اگر ہمت سلامت ہے تو یہ جوہر دکھائیں گے
اسی طوفان کو ہم ایک دن ساحل بنائیں گے
تری یادوں کی شمعیں ضوفشاں ہیں دل کی دنیا میں
اندھیرے شامِ ہجراں کے ہمیں اب کیا ڈرائیں گے
تبسم تو ہمارے خون کی گردش میں شامل ہے
مصائب ہوں حوادث ہوں مگر ہم مسکرائیں گے
جو فصلیں ہو چکیں برباد ان کو بھول جانا ہے
ارادہ کیجئے کہ پھر نئ فصلیں اُگائیں گے
کسی نے پیار کی نظروں سے بس اک بار دیکھا ہے
بنانے والے سو سو طرح کی باتیں بنائیں گے
ہمارے قلبِ مضطر کی جنوں سامانیاں توبہ
یہ سوچا ہے کہ اہلِ ہوش کے ہم ہو ش اڑائیں گے
شکیل ایثار کا جذبہ ہمارا دیکھ لینا تم
لٹانے کی جو بات آئی تو ہم جاں بھی لُٹائیں گے
غزل۔۲
نہیں ہوتو نہیں ہو اب مجھے حاصل سکونِ دل
حقیقت میں محبت کی نہیں منزل سکونِ دل
ہر اک پل اضطرابِ دل یہی کہتا رہا مجھ سے
محرک زندگانی کے نہیں قابل سکونِ دل
میں اس کا فلسفہ کچھ بھی سمجھ سکتا نہیں یا رب
بہت آساں سکونِ دل بہت مشکل سکونِ دل
بظاہر مطمئن ہوں میں ترے دیدار کی خاطر
مگر پوشیدہ ہے درپردہء محمل سکونِ دل
تڑپنے کی صلاحیت تو پیدا ہو گئی اُس میں
بہت اچھا ہوا جو کھو چکا بسمل سکونِ دل
وجود وہست کی دنیا میں ہے اس شے کی نایابی
مگر ڈھونڈا کئے پھر بھی بہ ہر محفل سکونِ دل
مری کشتی میں حرکت ہے تری کشتی میں غفلت ہے
مرا ساحل ہے بےتابی ترا ساحل سکونِ دل
شکیل اس کشمکش کے دور میں ہر دل کی خواہش ہے
سکونِ دل سکونِ دل سکونِ دل سکونِ دل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest