افسانچہ ۔۔۔۔۔خواب تحریر ۔۔۔۔ابراہیم اعظمی ۔

جانتے ہو کہ کل شب پھر تم رات کے اسی آخری پہر میں خواب میں آئے تھے،جب تم سے ملاقات کی تمام امیدیں مایوسی میں ڈھل جاتی ہیں۔ تمہارا مجھے اس وقت آکر چونکا دینا میرے دل کے ہر خانے کو مسرتوں کے سرخ گلابوں سے مہکا دیتا ہے۔جانتی ہوں یہ تاخیر میری آنکھوں میں بے قراری کے جذبات دیکھنے کے لئے ہی کرتے آئے ہو ۔ مگر شاید تم اس بات سے ناواقف ہوں کہ تمہاری آنکھوں میں میری بے قراری دیکھ کر اترنے والا غرور مجھے نشے کی کیفیت میں ڈالتا ہے۔
اب بتا بھی دو نا ، کل شب ایسا کیا ہوگیا تھا جو تم نے مجھ سے نظریں نہ پھیری تھیں۔ تم بھی انہیں وحشتوں کے ساتھ میری آنکھوں میں دیکھ رہے تھے جو اتنے رتجگوں نے میری آنکھوں میں، تمہاری جدائی نے سمو دی تھیں۔ میں تمہاری نگاہوں کی تپش برداشت کرنے سے قاصر تھی۔ نجانے کتنے آئینے آنکھوں میں کرچی بن کر گھل رہے تھے،مجھے بے خودی کی کیفیت میں ڈال رہے تھے ۔
کل رات نہ جانے کیوں شدت سے اس بات کی خواہش کی گئی تھی کہ تم اب کے پھر منہ پھیر کر چلے جاؤ،بالکل اسی بے نیازی کے ساتھ جو تمہاری طبیعت کا خاصہ ہے۔ جس عمل کوتم سالوں سے دہراتے آرہے ہو ۔ تمہارا بغیر کسی وجہ کے مجھ سے منہ موڑ لینا، میری صدا پر واپس پلٹ کر نہ دیکھنا، مجھے پھر سے ہجر کی لذتوں میں مبتلا کردے ۔
تمہاری مجھ سے لپٹ جانے کی طلب مجھے عجیب سے خوف میں مبتلا کر رہی تھی۔ تمہارے میری طرف بڑھائے جانے والے تمام قدم میری امیدوں کو توڑتے جارہے تھے ۔پھر میں نے تمھاری سانسوں کو اپنے جسم پر محسوس کیا یہ میرے جسم کو جلا رہی تھیں۔تمہارا لمس میرے ہاتھ کی انگلیوں پر اتر رہا تھا ۔میں اب بھی نہ جانے کیوں دہشت کی سی کیفیت میں ہی تھی ۔
میں ان پر سحر لمحات میں سے سکون کا عنصر ہی تلاش کر رہی تھی۔میرا یہ پراسرار رویہ جانتی ہوں تمہیں کتنا بے قرار کر رہا تھا۔ یہ بھی جانتی ہوں کہ تم تو محض چاہے جانے کے نشے سے واقف ہو۔تمہاری آنکھوں میں نظر آنے والی بے قراری تمہاری بےبسی کی گواہ بن چکی تھی۔ میں دلی خواہش اور غرض کی موجودگی میں بھی بھی تمہیں ، میری چاہ کرنے کے عذاب میں نہ ڈالنا چاہتی تھی۔جانتی ہوں کہ یہ باتیں صرف عاشقوں کو ہی زیب دیتی ہیں جو محبوب کے در پر سر جھکائے محض نظر کرم کی توقع لئے پھرتے ہیں۔
کیا تم اس بات سے واقف ہو کہ تمہاری میری زندگی میں شمولیت کے بعد سے لے کر اب تک عشق کے تمام رنگوں کو برت چکی ہوں۔ تنہائیوں میں بھری جانے والی آہیں اور سسکیاں ان رنگوں میں جان ڈال کر انہیں شوخ بناتی آئ ہیں۔میں نے رنگوں میں جان ڈالنے کے لیے بہت محنت کی ہے انہیں چند جذباتی لمحوں میں بہک کر پھیکا نہیں کر سکتی۔ یہ بہکاوا میری آج تک کی ریاضت کی موت ثابت ہوتا ۔
جانتی تھی کہ یہ محض ایک خواب ہے مگر میں نے خود کو جھنجوڑ کر اپنی روح کا تعلق حقیقت کی دنیا سے استوار کیااور دانستہ طور پر آنکھیں کھول دیں۔ میں انمول لمحات اپنی خود غرضی کی بھینٹ چڑھا کر بے مول نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ تمہاری طلب کا خاتمہ نہیں چاہتی تھی۔تمہاری اس بے قراری نے مجھے پہلی دفعہ غرور دیا تھا ۔میں اسی غرور کے ساتھ جینا چاہتی ہوں۔
آنکھ کھلنے سے لے کر اب تک میں اسی لمحے میں ہی جی رہی ہوں۔ اندھیرے کمرے میں خود سے لپٹ کر تمہاری وحشتوں، بے قراریوں لمس اور سانسوں کو انہیں شدتوں کا ساتھ اپنے جسم اور روح پر محسوس کر رہی ہوں،میرا جسم اتنے گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مسلسل اسی شدت سے جل رہا ہے ۔ میں اس جلن سے لطف اندوز ہو رہی ہوں اپنی محبت کو امر کر رہی ہوں۔کتنے سالوں بعد آج کھلکھلا کر رو رہی ہو ں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram