مسلم معاشرہ پر غیر اسلامی تعلیمات اور رسوم ورواج کا اثر نمایاں نظر آتا ہے:مولانا محمد رحمانی مدنی

شرک باللہ اور شخصیت پرستی کی مختلف شکلیں آج ہمیں بہت سے افکار میں کفر تک پہنچادیتی ہیں، ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے

نئی دہلی (پریس ریلیز) سورہ مائدہ میں اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو تم یہود ونصاری کو اپنا دوست مت بناؤ کیونکہ وہ تو آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور رفیق ہیں اور تم میںسے جو ان کے ساتھ دوستی کو روا رکھے گا وہ انہیں میں سے ہوجائے گااور اللہ رب العالمین ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوداؤد کی صحیح روایت ہے کہ جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہوجاتا ہے۔اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسری اقوام کے رسوم ورواج اور ان کی مذہبی تہذیب اور طور طریقہ سے بچیں اور جو دنیاوی امور ہیں ان میں بھی ممکنہ حد تک ان شرائط وضوابط کا مکمل خیال رکھیں جن شرائط کا تذکرہ ہمارے اسلاف نے کیا ہے، ہم دنیاوی مسائل میں ان شرائط کا خیال کرتے ہوئے اپنے اعمال وعادات کو انجام دے سکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی ایسی ہے کہ آج مسلمان صرف دنیاوی مسائل ہی میں نہیں بلکہ شرعی مسائل میں بھی اسلامی شریعت کو نظر انداز کرکے دوسروں کی تقلید اور نقل کرتا نظر آتا ہے ۔آج بہت سے مسلمانوں نے توحید کو خیرباد کہہ کر شرکیات کو گلے لگا لیا اور کفار سے محبت والفت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے عقائد اور رسوم ورواج کو اپنانے لگے ہیں۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے دین پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے تعلق ضرور رکھیں لیکن اپنا اسلامی تشخص برقرار رکھیں اور اسلامی تعلیمات کو کمزور نہ ہونے دیں کیونکہ یہ اسلام کی شان اور رب کائنات کے احترام کا تقاضا ہے۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا مسلم معاشرہ پر غیر اسلامی تہذیب کے اثرات پر گفتگو فرمارہے تھے۔مولانا نے بالخصوص شرک کی تمام قسموں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج ہم اللہ کی ربوبیت، اس کی الوہیت اور اس کے اسماء وصفات سب میں غیر اللہ کو شریک کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں ہمارا ایمان واسلام سب ضائع ہورہا ہے ۔اللہ رب العالمین دنیا کے تمام جرائم کو معاف فرمادیتا ہے لیکن شرک کو قطعا برداشت نہیں فرماتا ۔ اسی وجہ سے شرک کو تباہی وبربادی کا بنیادی سبب قرار دیا گیا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک نہ کروگر چہ تم کو کاٹ ہی کیوں نہ دیا جائے یا جلا ہی کیوں نہ دیا جائے۔اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العالمین نے سورہ زمر میںمخاطب کرکے فرمایا کہ اگر آپ بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرادیں گے تو اللہ رب العالمین آپ کے اعمال کو بھی تباہ وبرباد کردے گا اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
مولانا موصوف نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ دوسری اقوام کی بعض دنیاوی چیزیں اگر ہم اختیار کریں تو اسے اچھی طرح پرکھ لیں اور شریعت کے اصولوں پر تول لیں تاکہ ہرقسم کے غیر اسلامی عنصر سے ہم محفوظ رہ سکیں۔مولانا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام کی بیماری اور وفات سے پہلے کی آپ کی کمزوری کا نقشہ بھی بیان کیا اور فرمایا کہ اسی موقع سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب پر قبرپرستی کے فتنہ کی وجہ سے لعنت بھیجی تھی۔ اخیر میں مسلمانوں سے تمام امور میں اسلامی تعلیمات اور تہذیب کو اپنانے اور قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی اپیل اور دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram