہو تا کہ مجھے ا س جنجال میں پھنسنا ہے ۔تو کبھی تم سے شادی ہی نہیں کرتی ‘‘
’’تمہارے کہنے کا مطلب کیا ہے ‘‘’
’’رمشاہوش میں آو ::اور اپنی زبان سنبھال کے بات کرو ‘‘
’’امان دیکھو ::اگر تم کو مجھ سے کوئی اعتراض ہے تو ابھی کے ابھی صاف صاف بول دو‘‘
’’نہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ؛؛اگر ایسی بات ہوتی تو سیدھا باہر کر دیا ہوتا ‘‘‘
’’اللہ اللہ باہر ‘‘
’’کیوں کہاں گئیں اب وہ تمہاری باتیں ۔تم کو پلکوں پے بیٹھا کے رکھون گا ، تم جو کہوگی ویسا ہی ہو گا ۔تمہارے کپڑے صاف کرونگا ،کھانا بناوں گا ۔‘‘
’’ہان وہ باتیں تھیں ،مگر تمہاری حرکتوں نے ایسا کرنے کے لئے آمادہ کیا ہے ‘‘
’’رمسا تم کو معلوم ہے ابھی ہماری شادی کو صرف دو مہینہ ہو ا ہے ۔اور ابھی سے تمہاری اصلیت ظاہر ہو گئی ‘‘
’’رمسا میری مجبوری تھی اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھے کوپکڑ کر بولا ‘‘
’’کیا مجبوری تھی ‘‘
’’مجھے غصہ آگیا تھا ‘‘
’’کیوں غصہ آیا اور آنے کی وجہ کیا تھی ۔میں کہتی ہوں یہ ساری باتیں تم مجھے اکیلے میں بھی کہ سکتے تھے ۔کیا ضرورت تھی سارے گھر والوں کے سامنے بوال کرنے کی ۔
عورت اپنا دکھ ،درد ،غم ،تکلیف برداشت کر سکتی ہے مگر اپنی بے عزتی نہیں ۔
’’رمشامیں پاگل ہو گیا تھا ۔‘‘
’’اس کی وجہ کیا تھی ‘‘
’’در اصل بات یوں ہے کی میں جب گھر پر نہیں رہتا ہوں ۔تم فون پر کس سے بات کرتی ہو ۔جب نھی آف سے تم سے بات کرنے کے واسطے فون کرتا ہوں تمہار ا نمبر بزی ملتا ہے ‘‘
’’ہاں میں بات کرتی ہوں؛؛ لیکن یہ بھی پوچھو کس سے بات کرتی ہوں ‘‘
’’ہاں بتاو کس سے بات کرتی ہو ‘‘
’’کون علینہ ؟؟
’’ وہ جو آپ کے آفس میں کام کرتی تھی ۔اور اب وہ آفس چھوڑ چکی ہے ‘‘۔
’’رمشااب تم میری جاسوسی بھی کرنے لگی ہو ۔تمہاری کونسی ایسی خواہش ہے جو میں پورہ نہیں کرتا ‘‘
’’چلاو مت ،
َــــــــِوہی علینہ ہے جو تمہاری سیکریٹری ہے۔ اس سے تم کیا بات کرتے رہتے ہو ‘‘
’’رمشاپاگل مت بنو وہ آفس ہے وہاں پر ہزاروں کام ہوتے ہیں ۔بات کرنا تو لازم ہے ‘‘
’’اور آفس سے واپسی پر موبائل ساے میسج کون کررہا ہوتا ہے ‘‘
’’تم آفس سے ،مجھے ہرایک گھنٹہ پر فون کرتے ہو کیا مقصد ہے تمہارا‘‘
’’ ہان میں کرتا ہوں مجھے تمہاری فکر رہتی ہے کہ کیا کررہی ہوگی ۔صبح سے شام تک یہی سوچتے رہتا ہوں ‘‘
’’ اچھا کالج کے دنوں میں تو اتنا کئیر نہیں کرتے تھے ۔‘‘
’’ رمشا میری بات سنو ،،شادی کے بعد مرد عورت ایک دوسرے کے ہو جاتے ہیں ۔مرد ،بیوی اور ڈر کے ساتھ جیتا ہے ۔اور عورت ،دیکھ بھال،پیارو محبت ،اور مرد کا وقت پر گھر آنا چاہتی ہے ۔‘‘‘
مجھے بھی معلوم ہے امان میاں ،آج کے دور میں میاں بیوی کا رشتہ لوکل ٹرین کی طرح ہو گیا ہے ۔جب جس کا جی چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے ۔اتر جاتا ہے ۔ سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ۔اس لیئے مجھے تو مرد ذات پر سے بھروسہ ہی اب ختم ہو چکا ہے ۔شادی سے پہلے غلام بننے کی قسمیں خاتے ہیں اور شادی بعد اسی کو اپنے پیر کی جوتی سمجھ نے لگتے ہیں ۔اور رہی بات فون کرنے کی تو ،،،
’’ ابھی سے کیو اتنا کرنے لگے ہو ،کیا تم اب مجھ پر اعتمادٰنہیں ہے ۔اب تمہاری میرے سے دل بھر گیا ہے ؟؟؟
’’کسی وار کی تلاش ہے تو دیکھو دروازہ کھلا ہوا ہے ۔وہ تو مجھے پتہ ہے تم ایسا کیوں بول رہے ہو ‘‘
’’اب تم مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہو ؟؟؟؟؟؟
’’بس بس رمشا بس بھی کرو بہت ہوا ‘‘‘
’’اب اگر ایک لفظ بھی بولی تو پھر مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ‘‘
’’امان نے اس کے رخسار پر ایک طمانچہ سٹاپ سے رسید کر دیا ۔سامنے رکھے ہوئے میز پر ،رمسا،جاکر ٹکرا گئی اور زمین پر گرتے ہوئے اس کا سر میز کے سرے سے جالگا ۔چوٹ لگنے کے بعد خون تیزی کے ساتھ رمشاکے سینے پر گرنے لگا ۔
دوسری طرف امان اپنا ہاتھ پکڑے ہوئے مسہری پر بیٹھا تھر تھر کانپنے لگا ۔تھوڑی دیر سہم نے کے بعد پھر بولا ۔
’’الگ ہونے کی خواہش تمہاری ہے ‘‘میں کئی مرتبہ محسوس کیا ہون‘‘
احساس کی بات مت کرو امان ’رمسا ‘روتے ہوئے بولی ‘‘
میں نے تم سے پیار کیا ہے ۔تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہوں ‘‘
’’کیسا پیار جس دن سے میری تمہاری ملاقات ہوئی تھی ۔اسی دن سے میرے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ تم ایک جگہ نہیں رہ سکتی ۔‘‘
’’تو اسی دن کیوں نہیں چھور دیئے کون کہا تھا مجھ سے دوستی کرنے کو ،اس دن تم نے بھی تو بولا تھا۔
’’کہ میرا مقصد تم کو تکلیف پہونچانا نہیں ہے ۔میں صرف تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں ۔
’’اکثر کالج اور یونیور سٹی کے اندر ایسا ماحول ہوتا ہے جہاں پر کوئی صرف لڑکیوں کی طرف بھاگتا ہے چاہے وقتی طور پر ہی کیوں نہ ہو ۔لیکن جسیے جیسے وقت گزرتا ہے آپس میں تعلقات استوار ہوتے ہیں ۔پھر ہر وہ کام سر انجام دیا جاتا ہے جو شادی سے پہلے کرنے کی ممناعت ہوتی ہے ۔ایک بار دو بار پھر تو عادت ب جاتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اب دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے ،اس کا شکار امان اور رمسا بھی ہوئے ۔
دوستی بھی ہو گئی ،پیار بھی ہو گیا ،شادی بھی ہو گئی ،اور اب تم ہی مجھے آزادی حا صل کرنا چاہتے ہو ۔
’’ نہیں علینہ یہ بات نہیں ہے تمہار ے دل کا غبار میں اب ہلکا کر دیتا ہوں ۔میں مانتا ہوں کہ میں علینہ سے بات کرتا ہوں ۔بہت اچھی لڑکی ہے ۔اس کے آفس جواین کرنے وجہ مجبور تھی اس کے پاس مدنی کے ذرایع نہیں تھے اس کے پاس ۔اس کی ماں بہت بیمار تھی ۔علاج کے لیے پیسے نہیں رہتے تھے ۔ایک دن اچانک آفس آکر رو نے لگی ۔اس دن اپنی پوری داستان سنا دی۔اور مجھ سے جو بن سکا میں اس کی مدد کرتا رہا۔مہینی دو مہینہ ہوا تھاکہ اچانک وہ آفس آنا بند کردی۔آندرونی ذرایع سے معلوم ہوا کہ علینہ نے استعفی دیا ہے ۔ماں کی بیماری کی وجہ سے وہ نوکری چھوڑنے پر مجبور ہوئی ۔اس کے جانے کے میں اکثر اس کے گھر اتا جاتا تھا تاکہ اس کی مدد کر سکوں ۔لیکن اب اس کی ماں بھی اسے چھوڑ کرچاچکی ہے ۔ یہ سب سنتے ہوئے رمسا کی آنکھوں سے آنسو اور تیز بہنے لگے تھے اب وہ خوسد سے شرمسار ہو چکی تھی ۔تیزی سے اکرامان سے گکے مل کر معافی مانگنے لگی ۔
’’ مجھے معاف کردو امان ،میں تم پر شک کیا ،میں سزاوار ہوں ۔اب مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔لیکن امان نے کوئی جواب نہیں دیا اسے خوب رونے دیا ۔اسے معلوم تھا کہ رو لینے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے ۔تھوڑی دیر کے جاب خا موش ہوئی تو امان نے کہا اج شام کو علینہ کی گھر جائیں گے ۔صاف صافی کرنے کے بعد دونوں ہنسی خوشی شام ہوتے ہی علینہ کے لیے گھر روانہ ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابراہیم نثار اعظمی ۔۔ریسرچ اسکالر۔۔۔9036744140

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram