’’ہندو لبرل ہیں، مگر آپ نے ہی خود کو پیچھے کر لیا ہے، ہمت نہ ہاریں جم کر مقابلہ کریں‘‘:کلدیپ نیر کے وہ الفاظ جو صدا یاد رہیں گے

ڈاکٹر وسیم راشد، چیف ایڈیٹر ، صدا ٹوڈے

کوئی بڑا کیسے ہوتا ہے اپنے خیالات سے، اپنے کمالات سے اپنی خدمات سے، لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ بڑا ہونے کے لیے فراخ دل ہونا بھی بہت ضروری ہے۔
کلدیپ نیر جی پر لکھتے ہوئے میری آنکھیں اس لیے نم ہورہی ہیں کہ وہ ایک ایسے شخص تھے ،جنہوں نے مجھ جیسی ادنیٰ سی صحافی کو بھی بےحد عزت واحترام دیا۔ چوتھی دنیا کی مدیرہ رہتے ہوئے مجھے ان سے ملنے کا شرف کئی بار حاصل ہوا۔ چوتھی دنیا کی افطار پارٹی میں ان کو جب بھی بلایا وہ تشریف لائے اور بہت دیر تک رہے۔ ان کے اندرنہ کوئی بڑا صحافی ہونے کا احساس تھا اور نہ ہی وہ کبھی خود سے اپنی بات میں اس کا اظہار کرتے۔ جمعیت علماء ہند ، جماعت اسلامی اور مسلم مجلس مشاورت کی افطار پارٹیوں میں ان سے ملاقات ہوجاتی تھی میں ہلکا سا جھک کر ان کو سلام کرتی وہ ہمیشہ سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے اچھا چوتھی دنیا کی ایڈیٹر صاحبہ کیسی ہو؟ میں مسکرا کر کہتی سر میں آپ کو یاد ہوں ، یہ بہت بڑی بات ہے، کہتے تم اکیلی عورت نظرآتی ہو مجھے اردو صحافت میں اس لیے یاد رہتی ہو۔
کہتے ہیں کہ ہندوستان مردہ پرستوں کا ملک ہے، کسی کو بھی اعزاز و انعامات مرنے کے بعد ملتے ہیں۔ کلدیپ نیر ایسے صحافی تھے جن کو ان کی زندگی میں ہی کافی سراہاگیا ۔ کلدیپ نیر نے اپنی سوانح عمری میں تقسیم کے زخم کو بہت شدت سے بیان کیااور یہ درد ان کی تحریروں میں برابر جھلکتا رہا ،اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کی دوستی اور خیرسگالی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔
آج جب ہم اردو صحافت پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ جدوجہد وہ بے باکی اور نڈر ہوکر عوام سے جڑے ہوئے ایشوز کو اٹھانے والے صحافی کم ہی نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے، وہ ہندی انگریزی ہی لکھتے تھے لیکن ان کی تحریریں اردو اخباروں کی زینت زیادہ بنتی تھی، اس لیے لوگ انہیں اردو صحافی ہی زیادہ سمجھتے تھے۔ پریس کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو بے حدسراہا گیا 1975 میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تو پریس سینسر شپ کے خلاف ان کو جیل تک جانا پڑا۔
صدا ٹوڈے نیوز پورٹل افتتاحی تقریب کے لیے سب سے پہلے جو نام میرے ذہن میں آیا وہ کلدیپ نیر کا تھا، اور ان کے بعد دوسرا نام مہیش بھٹ کا تھا۔ مجھے فکر یہ تھی کہ مہیش بھٹ کی تاریخ تو شاید مل بھی جائے کیونکہ وہ بے حد چاق و چوبند اور ماشاء اللہ صحت مند ہیں اور سب سے بڑھ کر انسان دوست اور حق و سچائی کے ساتھ آواز اٹھانے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ لیکن کلدیپ جی کی صحت بہت خراب تھی اور وہ شاید گھر پر ہی مستقل رہتے تھے۔ میں نے ان کو فون کیا، ان کے گھر میں سے کسی نے فون اٹھایا، میں نے عرض کی، مجھے کلدیپ جی سے بات کرنی ہے، ان صاحب نے جواب دیا ’’بیمار ہیں کسی سے بات نہیں کرسکتے‘‘، پیچھے سے آواز آئی کون ہے؟ کس کا فون ہے؟ ان صاحب نے بتایا کہ کوئی وسیم راشد ہیں، بولے’مجھے فون دو‘ ان کی آواز سن کر میں جذبات سےپرآواز میں ایک دم بولی، ’’سر ، میں ہوں وسیم راشد‘‘۔ بولے، ہاں ہاں، بولو بیٹا۔ میں نے کہا ، میں اپنے نیو زپورٹل کا افتتاح کررہی ہوں ،سرآپ کے بناء نہیں کرنا چاہتی ۔ آپ دس منٹ کو تشریف لائیں گے تو مجھے بے حد خوشی ہوگی۔
کہنے لگے، میری طبیعت خراب ہے تم جس دن ہے اس دن صبح فون کرنا، طبیعت ٹھیک ہوگی تو میں آجائوں گا۔
16مارچ کو صبح میں نے پھر فون کیا، اور پھر ان ہی صاحب نے فون اٹھایا، بولے’’ صاحب کی طبیعت تو خراب ہے پر ان کو آج کی تاریخ یاد ہے، کہہ رہے ہیں پروگرام میں جانا ہے‘‘۔ میں نے کہا، ان کے بغیر میرا پروگرام ادھورا رہ جائے گا۔ مہیش بھٹ بھی ان سے ملنے کی بہت خواہش رکھتے ہیں۔ پلیز آپ ان کو کہیں کہ وہ آجائیں، یا میری بات کرادیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ گاڑی بھیج دیجئے گا، وہ جانے کے لیے خود ہی تیار ہیں۔
میں نے چار بجے شام کوسیف سعید نام کے اپنے بھانجے کو گاڑی لے کر بھیجا۔ اس نے بتایا وہ تو دو بجے سے تیار بیٹھے تھے ،خیر ،کلدیپ جی آئے، اور آپ سب نے دیکھا وہ کتنی دیر اسٹیج پر رہے، اور پھر زبردست تقریر کی۔
جس میں انہوں نے کہا کہ’’ ملک میں دوسری قسم کی ہوا چل رہی ہے، لیکن Withdraw نہ کریں جم کر مقابلہ کریں۔ ہندو لبرل ہیں لیکن آپ نے ہی Withdraw کرلیا ہے، اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ جیسے کہ میں آج کل کوشش کررہا ہوں کہ نان بی جے پی پلیٹ فارم بنے اور انشاء اللہ بن کر رہے گا‘‘۔
اتنی جاندار اور شاندار تقریر کی کہ لوگ بار بار تالیاں بجاتے رہے ۔میں آج نم آنکھوں سے ان کو یاد کررہی ہوں۔
یہ تو ممکن نہیں چپ چاپ فنا ہوجائوں
میں تو سنّاٹا ہوں ،بکھروں تو صدا ہوجائوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest