آداب غزل اکادمی کویت کا بڑا کام ۔عروض سکھانےکا کیا اہتمام

رسم پذیرائ کی رپورٹ

 

 

Masood Hassaas's profile photo, Image may contain: Masood Hassaas, close-up

آداب غزل اکیڈمی کویت گر چہ ایک نو زائیدہ تنظیم سہی لیکن قلیل مدت میں اس نے دو طرفہ عملِ درست انجام دینے کے سلسلے کو دراز تر کرنے کی ٹھانی بحمداللہ ازاں بعد کیا بھی .دو طرفہ عمل یوں کہ خورد و کلاں کیلیے ایسے لائحئہ عمل ترتیب دیے جس کے خوش کن نتائج زمینی سطح پہ دیکھنے میں آرہے ہیں
اس تنظیم نے جہاں ایک جانب نو واردانِ سخن کے لیے آداب غزل اکیڈمی کلاس روم ترتیب دیا تاکہ وہ تاعمر دوسروں کے دست نگردی کی مصنوعی بلا سے چھٹکارا حاصل کریں اور اپنے مصارع کی تقطیع ازخود کرتے ہوئے شعری میدان میں خود کفیل بن جائیں
نتیجے میں الحمدللہ نصف درجن سے زائد نو نہالانِ سخن نے قلیل مدتی اون لائن اسباق سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی اپنی پہلی غزل کی تقطیع کرلی ہے جس پہ اولین شخص کو سند اعزاز بھی تفویض کی گئی
وہیں دوسری جانب شعر و ادب کے دھوپ چشیدہ. کہنہ مشق. صاحبِ تصنیف اساتذہ کی خدمات کے اعتراف کا بھی بیڑا اٹھایا جس کی پہلی کڑی ۱۵ نومبر ۲۰۱۹ بروز جمعہ نظر آئی وہ یوں کہ بیک وقت تین ہندوستانی شعرا کی تصنیفات کی رسمِ پذیرائی کا انعقاد کیا
ابراہیم سنگے قاصد. ڈاکٹر عامر قدوائ اور شاہجہاں جعفری حجاب جیسی شخصیات کی شعری تصنیف کے احیائی عمل کو فروغ دینے کیلیے متعدد تنظیم کے صدور و ناظمین کے علاوہ ہندوستانی ادب پرور عوام الناس کی اچھی خاصی تعداد کی موجودگی میں آئی ایم اے کے سرکردہ رکنِ مجلس شوری محترم جناب مقصود عالم کی تلاوت سے ابتدا کی ازاں بعد کمال انصاری کی مترنم آواز میں ڈاکٹر قدوائی کی نعت کے ذریعہ فیوض و برکات حاصل کرتے ہوئے رسمِ پذیرائی کا عملِ مخصوص ادا کیا گیا جس میں اسٹیج پہ بیٹھے تمام حضرات نے کتابوں کے سرِ ورق کی نمائش کرتے ہوئے مصور حضرات کو تصویر کشی کا موقع فراہم کیا
اگلے مرحلے پہ حرف و صوت کے سپاہی. قلم بردار . نشاط کے مدیر جناب صابر عمر نے کوکن کے سبز خطے کے چھوٹے سےگاؤں میں جنمے ابراہیم سنگے قاصد کے فن پہ مضمون پیش کیا آنجناب دورانِ مضمون ان کے چیدہ چیدہ فنّی گوشوں پہ روشنی ڈالتے ہوئے بطورِ دلیل قاصد کے اشعار بھی پیش کردیتے انہوں نے گفتگو دراز کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ ابراہیم قاصد حدود و قیود اور ریکھاؤں سے کبھی نبرد آزما نظر نہیں آتے بلکہ حصول معانی کیلیے دیگر زبانوں کی جانب بھی لپکتے ہیں اور کبھی کبھار نیا لفظ دبوچ کے شعری پیکر عطا کردیتے ہیں
بالاتفاق اسی مشار الیہ غزل کو ابراہیم قاصد صاحب نے ترنم سے پیش بھی کیا جنہیں صابر عمر کفورابعد کلامِ شاعربزبانِ شاعر کی بنیاد پہ آواز دی گئی تھی پروگرام کی پہلی کڑی یہاں پہ تمام ہوئی مگر انسلاکی عمل میں قدرے اضمحلال تک نہ آیا کہ اس سے قبل ہی علمِ معانی وبیان. بدیع و عروض کے عالمی شہرت یافتہ استاد محترم جناب نسیم زاہد صاحب نے ڈاکٹر عامر قدوائی کے فن پہ علمِ بلاغت کے آئینے میں مضمون پیش کیا جس میں مختلف اشعار میں مجاز. مرسل. کنایہ. تشبیہ. تشبیہ بلیغ وغیرہ کی ہیئت کذائیہ پہ بھر پور روشنی ڈالی
نسیم زاہد کی بات جہاں ختم ہوئی تھی وہیں سے شکیل جمشید پوری نے آگے بڑھائی اور اس انجینئرنگ پیشہ روغن و تیشہ بردار نے قلم برداری کے حق ادا کردیے شکیل جمشید پوری کے سائنسی مضامین یورپ امریکہ لندن خلیج جاپان افریقہ کی مختلف میگزینوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں آنجناب نے اسی سائنسی تیکنک کا سہارا لیتے ہوئے ڈاکٹر قدوائی کے فن پہ ایسے گراں قدر جملے جات نصب کیے کہ حاضرین تادیر اس کے اردوانہ شیرینی کے سحر میں گرفتار رہے
یہیں پہ وہ وقت بھی آیا جب حاضرین کی ایماء پر ناظم تقریب نے ڈاکٹر قدوائی کو آواز دیتے ہوئے انہیں کی زبانی انکے کلام سننے کی خواہش ظاہر کی جسے موصوف نے کمال فراخدلی و خنداں پیشانی سے قبول فرمایا
دوسری کڑی کی تکمیل نے تیسری کڑی کو آواز دی نتیجے میں شاہجہاں جعفری صاحبہ کی شخصیت پہ ایک ملخّص مضمون خاکسار نے پیش کیا جس میں بتایا کہ موصوفہ جون ایلیا کی گود میں پلی بڑھیں اور علی سردار جعفری کے زیرِ سایہ تعلیمی مدارج طے کرتی ہوئی اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں ایم اے کیا قلمکاری. صدا بندی و اداکاری کی دنیا میں نام پیدا کرتے ہوئے دلیپ کمار لتا منگیشکر استاد اللہ رکھا مہدی حسن جیسے سیکڑوں آفتاب کا انٹرویو بھی کیا اس مقام پہ شاہجہاں صاحبہ نے اپنے کلام سنایے جبکہ انہیں کی ایک غزل برادرم ندیم مظفر نگری نے ترنم سے پیش کی جس نے تقریب کی کی روشنی میں اضافہ کرتے ہوئے تقریب کو شہہ نشینوں کی جانب موڑ دیا
مہمانِ اعزاز ائی ایم اے جیسی فعّال.ادب پرست. تہذیبی ورثوں کی محافظ جیسی تنظیم کے ادب وِنگ کے انچارج محترم جناب نذیر احمد تھے جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ مصنفین ہماری قوم کا اثاثہ ہیں انہیں کی وجہ سے ہم تک درست طریقے سے دین پہنچا ہے اور پھر شعراء کے کیا کہنے کہ انکی جدتِ طبع حمد و نعت کیلیے ایسے ایسے استعارے و تلمیحات پیش کرتی ہے کہ جس سے آج بھی نعت و حمد میں نو دمیدگی کااحساس بنا رہتا ہے
مہمانِ خصوصی محترم ڈاکٹر ظہیر احمد صاحب نے اپنے تاثراتی بیان میں عشق کو موضوع سخن بناتے ہوئے اقبال و خسرو کے موازناتی گوشے کو سامنے رکھا اور دونوں ہی بزرگان کے فلسفئہ عشق پہ روشنی ڈالتے ہوئے دونوں کے بر موقع بر محل اشعار پیش کیے جس سےحاضرین کے علم میں گراں قدر اضافہ ہوا
کلیدی خطبے کیلیے شمعِ تقریب عالی وقار صدرِ محفل مرزا عمیر بیگ کی خدمت میں پیش کی گیی آنجناب نے اولا تینوں مصنفین سے اپنے تعلقات و روابط کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جن اشخاص کے ساتھ آپ چار گھنٹے بیٹھنے کے بعد بھی فکری اعتبار سے چست درست تندرست و توانا ہونے کے علاوہ حیران کن نشاط سے آراستہ ہوں یقینا وہ لوگ مثبت فکری قافلے کے لوگ ہونگے عالی مرتبت نے آداب غزل اکیڈمی کے قیام کو تحسین آمیز لفظوں سے یاد کرتے ہوئے اس کے اغراض و مقاصد کے ساتھ حالیہ عمل اور اس کے نتائج کو سراہا
اخیر میں یوں بھی فرمایا میں چونکہ ایک سائنٹیسٹ ہوں تو میری تربیت کہتی ہے کہ ہر کام اجتماعی انداز میں کرو اور ہر وہ کام جو آپ سے بہتر کوئ اور کرسکتا ھے اسے کرنے دو بلکہ اس کی مدد کرتے ہوئے استفادہ کرو تو مجھے یقین ہے کہ آداب غزل اکیڈمی وہ سب کرے گی جو میں نہ کرسکا اور یقینا یہ پچاس سال اپنے منشور پہ عمل پیرا رہے گی
میں پچیس برسوں سے کہتا آرہا ہوں کہ ان جیسی محافل کا انعقاد ہم سبھی کیلیے ناگزیر ہے تاکہ ہم ایک دوسرے کے افکار سے استفادے کے مواقع حاصل کریں جس سے بہترین صالح معاشرے کی تشکیل میں معاون و مددگار بنیں.جس کے فورا بعد صابر عمر نے شکرانے کے کلمات ادا کرتے ہوئے حاضرین کو عشائیے کی جانب متوجہ کیا
رپورٹ
مسعود حساس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram