افسانہ ۔بکے ہوئے چہرے۔صبیحہ سنبل

 

Sabiha Sumbul's Photo'

 

چھوٹو،چھوٹو، چھوٹو۔ بنٹی تقریباً دوڑتا ہوا چھوٹو تک پہونچا اور اپنی سانسیں درست کرتا ہوا بولا چل جلدی اٹھ،کام آگیا ! کیا؟؟ ،وہ مارا ، چھوٹو یوں اٹھ کھڑا ہوا جیسےاسے کرنٹ لگ گیا ہو اس کی آنکھوں میں ایک وحشت ناک چمک لہرائی، یار یہ تو بڑا اچھّا ہوا ورنہ مجھے لگنے لگا تھا کہ جیسے ہاتھ پاؤں میں زنگ ہی لگ جائے گی۔ چل چل جلدی اٹھ بنٹی بولا ابھی دوسروں کو بھی ،خبر ،دینی ہے اور دونوں ایک جانب روانہ ہو گئے- کچھ دیر بعد ایک بڑا گروپ گلی کے نکڑپر دکھائی دیا جس کے منہ پر ڈھاٹے بندھے تھے ہاتھوں میں ڈنڈے،سریئے اور تخریب کاری کی دوسری اشیاء موجود تھیں اس گروپ کو بنٹی لیڈ کر رہا تھا! اِدھر کئی دنوں سے جگہ جگہ کسی بل کے خلاف جو حال ہی میں پاس ہواتھا ،لوگ پر امن طریقے سے پرو ٹیسٹ کر رہے تھے بھلا اس شہر کے تعلیمی ادارے کے طلباء کس طرح پیچھے رہتے انہوں نے بھی اس احتجاج میں اپنی حصہ داری درج کرادی اور پرسکون طریقے سے جلوس نکالنے کی اجازت بھی مل گئی، پرامن طریقے سے یہ جلوس اپنی مانگ کےساتھ سڑک پر رواں دواں تھا اور اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ کب بنٹی گروہ کے لوگ ان کے گروہ میں شامل ہو گئے ان دنوں اکثر لوگ زہریلی ہوا کے مضر اثر سے بچاؤ کے لئے ماسک پہنتے ہیں ڈھاٹا بھی لگاتے ہیں سو دھاٹوں پر بھی کسی کی خاص توجہ نہیں ہوئی- اب یہ احتجاجی گروہ اس علاقے میں تھا جہاں کئی بسوں کا آنا جانا رہتا تھا ! اچانک پرسکون ریلی میں ہڑ بونگ سی مچ گئی کچھ کے تو سمجھ میں بھی نہیں آیا کہ کیا ہوا، اس گروپ سے بے چہرہ لوگوں نے پتھر بازی شروع کردی بسوں کے شیشے توڑ ڈالے اور پھر ان کو آگ بھی لگاد ی کچھ بسوں سے مسافر اتر کر بھاگے اور اپنی جان بچائی پولس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور طلباء کو کھدیڑا کافی طلباء زخمی ہوئےاوراب ڈھاٹے والوں کادور دور تک پتہ نہ تھا! پولس تعلیم گاہ کے کیمپس میں مجرموں کی تلاش میں گھسی اور وہاں بھی اپنے ظلم کے مظاہرے کے بعد کچھ بے قصور طلباء کو قبضہ میں لیکر باہر آگئی دوسری طرف اک سنسان گلی میں بنٹی اور چھوٹو فتح یاب مسکراہٹ لبوں پر سجائے شاید کسی کے منتظر تھے کہ اچانک انکے قریب ایک کالی موٹر آکر رکی اور اگلی سیٹ کا شیشہ کھلا جس میں سے ایک ہاتھ باہر نکلا اس میں ایک پیکٹ دبا تھا وہ باہر بنٹی کی سمت اچھال دیا گیا اور آواز آئی شاباش بہت اچّھاکام کیا جاؤ اب عیش کرو۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
صبیحہ سنبل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *