حیوانیت کی بدترین مثال،جموں و کشمیر میں ۹؍سالہ بچی کی اجتماعی عصمت دری

متاثرہ بچی کی آنکھ نکال کر عضو مخصوصہ پر تیزاب ڈال کر قتل کردیا

جموں و کشمیر میں نو سال کی بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کا دردناک واقعہ پیش آیا ہے۔ سوتیلی ماں اور سوتیلے بھائی سمیت پانچ ملزمین کو گرفتار کیاگیا ہے۔ الزام ہے کہ سوتیلی ماں کی موجودگی میں سوتیلے بھائی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بچی سے پہلے اجتماعی عصمت دری کی پھر مار ڈالا۔ پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں بچی کی سوتیلی ماں سوتیلے بھائی سمیت پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بارہمولہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ امتیاز حسین میر نے کہا کہ بچی 23 اگست سے لاپتہ تھی۔ اری کے رہنے والے اس کے والد نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے بتایا کہ بچی کی لاش پاس کے جنگلی علاقے میں سڑی گلی حالت میں بر آمد ہوئی۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ قتل کی جانچ کیلئے ایس ڈی پی او اری کی قیادت میں ایک خصوصی جانچ ٹیم ( ایس آئی ٹی) تشکیل کی گئی ہے۔ میر نے بتایا ، “ایس آئی ٹی نے مشتبہ سے پوچھ گچھ کی اور سوتیلی ماں سے سختی سے پوچھ گچھ کرنے پر نو سالہ بچی کے درد ناک قتل اور ریپ کا انکشاف ہوا”۔پولیس کے مطابق ، ماں نے اپنی سوتیلی بیٹی کو مارنے کیلئے پلان بنایا تھا۔ بچی کو لیکر یہ خاتون جنگل پہنچ گئی۔ وہاں اس کے ساتھ اس کا14 سال کا بیٹا اور اس کے کچھ دوست بھی تھے۔ بچی سے پہلے ریپ کیا گیا اور پھر اس کے سوتیلے بھائی نے کلہاڑی کے ساتھ اس کے سر پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد بچی کی آنکھیں نکال لی گئیں اور پھر اس کے جسم پر تیزاب چھڑک دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *