افسانچہ ۔مانسون

تحریر ۔ابراہیم اعظمی
برسات کا موسم ہر کسی کے لیے مسرت و فرحت کا باعث بنتا ہے سال کے تینوں موسم جاڑہ ۔گرمی ۔اور برسات میں سے ہر کسی کے لیے کوئی نہ کوئی موسم خوشگوار ضرور ہوتا ہے ۔کسی کے لیے رحمت کا باعث بنتا ہے تو کسی کے لیے زحمت کا ۔
مانسون کی آمد کا انتظار ہرکسی کو بڑی شدت سے ہوتا ہے اس سے قبل گرمی شدت و تپش ہر کسی کے لیے بلاء سے کم نہیں ہوتی ۔گلے میں خوشکی کے تسلسل سے ہر کس ناکس پریشان نظر آتا ہے۔شب و روز کے عوامل میں رخنہ گرمی کی شدت ہوتی ہے ۔پسینے کی بوندیں جبیں سے رونما ہوکر رخسار کا سفر طے کرکے برق رفتاری کے ساتھ لب خوشک کر تر کرتیں ہیں ۔جس میں نمکینیت کے ساتھ جھنجھلاہٹ بھی ہوتی ہے۔

جولائ کا مہینہ تھا مانسون چڑھ چکا تھا ۔مگر بارش کی کوئ امید نظر نہیں آرہی تھی ۔دن تو جیسے تیسے گزر جاتا تھا مگر رات کی رات کی گرمی نے شب بیداری کے مجبور کردیا تھا ۔اچانک تیز ہوا کا جھونکا جنوب کی سمت سے آنا شروع ہوگیا ۔گردو غبار اس قدر کثیر تعداد میں اڑ رہے تھے کہ آنکھ کھول کر دیکھنا مشکل ہورہا تھا ۔اس درمیان آنکھ کو موچ کر کنارے سے دیکھنے کی کوشش کرتے تو تاریک آسمان پر بجلی کی چمک اپنی چادر پھیلائے نظر آتی اور ہماری آنکھیں دوبارہ بند ہوجاتی تھیں ۔
گرمیوں میں چھت پر سونا ہر کسی کے گھر معمول تھا ۔اسے غربت کا تحفہ کہیے یا موسم کی مجبوری ۔خیر اس رات علینہ اپنے شوہر وقار اور اپنے بچے افسر کے ساتھ سو رہی تھی ۔تیز تند ہوا اور بارش کے آنے سے چھت کا موحول درہم برہم ہوگیا تھا۔ سب سے پہلے چارپائی کو اٹھا کر ایک طرف لے جانے کی ناکام کوشش کی جانے لگی ۔اناًفانا موسا دھار بارش ہونے لگی ۔علینہ نے اپنے بچے کو اٹھا کر جلدی سے نیچے کی طرف دوڑی اور کھپڑیل گھر کے بھیتری کمرے میں میلے کچیلے ڈوپٹے کو بچھا کر سلا دیا۔
وقار شوگر کا مریض پچھلے سات سالوں سے تھا ۔کھیت میں کام کرتے وقت آج اسکے پیر میں زبردست موچ آگئ تھی ۔وہ اٹھ نہیں سکتا تھا ۔علینہ فوراً دوڑ کر واپس آئ اور وقار کو اپنے کندھے کے سہارے سے بھیگتے ہوئے نیچے لے آئ۔اور خالی زمین پر لیٹا دیا ۔
آج ہوا میں غضب کی سنسناہٹ تھی ہوا نے اپنا رخ بدلہ اور شاید آج اسے جم کر برسنا تھا ۔اچانک کھٹ کھٹ کی اوازیں بلندہوئیں غور سے زمین پر دیکھا تھا تو اولے گرنے لگے تھے۔
گھر میں گھپ اندھیرا تھا ۔بجلی پہلے رخصت ہوچکی تھی ۔دیاسلائ کی تلاش میں علینہ اپنے باورچی خانے کی طرف ہاتھ کے اشارے سے بڑھی ۔اتنے میں افسر کے رونے آواز سنی۔اس کا دل گھبرایا ادھر دیاسلائ ملنے کا نام نہیں لے رہی ادھر افسر جاگ چکا تھا ۔وقار بھی آج بار بار درد سے کراہ رہا تھا ۔رونے کی آواز سن کر پرندے بھی جو گھر کے اندر کھپریل میں اپنا گھونسلہ بنا رکھے تھے چہچہانا شروع کردیا ۔
علینہ سے اب رہا نہیں گیا وہ بھاگتی ہوئ افسر کے پاس گئ اسے گود میں اٹھا لیا ۔بچہ بھوک سے رو رہا تھا ۔گھر میں اندھیرا ۔باہر بارش ۔بچے کو لیکر چپ کراتے ہوے وقار کے پاس علینہ آگئ۔
اس بار وقار نے بہت تیز اواز نکالی چوٹ لگنے کی وجہ پیر میں تکلیف زیادہ ہوچکی تھی علینہ پاس آکر بولی ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا وقار کہیں درد ہے ۔۔۔
سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وقار نے آنکھیں موند کر کہا ہان۔۔۔۔۔۔
علینہ نے جلدی سے افسر کو زمین ایک طرف لیٹا دیا اور وقار کے سینے پر اپنے ڈوپٹے سے مالش کرنے لگی ۔

علینہ وقار کی اس حالت غیرسے متحیر ہو گئ ۔اچانک وقار نے کروٹ بدلی اور افسر کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا شاید وہ کچھ کہنے کوشش کرہا تھا ۔۔اس کا خیال رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درد کی شدت سے اس کی حلق سوکھ گئ تھی ۔
اس بار علینہ کی آنکھوں میں آنسوں آگیے ۔اب کیا کرے اسے کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا ۔باہر بارش اپنے شباب پر تھی کسے بلاے اپنی مدد کے لیے وقار کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔اسے محسوس ہوا وقار کا جسم تھنڈا پڑچکا ہے ہاتھ پیر بے لاگ ہوچکے ہیں ۔گھبراہٹ سے اس کی آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی ۔انکھوں میں پیلا پن ہوگیا جیسے وہ کہیں اور دیکھ رہی ہو ۔علینہ اسے گود میں لیے فوٹ فوٹ کر رونے لگی ۔
مگر موسم کی خوشگواری نے اس مصیبت زدہ علینہ کی صدا کو پست کردیا تھا ۔کوئی نہیں سننے والا سب اپنے گھروں میں بند ہیں اپنے آپ کو اور اپنے گھر کو برسات کے پانی سے بچانے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ادھر علینہ کی دنیا اجڑ چکی ہے کسی کو کان و کان خبر نہیں پہونچی ۔وہ پرندے جو اپنے گھونسلوں میں چہچہا رہے تھے اب وہ خاموش ہو چکے تھے ۔علینہ سے یہ برداشت نہیں ہو پایاور وہی پر بے ہوش ہوکر ڈھیر ہوگی ۔کچھ توقف کے بعد افسر اپنے ماں باپ کی حرکت میں سکوت پاکر رونے لگا ۔
تھوڑی دیر کے بعد علینہ کو ہوش آگیا ۔دیکھا تو وقار بےنجان پڑا ہوا ہے جلدی سے افسر کو گود میں لیا جو مسلسل روت جارہا تھا ایک ہاتھ سے ڈوپٹے ست آنسو ہچھ رہی تھی اور اپنی زندگی کے مانسون کو دیکھ رہی تھی ۔کہ ایک مانسون باہر ہے جو سب کے لیے راحتکا باعث بنا ہوا ہے ایک میرے گھر کے اندر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر ۔۔۔۔۔ابراہیم اعظمی ۔

پتہ ۔۔۔۔۔شاہین اکیڈمی لکھنو۔
واٹسپ نمبر. ۔۔۔9036744140

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram