افسانہ۔سرحد پارڈاکٹر۔ کیفیؔ سنبھلی

سرحد پار

پاکستان سے خط کیا آیا تھا لگتا تھا پورے محلہ چودھرانے پر کسی نے بم گرا دیا تھا جسے دیکھو وہ فکر مند ،جسے دیکھو آزردہ اور افسردہ۔ عورتیں علیحدہ کانا پھوسی میں مصروف ،مرد الگ خاموش، جسے دیکھو وہی پاکستان کو کوس رہا تھا اور پاکستان جانے والوں پر لعن طعن کر رہا تھاسب سے زیادہ بزرگوں کی حالت ابتر تھی مگر سب کے سب مجبور تھے کریں تو کیا کریں کہیں تو کیا کہیں۔
سارا دن خوب خوب پاکستان کو، پاکستان بنانے والوں کو اور پاکستان جانے والوں کو کوسا پیٹا گیا گالیاں دی گئیں برا بھلا کہا گیا آخر کو پھر سب خاموش ہیں ۔یہ تھا کہ پاکستان سے چھمو چچی کا خط آیا تھاجس میں انہوں نے اطلاع دی تھی کہ منے چچا کی لڑکی نایاب فاطمہ کی شادی انہیں کے خاندانی خانساماں چھدن کے لڑکے عادل کے ساتھ ہوگئی تھی بس اس خبر کا آنا تھا کہ پورا خاندان چراغ پا ہو گیا کرن چچی روکر بولیں بس یہی دن دیکھنے کو رہ گیا تھا کہ بیٹیاں غلام زادوں سے بیاہی جائیں پروردگار ہمیںموت کیوں نہ آئی یہ بیٹیاں پیدا ہوتے ہی کیوں نہ مر گئیں جو غلام زادوں میں بیاہی گئیں۔
حالانکہ عادل انتہائی معقول مہذب تعلیم یافتہ اور باکردار نوجوان تھا پورے چودھرانے کے لڑکوں میں اس کا متبادل یا مقابل لڑکا نہ تھا مگر بے چارا تھا خان ساماں کا بیٹا کوئی بد قومہ بھی نہ تھا سادات ہی چودھرانے والے تھے اور سادات ہی چھدن بھی تھے مگر بے چارے تھے غریب اسی لئے چودھری حضرات کے یہاں خان ساماں کا کام اختیار کر لیا تھا اب غریب کی کیا ذات کیا خاندان کیا برادری بس بے چارے چھدن کی خان ساماں ہی برادری خان ساماں ہی اسی کی ذات ہوگئی اور دولت مند برادروں کو اس میں سے بدبو آنے لگی۔
مگر چھدن کا لڑکا عادل تھا بڑا ذہین دیکھنے بھالنے میں بھی خوب صورت تھا اور خوب سیرت تو وہ تھا ہی اس نے انتہائی جاں فشانی کے ساتھ انگریزی میں ایم ۔اے۔کیا اور علاقے میں اپنی قابلیت کا سکہ بٹھا دیا۔
منے چودھری کی لڑکی نایاب فاطمہ بھی انگریزی ہی میں ایم۔اے۔کر رہی تھی۔وہ اکثر عادل کو اپنی مدد کے لئے بلا لیتی اور عادل اسے مناسب مدد دے کر چلا جاتا۔
مگر یہ عشق کمبخت کہ اس کا پودا وہاں سر اٹھاتا ہے جہاں اس کی نشو و نما کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی بلکہ ناممکن ہوتی ہے اکثر پودے تو بے چارے سر اٹھاتے ہی جڑ سے اکھاڑ دئیے جاتے ہیں اور کچھ تناور ہوتے ہوتے قطع کر دئیے جاتے ہیں۔
نایاب بی بی بھی انجام سوچے سمجھے بغیر عادل غریب کو دل دے بیٹھی اور نہ صرف دل دے بیٹھی بلکہ اس کا اظہار بھی عادل غریب سے کر بیٹھی عادل بے چارا کیا بولتا گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوگیا اور بولا ’’بی بی کیا آپ کو علم نہیں ہے کہ میں ایک غریب خانساماں کا بیٹا اور آپ ایک رئیس اعظم کی بیٹی ہیں‘‘۔
اچانک ملک کا سیاسی ڈھانچہ ایک دم ہی تبدیل ہونا شروع ہوگیا ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیاچاروں طرف ایک عجیب ہنگامہ برپا ہوگیا اور ہجرت شروع ہوگئی چودھری صاحب بھی اپنے پورے کنبے کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے گائوں خالی ہوگئے گلیوں گلیوں ایک مہیب سناٹا چھایا ہوا تھا کہیں سے کوئی آواز نہ آتی تھی جن حویلیوں اور محلوں میں دن رات قہقہے گونجتے تھے ان میں الو بولنے لگے چند محل اور حویلیاں تو اپنے مکینوں کے جانے کے بعد ہی سے کھنڈر ہونا شروع ہوگئیں اور شے عبرت بن گئیں۔
جہاں ملک کے رئیس متمول اور زمیندار گھرانوں نے ہجرت کی وہیں غریب اور مزدور طبقے کے مسلمان بھی ہجرت کرنے کو مجبور ہوگئے جب مطبخ ہی نہ رہے تو خانساماں کیا کریں گے جب خریدار ہی نہ رہے تو کیا بیچے اور کہاں سے خرچ چلائے لہٰذا چھدن خان ساماں کا خاندان بھی ہجرت کرنے پر مجبور ہوگیااور ایک دن اپنے مختصر سے سامان کے ساتھ پاکستان جا پہنچا جب وطن میں رئیس لوگوں کے یہاں فاقے ہونے لگے اور دو وقت روٹی کے لالے پڑ گئے تو گھر کی بی بیوں نے ہی خود کھانا بنانا شروع کرر دیا۔
بے چارا چھدن،چودھری منے کو ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچا کہ وہی اس کو اپنے یہاں ملازم رکھ لیں مگر وہاں تو اپنا ہی خرچ اٹھانا دوبر تھا ملازم رکھنے کی کہاں گنجائش تھی چودھری صاحب اور ان کے اہل خانہ ایک جھگی میں پڑے ہوئے تھے بے چارے دل میں شرمندہ بھی ہوئے مگر پردیس میں ایک ہم وطن اور اپنے خانساماں کو دیکھ کر دوسرا ہٹ کا احساس ہوا جان لیوا تنہائی جو ہر دم انہیں ڈستی رہتی تھی اس کا احساس کچھ کچھ کم ہوا چھدن نے دل میں کہا ’’یا اﷲتیری شان یہ وہی چودھری منے ہیں جن کا حکم سارے علاقے پر چلتا تھا مجال ہے کوئی ان کا حکم ٹال دے مگر بے چارے آج زمین پر پڑے ہوئے ہیں‘‘۔
مگر وہ اپنی زمیندارانہ خوبو سے مجبور تھے ان مشکل حالات میں بھی چھدن اور اس کے اہل خانہ کو اپنے یہاں مہمان رکھا اور کوشش کرکے چھدن کو بھی ایک جگی اپنے قریب ہی دلوا دی اور دونوں محبت سے رہنے لگے ایک سے دو بھلے چھدن چودھری صاحب کی بہت دلجوئی کرتا حوصلہ بندھاتا اور دل سے احترام بھی کرتا تھا اور چودھری صاحب کو اس سے بڑی ڈھارس تھی۔
چودھری صاحب نے بہت کوشش کی کہ نایاب فاطمہ کے لئے معقول رشتہ مل جائے مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور اس کی عمر دن بہ دن بڑھتی گئی بالوں میں رفتہ رفتہ سفیدی جھانکنے لگی۔
ادھر عادل ایم۔اے۔ پاس تو تھا ہی اسے پاکستان میں ایک اچھی ملازمت مل گئی اور اس کے اور اس کے اہل خانہ کے دن عیش سے گذرنے لگے۔
چودھری نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا اب کسی زمیندار یا رئیس کے یہاں سے تو نایاب کا رشتہ آنے سے رہا عادل ایک شریف لڑکا ہے برسر روزگار بھی ہے حالات بھی بہتر ہیں گھر بار خاندان بھی اس کا ٹھیک ہی تھا بس غریبی کی وجہ سے اس کا باپ ہمارے یہاں خان ساماں ہوگیا تھااس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
لہٰذا ایک دن عمدہ تاریخ دیکھ کر عادل اور نایاب فاطمہ دونوں کا عقد ہوگیادونوں کی دلی مراد بر آئی۔
اب نہ کوئی چودھری رہا نہ کوئی خانساماں
دونوں کی مجبوریاں تھیں حالات تھے اور وقت چپ چاپ اپنے دھارے پر بہہ رہا تھا۔

ڈاکٹر کیفیؔ سنبھلی
نمبر دار ہائوس،نوریوں سرائے، سنبھل،اتر پردیش
موبائل:9837759663

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *