افغان مفاہمتی عمل کے لیے امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ فریقین میں خونریز جھڑپیں

کابل: افغان مفاہمتی عمل کے لیے امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ فریقین میں خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں،شمالی اور مغربی حصوں میں پرُتشدد واقعات اور حملوں میں درجنوں افغان سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ افغان حکام نے طالبان کے حملوں میں 21 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات میں متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے، مغربی صوبے بدغیث کے گورنر کے ترجمان جمشید شاہابی کے مطابق طالبان کے حملے میں 6 پولیس اہلکار مارے گئے جبکہ شمالی صوبے بغلان کے کونسل رکن شمس الحق نے 7پولیس اہلکاروں کی عسکریت پسندوں کے حملے میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابقافغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے حملوں میں درجنوں سیکورٹی اہلکار ہلاک اور فورسز کی کارروائیوں میں اہم طالبان کمانڈر سمیت متعدد عسکریت پسند مارے گئے۔ صوبہ تخار کے رکن کونسل روح اللہ روفی کا کہنا ہے کہ طالبان نے 8 پولیس اہلکاروں کو گولی مار کرموت کے گھاٹ اتار دیا، قندوز صوبے میں مختلف سیکورٹی چیک پوائنٹس پر حملوں میں متعدد پولیس اور فوجی مارے گئے۔طالبان نے مذکورہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملوں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب بلخ صوبے میں پولیس سے جھڑپوں میں اہم طالبان کمانڈر سمیت 25 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، صوبائی پولیس کا کہنا ہے کہ چہار بولاک میں پولیس کی کارروائی کے دوران جھڑپ میں گروہ کے سرغنہ مولوی بدر ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram