تین کٹ چائے  “افسانہ

Profile photo ابراہیمنثار اعظمی

عاجزی انکساری ہمدردی حسن سلوک. لگن جہد مسلسل فقر و استغنا ہر زی روح کی کامیابی کی کلید ہے. لیکن نرم و نازک روح کو اپنے سینے دبا کر تم زمانے کی پتھریلی زمین پر چل نہیں سکتے. کیونکہ اب وہ وہ زمانہ نہیں رہا اور زمانے کے وہ لوگ بھی چلے گئے. پہلے مر جاتے تھے رشتوں کو نبھانے والے اب تو مر جاتا ہے ہے رشتہ ہی برے وقتوں پر. وہ چاہتا تھا کہ ہر کوئی اس کے ساتھ مساویانہ رویہ اختیار کرے شاید اسے اس بات کی خبر نہیں تھی. جبر و تشدد برداشت کرنا بھی گناہ ہے. فاعل سے زیادہ مفعول بھی سزا کا مستحق ہوگا. ایسی شش و پنج میں میں مبتلا وہ ہاتھ کلینڈر لے کر ایک سال کی کارکردگی کا التزام کررہا تھا.کہ مستقبل کا سن ہمارے لئیے باعث افتخار ہوگا یا باعث تحمل. سینکڑوں سال سے بوسیدہ سیاہ دیوار پر معلق گھڑی کی ٹن ٹن کی آواز نے اس کو سوچنے پر مجبور کر کردیا کہ زندگی کا ایک گھنٹہ کتنی چابکدستی اور سرعت کے ساتھ دبے پاؤں نکل جاتا ہے اور میری گرفت میں وہ کبھی نہیں آتا ہے. آج کے دور میں ہر گھڑی دیکھ کر کام کرنے کا خوگر ہوچکا ہے مگر اس ساعت کے دوران کتنا عدل و انصاف کے ساتھ تمام امور کو پایہ تکمیل تک پہنچا تا ہے. اس کی کوئی خبر نہیں. ایک گھنٹے کی صدا وہ بھی ابھرتی ہے جب بچے اپنی جماعت سے باہر نکل جاتے ہیں. دوبارہ اسی گھنٹی کے شور مچانے پر طلبہ واپس اپنے کمرہ جماعت میں واپس آتے ہیں. یہان پر وہ سارے بچے اس جرس کے پابند ہیں. ایک ملازم اپنے مالک کی بیل کا پابند ہے جس کے سارے حکم بجالاتا ہے. بچے بھی گھنٹی کی آواز کو سن کر ہی اپنے دوسرے مضمون کی طرف راغب ہوتے ہیں. لیکن یہ عقل سلیم کا مالک جسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اذان کی سریلی و مترنم آواز پر بیدار کیو نہیں ہوتا…….

ویسے بھی نو مولود ننگ دھڑنگ بچے کے گوش میں اذان کے کلمات گونجنے سے اس ننھے کی نظروں کے سامنے اس جہاں کی تصویر نمایاں ہوتی ہے. رفتہ رفتہ اس کی جسامت میں تغیر وتبدل واقع ہوتا ہے تو اس فانی عالم کی تمیز ہوتی ہے. والدین کے احکام و فرامین سے شخصیت کا فروغ ہوتا ہے. عنفوانِ شباب میں داخل ہونے کے بعد سماجی معاشی سیاسی اقتصادی تعلیمی اور تہذیبی افتراق کا علم ہوتا ہے.
وہ یہ ساری باتیں ٹیبل کو صاف کرتے ہوئے اپنے ذہن وقلب میں سوچتا ہے. جس کے چاروں طرف سے لوگ ٹیبل کے سامنے کرسی پرمدور بیٹھے ہوئے ہیں. ہر کس و نا کس اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی غرض سے یہان حاضر ہوتا ہے. کچھ دیر ٹھہر نے کے بعد اپنے سارے دکھ درد کو دھوئیں کے کش میں اڑاتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ دل کا غبار زایل ہوگیا. واجد ہر آنے جانے والوں کو غور سے دیکھتا ہے. اور موازنہ کرتا ہے کہ ان لوگوں کی بھی ایک زیست ہے جو میری زندگی کے بر عکس ہے.
آج صبح سے ہوٹل میں جمع غفیر لگا ہوا تھا ہر کسی کے زبان سے بس ایک الفاظ واجد کے کانو سے بار بار ٹکرا رہے تھے . آج تو سال کا آخری دن ہے. آنے والا سال ہمارے لیے کیا خوشیاں لانے والا ہے لوگ چائے پیتے ہوئے تخمینہ لگا رہے تھے. ٹیبل نمبر دو کا واجد ذمدار تھا جو کہ بالکل صدر دروازے سے منسلک تھی ہر کوئی اسی میز پر بیٹھنے کو سعی کرتا اور کامیابی بھی ملتی تھی. مگر واجد کی پریشانی اور بڑھ جاتی ایک لمحہ کے لیے دم لینے کی فرصت نہیں ملی.
واجد چاہتا ہے کہ کبھی فرصت سے بیٹھ کر آنے والے سال کے بارے میں کچھ غور وخوض کرے. کچھ نئے طرز پر زندگی گزارنے کا لائیحہ عمل تیار کرےلیکن جیسے ہی اپنے قلب و ذہن کو یکجا کرنے کی کوشش کرتا ایک نئے گراہک کی صدا بلند ہوتی. تین کٹ چائے لائو بھای زرا کڑک گلاس صاف دھول کر. واجد جو کہ اپنے ایک پیر سے معذور ہے. جب بھی اس کا دیدار ہوتا وہی ایک لباس پرانی جنس اور سفید رنگ کا شرٹ جس کی سفید سیاہی میں مائل ہوچکی تھی زیب تن کیے نظر آتا ہے سر پر مسلمانیت مہر کے طور پر سیاہ کلاہ پہنے ہوئے اپنی ڈھیر ٹانگوں کی مدد سے مسکراتے ہوئے ہر کسی کو چائے سگریٹ پیش کرتا تھا. لیکن اس کی بناوٹ اس کے لباس سےنمایاں ہورہی تھی.
ہر خوشی کے پیچھے درد چھپا ہوتا ہے. وہ ایسا درد ہوتا ہے جو بیان سے باہر کیونکہ اس کے قابل کوئی نہیں ہوتا جو اس درد کو اپنا سمجھے. وہ ہر سال اسی طرح زندگی گزارتا ارہا تھا محدود آمدنی کے پیش نظر کوئی تبدیلی تو نہیں واقع ہوئی مگر وہ آج یہ سوچنے پر مجبور ہو ا. کہ وہی دن وہی شام وہی موسم وہی مہینے بار آتے ہیں مگر کوئی تبدیلی تو نہیں ہوتی اگر ہوتی بھی ہے تو صرف ایک ہندسہ کی کیون اس چھوٹی سی تبدیلی کے لئیے لوگ اتنے پروپیگنڈے کرتے ہیں. ہزاروں لاکھوں کی فضول خرچی کرتے ہیں. اگر ان پیسوں سے کسی ضرورت مند کی مدد کی جائے تو زیادہ بہتر ہوتا……………………… …..

افلاس و محتا جگی کی زندگی عرصہ دراز سے گزر رہی تھی. واجد کو اس ہوٹل میں کام کرتے دو سال پائہ تکمیل کو پہونچ چکے تھے.ماضی میں والد کا انتقال کے بعد گھر کی زمداری واجد بہت بحسن خوبی انجام دے رہا تھا. ماں دو بھائی اور تین بہنوں کی دیکھ ریکھ اس کا فرض اولین تھا.
. پھٹے پرانے کپڑے میں اپنی زندگی گذار کر بہن بھائی کو آرام و سکون کی خاطر بڑی محبت و لگن کام کرتا تھا.
کبھی کبھی لوگوں کے تیکھے طنزیہ جملے بھی برداشت کرنے پڑتے. مالک کے بہینانہ رویہ کو ہنستے ہوئے سہ لیتا. کبھی کسی کے ہاتھ سے گلاس ٹوٹ جاتا تو اس کی تنخواہ میں سے پیسے بھی کا ٹ لیے جاتے. لیکن آج کی پریشانی اس کے چہرے اس طرح عیاں ہورہی تھی جس کو وہ اپنے مسکراتے ہوئے چہرے سے دبانے کی کوشش کررہا تھا.
صبح مالک سے بات بھی کیا تھا کہ آج اسے پیسے کی ضرورت ہے. لیکن مالک کے دل میں یہ بات بیٹھ گئ تھی کہ شاید اسے بھی آج کچھ نئے سال کے پیش نظر گھر پر جشن کرنے کا ارادہ ہے. اس نے قطعی طور پر پیسے دینے سے منع کر دیا. حالانکہ اس کی ماں ڈیرہ سال سے تپ دق کے مرض میں مبتلا تھی. بہن بھائی کے اسکول کی فیس بھی جمع کرنی تھی. اسکول والوں نے آنے والے سال میں اسکول کی فیس جمع نہکرنے کی صورت میں اسکول سے نام خارج کرنے سے دو بار آگاہ کر چکے تھے. اپنی محدود آمدنی میں ماں کا علاج اور اسکول کی فیس کی ادائیگی کے لیے شش و پنج میں مبتلا واجدکوئ حتمی فیصلہ کرنے میں ناکام رہا. کبھی کسی گاہک سے بخشش کے طور پر ملے پیسے اپنی جیب چپکے سے رکھ لیتا. لیکن مالک کی نگاہ اس پر بھی عقاب پرندے کے مانند ہوتی تھی. گاہ بہ گاہ اس طائرانہ نظر سے واجد کو مایوس ہونا پڑتا چاروناچار اپنے جزبات کو ضبط کرکے پیسے واپس پس کردیتا.
اپنی بے بسی اور مجبوری اگر کہے تو کس سے کہے اس کے دل میں یہ بات بھی بار بار کچوکے لگا رہی تھی.
اگر ایک بار کسی سے  اپنی مجبوری بیان کردی تو اس کی نگاہ میں میری کوئی عزت نہیں رہے گی.
راز کی بات اسی سے بیان کرنا چاہیے جس میں چھپانے کی طاقت ہو. کبھی کبھی دلی جزبات کا اظہار رسوائی کا سبب بن سکتا ہے.
وقت کے بدلنے کا منتظر واجد اب چند دونوں سے مایوس نظر آنے لگا. آس کے اور خواب پاش پاش ہوتے ہوئے معلوم ہورہے تھے.اچانک چند روز گزرنے کے بعد واجد ہوٹل سے غائب سے رہنے لگا. مسلسل کئ دن گزر گیے مگر واجد کی واپسی نہیں ہوئ کوئی خبر نہیں ملی. ادھر ہوٹل میں تمام لوگ صرف واجد کو آواز لگاتے مگر اس کی غیر حاضری ہونے سے لوگ وقتی طور پر متعجب ہوتے. کچھ غلط فیصلے لوگوں کے لئے نقصان کا باعث بن جاتے ہیں مگر اس کی خبر کان و کان نہیں ہوتی. مالک کی خود غرضی واجد کو ڈیوٹی آنے سے روک دی………
مسلسل واجد کی غیر حاضری مالک کی پریشانی کا سبب بن گئی. دن بھر گراہک کا جو تانتا اور جمگھٹا لگا رہتا تھا اس میں کمی واقع ہونے لگی. گاہک ٹوٹنے لگے تھے چائے کے زایقے میں کمی ہوتی چلی گئی. اتفاق سے ایک دن شہر بندی کا علان ہوگیا. مالک نے موقع کو غنیمت سمجھ کر صبح سویرے واجد کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا. شہر سے پندرہ کلومیٹر کی دوری پر واجد کا گھر تھا.
سواری کا کوئی انتظام نہیں کیونکہ آج کاروبار دوکانے گاڑی سب بند تھے. موٹر سائیکل پر سوار ہوا راستے میں سرد ہواؤں کا تیز تند جھونکا مالک کے بدن کو لرزاں کررہا تھا کھیتوں کے درمیان سے تنگ راستہ کبھی سامنے سے تیز-رفتار آتی ہوئ گاڑی مشکل کاسبب بن رہی تھی. پیچھے سے اڑتے ہوئے گردوغبار کو جھیلتے ہوئے بڑی مشکل سے راستہ طئے ہوا. دسمبر کامہینہ ہونے کی وجہ سے کھیتوں کے اطراف ہریالی نمایاں تھی اس کے درمیان سے سوندھی سوندھی اٹھتی ہوئی خوشبو تفریح و استراحت پہونچا رہی تھی.
اگلے چورستے پر رک کر کسی سے واجد کے گھر کے بارے میں دریافت کیا. معلوم ہوا کہ دائیں جانب راستے پر آدھے کلو میٹر کی دوری سے ایک کچا راستی جاتا ہے. اسی راستے میں ایک پرانا برگد کا درخت ہے جس کے سائے میں واجد کا گھر ہے. ویران سن سان علاقہ دور دور تک کوئی گھر کا آتا پتہ نہیں. مالک گاڑی پر سوار اس وہم و گمان میں اسی راستے پر چل نکلا. اچانک اپنی موندھی ہوئی آنکھوں کو شہادت کی انگلی سے صاف کرتے ہوئے آنکھوں کا مچمچاتے ہوئے دیکھا کہ وہ برگد کا قدیم درخت اپنی جسامت سے اس گھر کا پتہ دے رہا تھا. قریب جا کر دیکھا تو ایک کچی دیوار کا پر بنا ہوا گھر جس کی چھت کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی بالکل بوسیدہ حالت میں مائل کہ اگر ماچس کی تیلی کی ایک چنگاری لگ جائے تو ایک لمحہ میں جل کر خا کستر ہوجائے. مالک گھر کے دس قدم کی دوری پر گاڑی کو کھڑا کردیا. اور آہستہ آہستہ گھر کے اندر آتی ہوئی کراہٹ  اور سسکیوں  پرغوروفکر کرنے لگا.
سوچنے پرمجبور کی عیاں یہ گھر واجد کا ہے یہ پھر کسی اور کا ہے. جیسے ہی دروازے کے قریب پہونچ کر دستک دینے کے لیے زنجیر پر ہاتھ رکھا ایک لمحہ کے لیے سوچا کہ کہیں دروازہ گر نہ جائے. اسی شش و پنج میں مبتلا ہوکر ہواس درست کرتے ہوئے زنجیر کو حرکت دی. اندر سے ایک بچے نے سسکیاں لیتے ہوئے دروازہ کھول دیا اور باہر آکر بچائو  بچائو کہ صدا لگانے لگا. میری امی کو کوئی تو بچائے. میری ماں بہت تکلیف میں ہے. سامنے لگے ہنڈ پائپ سے چلو میں پانی لیکر اندر داخل ہوا. پیچھے سے مالک بھی اندر وارد ہوا تو دیکھتا ہے کہ واجد اپنی ماں کے سرہانے بیٹھا زاروقطار رورہا ہے اور پائتانہ پر اس کی دونوں بہنے بیٹھی سیپارہ لیکر اپنی نمناک انکھ کے ساتھ پڑھ رہی تھیں.
ایک لمحہ کے لئیے مالک کی روح کانپ اٹھی واجد کے قریب جاکر سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا.
. کیا ہوا واجد…
مالک مالک میری امی.. آواز روندھ گئ…..
کوئی بات نہیں بیٹا سب ٹھیک ہوجائے گا….
چپ ہوجائو…. دعا کرو اللہ بہت کا ر ساز ہے…. ماں کی حال بہت ابتر ہوچکی تھی سارے اوسان ساکت تھے ہونٹ اور ناک کے درمیان ہاتھ انگلی رکھنے سے احساس ہوتا کہ ابھی سانس چل رہی ہے. ایک میلے کچیلے چادر سے پائتانے سے کندھے تک ڈھانک دیا گیا تھا. مالک سے یہ حالت برداشت نہیں رہی تھی. اس نے واجد کو کندھے سے پکڑ کر وہاں سے باہر لایا. سامنے رکھی چارپائی جو کی اپنی قوت و طاقت سے محرومی کی زندگی گزار رہی تھی. اس پر واجد کو بیٹھایا.
. کیا بات ہے واجد تم نے کچھ بتایا نہیں کہ ماں کی انتی حالت خراب ہے….
واجد جو کہ مسلسل رونے کی وجہ سے اس کا گلا بیٹھ گیا تھا آنسوؤں کی روانی اس قدر ہوئ کہ گریبان تر ہوچکے تھے اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے سر پکڑ کر آہیں اور سسکیاں لے رہتا. کوئی جواب نہ پاکر مالک نے پھر سوال کیا…..
اور تم بغیر کچھ کہے غایب ہوگیے…… اس بار واجد تھوڑی ہمت جمع کرکے بولا..
کیا بتائوں مالک آپ سے کہا تھا لیکن آپ کو میری بات کا یقین نہیں ہوا..
میری ماں کی طبیعت چھے مہینے سے خراب چل رہی ہے اس کے پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا ہے….
پھیپھڑوں میں پانی حلول کرگیا ہے یہ تو بہت برا ہوا…….
ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا مگر پیسے نہ ہونے سےعلاج کرنے سے منع کردیا کچھ دوائیاں ادھار دی تھیں جو پچھلے پانچ دن سے ختم ہوچکی ہیں.
پانچ دن سے اللہ. اور تم نے مجھ سے کیوں نہیں بتایا. میں دوائی کے پیسے دیتا.
اپنی تیز تیز سانسوں سے واجد بول رہا تھا….. …… ………… ………
یہان کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا سب کو صرف اپنے آپ کی فکر ہوتی ہے کون مرتا ہے کون جیتا ہے کس کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے کسی کو کسی سے بھی کوئی سروکار نہیں.
.. نہیں واجد ایسی بات نہیں ہے تم دس دن سے ہوٹل نہیں آئے اس لیے میں تمہاری تلاش میں آیا ہون. لیکن یہان کا منظر کچھ ہے جو میرے خواب و خیال میں نہیں تھا.
ہان صاحب آپ بڑے لوگ ہیں ہم غریبوں کی زندگی سے آپ کو کیا واسطہ ہوگا. سامنے بیٹھے چھوٹے بھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو کی مسلسل رو رہا تھا.. آپ کو پتہ ہے اسکول والوں نے اسے بھگا دیا ہے کیونکہ اس کی فیس میں جمع نہیں کرسکا گھر میں دوبہن ہیں ان کی تعلیم بھی منقطع ہوچکی ماں کی دیکھ ریکھ کے لیے. گھر میں راشن بھی نہیں ہے کی ماں کا پیٹ بھر سکے. جس سے اس کی کمزوری اور لاغری دور ہو اس میں تھوڑی طاقت آجائے..
واجد بیٹا اس دنیا میں دکھ بیماری کسی کو بتا کر یا پہچان کر نہیں آتی یہ سب خدا کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے. اس میں کوئی بھی کبھی بھی مبتلا ہوسکتا ہے.
تم کو پتہ ہے میرے بڑے بھای جن کی شادی کے صرف چھ مہینے ہوئے تھے اچھے بھلے خوش مزاجی کا کوئی جواب نہیں رات کو سب کے ساتھ مل کر کھانا کھایا ہے ہنسی خوشی باتیں کیں پھر شب بخیر بو ل حجرہ عروسی میں آرام کر کرنے کے لئے چلے گئے. لیکن جب صبح ہوئی تو پھر ان کی آنکھیں آج تک نہیں کھل سکیں. میری بھاوج جو ابھی عدت میں ہیں ان سے یہ غم برداشت نہ کرنے کی وجہ سے دماغ کی رگ دب چکی ہے. اب عدت میں ہونے کی وجہ گھر سے باہر لے جانا مناسب نہیں ہورہا ہے گھر پر ڈاکٹر اس کا علاج کرتے ہیں.
یہ بھی غم ہیں جس کا میں شکار ہوں لیکن کسی کے سامنے بیان نہیں کیا.
یہ زندگی ایک نعمت ہے اور ہم سب کو اس نعمت کی حفاظت کرنی ضروری ہے بشرطیکہ کوئی خوشی سے جیتا ہے کوئی دکھ تکلیف کے ساتھ گزارا کرتا ہے.
اور پتہ ہے انسان کو کبھی بھی کسی بھی حال میں مایوس اور ناامید نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صبر اور امید ہی انسان کو زندہ رہنے کے لیے مجبور کرتی ہے.
چلو اٹھو جلدی سے منہ ہاتھ دھولو چلو میرے ساتھ…
کیا کہا…. کہان جانا ہے. میں اس حالت میں ماں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا.
ہان بھائی میں بھی وہی کہ رہا ہوں اپنی امی کو ساتھ لیکر چلو دوا خانہ چلتے ہیں.. شہر جاکر اچھے ڈاکٹر سے ماں کا علاج کرائیں گے. چلو جلدی کرو ورنہ بہت دیر ہوجائے گی.مالک کی تسلی آمیز بات سن کر واجد کوٹھوڑی ڈھارس بندھی.ٹھیک ہے میں ابھی امی کو ساتھ چلنے کے لیے تیار کرتا ہون واجد اپنی ڈیڑھ ٹانگو کی مدد سے بڑی سرعت کے ساتھ کھڑا ہوکر جانے لگا ایسا معلوم ہورہا تھا کہ آج اس کی دونوں ٹانگیں مکمل ہوچکی ہیں. دونوں ساتھ مل کر ماں کو ساتھ گاڑی پر بیٹھا یا اگر چہ کی واجد کی ماں گاڑی پر بیٹھنے کے قابل نہیں تھی مالک کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا راستہ بھی بہت طویل ہے قریب میں کوی دوا-خانہ بھی نہیں ہے. اچانک مالک نے اپنے گلے سے مفلر نکالا جو کی سردی سے بچنے کے گردن میں لپیٹ رکھا تھا. ایسی حالت میں سردی کے بجاے اس کے ماتھے سے پسینے آنے لگے تھے. ماں کو اپنے پیچھے بئٹھا کر مفلرکو ماں کی کمر کو پیچھے سے لگا کر اپنی کمر میں کس کر باندھ لیا اور واجد سے کہا تم پچھے بیٹھ جاو. واجد کے بیٹھتے ہی تیز رفتاری کے ساتھ مالک نے موٹر سائیکل چالو کردی اور برق رفتاری کے ساتھ وہان سے روانہ ہوئے. شہر پہونچ کر ماں کو ایک اچھے اسپتال میں داخل کرایا. جہان پر ماں زیر علاج رہی. مگر موت کو کون ٹال سکتا ہے جو ہونا تھا ہو کر رہ گیا ماں واجد کو چھوڑ کر جاچکی تھی واجد پھر اپنی ڈیوٹی پر روان دواں ہوگیا
… تین کٹ چائے لاو بھائی. ایک دن مالک کے بھاوج کی عدت پوری چکی تھی گھر میں چھوٹی تقریب کا نظم بھی کیا گیا تھا مالک نے واجد کو آج نئے کپڑے بھی دلائیے تھے اور کہا کہ آج شام کو گھر دعوت ہے شام کو ہوٹل زرا جلدی بند کرکے آجانا. شام ہوگی واجد نئے کپڑے میں بہت خوشی محسوس کررہا تھا. دن میں ماں کو کئ بار یاد کیا. کیونکہ ماں بار بار اسے نئے کپڑے لینے کے لئے کہا کرتی تھی. اسی وہم و گمان میں ہوٹل بند کرکے مالک کے گھر کی طر ف نکل رہا تھا کی سڑک پار کرتے ہوئے ایک پیر جلدی نہ اٹھنے کے باعث ایک ٹرک جو کہ بہت تیز رفتاری کے ساتھ آیا اور واجد کی اس کی زد میں آنے سے موت واقع ہوگئی
ابراہیم نثار اعظمی ۔
9036744140

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *