افریقہ کےارب پتی کاروباری کا اغوا

تنزانیہ کےاقتصادی راجدھانی دارالسلا م سے نامعلوم بندوق برداروں نے افریقہ کے سب سےکم عمرارب پتی مانے جانے والے شخص کواغواکرلیاہے۔پولیس نے جمعرات کواس بات کی جا نکاری دی۔پولیس ذرائع کے مطابق دیوجی کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ ہوٹل کے جم میں داخل ہورہے تھے۔ سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اغوا کار غیر ملکی ہیں اور انہوں نے جم کے دروازے سے، جسے پہلے ہی سے کھول کر رکھا گیا تھا، اندر داخل ہوئے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ابھی تک کی جانچ سے یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ اغواکار ایک کار سے آئے تھے اور انہوں نے ہوا میں گولیاں چلائی تھیں نیز دیوجی کو جبراً اپنے ساتھ لے گئے۔ اغوا کا مقصد بھی ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے لیکن پولیس اسے تاوان کے معاملے سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔ دیوجی افریقہ کے سب سے کم عمر ارب پتی کاروباری ہیں اور ایم ای ٹی ایل گروپ کے مالک ہیں ان کا کاروبار چھ افریقی ممالک میں ہے۔فوربس میگزین کے مطابق دیوجی کی کل جائیداد 1.5 ارب ڈالر ہے اور وہ افریقہ کے سب سے کم عمر ارب پتی کاروباری ہیں۔ دیوجی نے 2016 میں اپنی نصف جائیداد عوامی فلاح کے کاموں میں خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ دو بار پارلیمنٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور 2015 میں انہوں نے خاندانی کاروبار اور کنبے کو وقت دینے کی بات کہہ کر پارلیمنٹ سے استعفی دے دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *