افسانہ ادھوری خواہش .افسانہ نگار ابراہیم اعظمی

 

 

 

صبح کے نمودار ہوتے ہی وہ اپنے کیچن کی طرف گامزن ہوجاتی تھی ۔گھر کا سارا کام کاج اس کے ذمہ تھا ۔بھائی بہنوں کی دیکھ بھال ماں باپ کا خیال رکھنا ،چھوٹے چھوٹے بچوں کی خبر گیری کرنا یہ سب اس کا فرض اولین تھا ۔جلدی جلدی ناشتہ بناتی ،پھر سب کو کھانے پر بلاتی سب سے پہلے اپنے ابو کو چائے دیتی ۔عظمی کے والد صبح فجر کی نماز کے بعد چہل قدمی کے لیے باہر نکل جاتے اور واپس گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے عظمی کو آواز دیتے تھے۔
عظمی بھی اسی خیال میں جلدی سے چائے تیار رکھتی اور ان کے آتے ہی پیش کردیتی۔عظمی اب اس خاندان کی سب سے آخری بیٹی تھی ۔اور بن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی ۔دینداری اس کے اندر رچی بسی تھی ۔کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیتی تھی ۔ہر ایک کی خواہش کو مکمل کرنے کی کوشش کرتی ،اسی وجہ سے کے ہر فرد کی نور نظر بنی ہوئی تھی ۔
سب کو ناشیہ دینے کے بعد وہ اپنے اسکول کے لیے روانہ ہوجاتی،ابھی اسی سال اس نے ایم اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک پرائیویٹ اسکول میں ملازمت کرنے لگی تھی ۔گھر کی ساری مصروفیات کوپورا کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے کیریر پر دھیان رکھتی تھی ۔دن ،مہینہ ،سال چین و عافیت سے گزر رہاتھا ۔اچانک ماں کی طبیعت خراب ہوگئی ،وہ دمہ کی مریض ہو چکی تھی ۔لمبی بیماری کے ساتھ ساتھ عظمی کی زندگی میں تغیر و تبدل ہونے لگا ،اس کی بیماری کے چلتے بہنوں کی شادیاں بھی ہوگئی ۔دھیرے دھیرے ساری بہنیں گھر سے رخصت ہوگئیں۔اب گھر کی ساری ذمداری عظمی کے سر پر تھی ۔

عظمی کی بھی خواہش تھی کہ ماں کی ذندگی میں  اس کا گھر سنور اور بس جاے ۔مگر ناکامی ہاتھ لگی عظمی کی بھی خواہش تھی کہ ماں کی ذندگی میں  اس کا گھر سنور اور بس جاے ۔مگر ناکامی ہاتھ لگی  اور ماں چل بسی ماں  کے رخصت ہونے کے بعد بڑے بھائی الگ رہنے لگے پیار محبت انسیت سب اس گھر سے رخصت ہوچکے تھے ۔جی بہلانے کے لئے اس نے اسکول جوائن کیا تھا ۔مگر وہاں بھی اسے سکون میسر نہ ہوسکا ۔پھر بھی وہ سارے کام کاج کے باوجود ،اپنی خواہش مکمل کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ۔
جذبات و احساسات ہر کسی کے دل میں پوشیدہ ہوتے ہیں،دوست احباب کے ساتھ ملنا جلنالگا تھا ان کے باتیں سن کر اب عظمی کے دل میں بھی جذبات ہلکورے لگانے لگے ۔کسی کے ازدواجی زندگی کے بارے میں باتیں سن کر دل مسوس کر رہ جاتی ۔ابھرتے ہوئے جذبات کو دبانے کی نامکمل کوشش کرتی ۔باپ کا سایہ اس کے سر پر ماں کے گذر جانے بعد بھی تھا جب کبھی وہ عظمی کو اداس دیکھتے تو اس کا جی بہلانے کی کوشش کرتے ۔گھر میں داخل ہوتے ہی عظمی کو آواز دیتے ،وہ دوڑی ساراکام چھوڑ کر والد کے پاس آجاتی اور خیریت دریافت کرتی ،اسکول سے آنے کے بعدکھانا بنا نے اور گھر کی صفائی میں جٹی رہتی ۔
کالج کے دنوں میں اس کی زندگی بہت خوشگوار تو نہیں تھی ،پھر بھی اس نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا ۔گھر کے نصف آرام و سکون کے ساتھ ساتھ نیم خوشی میں اس کے دوست بھی شامل تھے ۔مگر کبھی کسی پر اپنی اداسی کو ابھرنے نہیں دیا ۔اس کی کلاس میں ایک حسین خوبرو جوان تھا جو کبھی کبھی کن انکھیوں سے عظمی کو دیکھ لیا کرتا تھا ۔اور اسی طرح سے اچنتی نگاہ سے عظمی بھی اس کی شکل وشباہت کا طواف کرلیا کرتی تھی ۔موقع کی تلاش کے بعد عظمی کو ملاقات کا شرف حاصل تو ہوا ۔دوستی ہوئی ساتھ میں اٹھنا ،بیٹھنا،ملنا،باتیں کرنا بھی شروع ہو گیا ۔
وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کامل بھی اسے بہت چاہنے لگا تھا ۔مگر اس کی شادی ہو چکی تھی اس لیئے بہت حساس تھا ۔اور دل کے جذبات اسے بار بار عظمی کی طرف دعوت نطارہ دیتے رہے ۔
عظمی کے دل میں اس کے لئے بہت عقیدت رہتی تھی ۔صوم وصلواۃ کی پاندی اس کے دل میں گھر کر گئی تھی ۔بات بات میں انشااللہ کا واسطہ دینا اس کا تکیہ کلام بنا ہوا تھا ۔اور عظمی کو یہ چیز بہت پسند آگئی ۔کبھی کبھی اس کی خواہش ہوتی کہ جاکر اسے خوب باتیں کرے ۔مگر کالج کے دوسرے ساتھی بھی کبھی ان دونوں کو موقع عنایت بھی نہیں کرتے ۔دیکھتے دیکھتے دو سال پورے ہوگئے امتحان کے بعد دونوں اپنے راستے پر گامزن ہو گئے اس وعدہ کے ساتھ کی شاید اگرہم زندہ رہے تو زندگی کے کسی موڑ پر انشا اللہ پھر ملاقات ہوگی۔
انسان کی زندگی میں ایسے موڑ آتے ہیں کہ نا چاہتے ہوئے بھی اس میں ڈھل جاتا ہے۔پھر اس ماحول اور وقت کو کیر آباد کرنا پڑتا ہے ،اس کے بعد صرف اس لمحے کی یاد آتی ہے ۔ کامل سے جدا ہوئے اج ایک سال ہو گئے تھے ۔اسکول سے نکلنے کے بعد وہ بس اسٹینڈ پر کھڑی بس کا انتظار کرہی تھی،آج اس نے نقاب پہن رکھا تھا ۔اتنے میں اس کے سامنے سے ایک باریش نو جوان گذرا ،ایک لمحہ کے لئے عظمی سہم سی گئی ۔سفید پائجامہ ،داڑھی سے معمور ،سر پر عمامہ ،اسے دیکھتے ہی عظمی کے دماغ کامل کی تصویر گھومنے لگی ۔دماغ کے سارے دروازے کھل گئے تھے اس مین داخلی ہوکر کامل کا سراپا ناپنے لگی ،ایک دروازے سے خیال آیا کہ کہیں یہ کامل تو نہیں جس سے میری شناشائی رہی ۔
ــ’’ لیکن اس کے اندر ایسی تبدیلی کیوں ہو گئی؟‘‘
اس کے پیچھے ایک عورت نقاب میں دو بچوں کے ساتھ کھڑی تھی ۔اور کامل نے بھی کبھی اسے اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں ذکر نہیں کیا تھا ۔ابھی یہ سب عظمی سوچ رہی کی اچانک بس آگئی اور وہ اس پر سوار ہو گئی ۔مگر اندر سے بے چین ہو گئی ۔گھر پہونچ عظمی کامل کے پرانے نمبر تلاش کرنے میں جد وجہد کی ۔کافی محنت کے بعد نمبر مل گیا ،ڈایل کیا اور ادھر سے دھیرے سے اواز آئی
’’ہلو‘‘
’’جی کون ؟‘‘
’’السلام وعلیکم‘‘
’’وعلیکم السلام ،اور کیسے ہو ؟؟‘‘
’’اللہ کا شکر ہے ‘‘
ــ’’ٓآپ کا مل بات کررہے ہو‘‘
’’جی ہان میں کامل،اپ کون ؟؟‘‘
’’میں عظمی تمہاری دوست پرانی کلاس میٹ ‘‘
ایک لمحہ کے لئے کامل کے بدن میں جھر جھری سی آگئی ۔
’’اور بتاو کیسی زندگی گذرہی ہے ‘‘
چھٹی کے اتنے سالوں بعد آج میں نے تم کودیکھا تھا ‘‘
تم اپنے بیوی بچوں کیساتھ کہیں جا رہے تھے ۔کب تم تمہاری شادی ہوئی اور تم نے کبھی بتایا بھی نہیں کی تمہاری شادی ہوچکی ہے۔
’’عظمی نے اسطرح سے کئی سارے سوال کر دیئے ‘‘
اتنا سننا تھا کی کامل کے حواس باختہ ہو گئے
’’اوہ ارے ارے ‘‘ وہ وہ بتانے کا موقع نہیں ملا ۔
شادی تو بہت پہلے ہوچکی تھی مگر
’’مگر مگر کیا ‘‘
’’ چھوڑو جانے دو اب مجھ سے کبھی رابطہ مت کرنا ۔اللہ حافظ
فون کٹ کرکے عظمی کامل کی بے بسی پر سوچنے لگی ۔اسے اب کامل سے گھٹن ہونے لگی تھی۔شاید عظمی کے دل میں بہت سارا پیار بسا ہوا تھا ۔مگر آج کے نظارہ نے وہ سارے خواب ٹوڑ کر رکھ دیا ۔
اس واقعہ کے بعد سے عظمی بہت اداس رہنے لگی ۔ان اسے ہر ذات پر سے بھروسہ ختم ہو گیا تھا جب کسی رشتے کی بات ہوتی تو اسے اپنا گذرا ہوا زمانہ یاد آنے لگتا ہے اور غصے میں مردوں کو برا بھلا کہنے لگتی کبھی خود کو کوسنے لگتی ۔اس طرح سے وہ بہت اداس اور غمگین ذندگی میں مبتلا ہوگئی ،ہزاروں خواہش اس کے دل میں بسی پر کبھی کسی کے سامنے ظاہر نہیں کی ۔اچانک ایک دن اسے کسی رانگ نمبر سے میسج آناشروع ہو گیا ۔
ہزار بار اس کو منع کرتی رہی مگر اسے تسلی نہیں ہوئی اس نے عاجز آکر بات کرنا شروع کردیا کہ شاید اس سے ہماری بات بن جاے ۔تعارفی انداز میں بات ہوتی رہی،لیکن عظمی کع سرفراز پر یقین نہیں ہوا ۔اچھا خاصا لڑکا تھا خوبصورت تھا اچھی جاب تھی ۔آہستہ آہستہ اس کے ساتھ دوستی کے قدم آگے تو بڑھے مگر بے چینی کے عالم میں ۔سرفراز کومحسوس ہوا کہ شاید وہ مجھ سے مطمئن نہیں ہے ۔اس نے کال کرنا بند کردیا ۔بات بند ہو گئی ۔پہلے تو عظمی انکاری انداز میں بات کرتی رہی ۔اب سر فراز سے بات بند ہونے کے بعد وہ بے چین ہونے لگی ۔کہ آکر بات کیا ہے سر فراز بات کیو ں نہیں کرتا ۔؟؟
اب سرفراز اسے آزما رہا تھا کہاگر وہ کسی سے بات کررہی ہوگی تو میرے میں دل چسپی نہیں لے گی ۔دوسری طرف عظمی کے دل مین پھر سے پیار جاگا ،اس نے تعلق بنایا ،بات شادی تک پہونچی مگر سرفراز کے گھر والوں نے اس کی شادی کہیں اور کردی ۔
عظمی نے پھر تہیہ کرلیا کہ اب اپنی زندگی میں کسی کو شامل نہیں کرناہے ۔اور نہ ہی شادی کرنی ہے ۔باپ کی خدمت کو اپنا فرض اولین سمجھا اور کدمت وامہ کا جذبہ اپنے دل میں پیوستہ کرلیا ۔لیکن جب بھی فرصت کے اوقات مں ہوتی تو اس کی آنکھوں سے انسو جاری ہو جاتے ،تڑپتی سسکتی ،آہیں بھری ،پھر اپنی زندگی کو سنوارنے کی ار دل کو سمجھانے کی کوشش کرتی ۔
اسکول جانے کے وقت باہر نکلت تو تمام راستے کامل کو اس کی آنکھیں تلاش کرتی کہ شاید کہیں اس کا دیدار ہو جائے ۔اسکول میں بچوں کے ساتھ اپنا دل بہلانے کی کوشش کرتی ۔کبھی کبھی سرفراز سے بات ہوتی تو آدھے ادھورے انداز میں ۔ایسی حالت میں کوئی عظمی کے دلی جذبات کو پہچاننے والا نہیں تھا گھر کے سارے لوگ اپنے کام سے مطلب رکھتے تھے اسے صرف گھر میں ایک نوکرانی کی طرح سمجھا جاتا۔اب اس کی عمر بھی ڈھل چکی تھی ۔اس کے جذبات منتشر ہونے لگے تھے ہر لمحہ اسے نئے نئے خیالات احساسات و تصورات ستاتے رہتے ،اس سے رہا نہیں گیا ایک رات عظمی نے اپنے کمرے میں پنکھے میں رسی پھنسا کر لٹک گئی ۔۔۔۔
ابراہیم اعظمی ۔۔۔شاہین اکیڈمی بہرائچ۔۔9036744140

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *