کانوڑیوں کی دہشت گردی پرلگام کسنی ہوگی!

مجھے یاد ہے ہماری دلی میں جب کانوڑآتے تھے تو لوگ سبیلیں لگاتے تھے جگہ جگہ کھانے کا اہتمام کیاجاتا تھا۔ ترکمان گیٹ پر رام لیلا گرائونڈ میں بھی یہ جمع ہوتے تھے اور وہاں سارا انتظام کرنے والے مسلمان ہوا کرتے تھے۔ سیدھے سچے سے چہروں پر عقیدت لیے یہ کانوڑ خاموشی سے اپنی پوجا پاٹھ میں لگے رہتے تھے۔ ہم بچے جب ان کو ننگے پیر چلتے دیکھتے تھے تو تعجب کرتے تھے کہ آخر یہ کیسے اتنا لمبا راستہ بنا چپلوں کے طے کرتے ہوں گے۔ اس طرح کافی کانوڑ سڑک پر لیٹ لیٹ کر بھی شیو مندر پر جل چڑھانے کے لیے جاتے ہوئے نظر آتے تھے۔ ہم اپنی والدہ سے پوچھتے تھے کہ یہ لیٹ لیٹ کر کیوں جارہے ہیں ،تو وہ بتاتی تھیں کہ یہ ان کی عقیدت ہے یہ بھگوان کے لیے، اس کو خوش کرنے کے لیے اور اپنی پوجا کو شردھا دینے کے لیے کررہے ہیں۔ ہر مذہب کا اپنا اپنا طریقہ ہے،اللہ ، ایشور، بھگوان کو یاد کرنے کا۔
آج جب ان ہی کا نوڑ کو دہلی میں دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں یہ اپنی غنڈہ گردی، اپنی ہڑدنگ بازی، اپنے آتنک سے کس طرح بھگوان شیو کو خوش کرپائیں گے۔
اب یہ حال ہوگیا ہے کہ ان کانوڑ میں سنجیدہ اور آستھا رکھنے والے لوگ کم ہی رہ گئے ہیں۔ نوجوان لڑکے جن کو کوئی کام نہیں ہے اور خاص طور پر نچلے طبقے کے لڑکے ،انھوں نے اس مبارک فریضے کو بھی اپنی گھٹیا حرکتوں سے لوگوں کی نظر میں برا بنادیا ہے ۔
دلی میں ان کانوڑ نے جو آتنک مچایا اس کو کسی بھی طرح دہشت گردی سے کم نہیں کہہ سکتے۔ دلی کے موتی نگر میں ایک لڑکی ’آئی ٹین‘کا رسے جارہی تھی اس بے چار ی کی ہلکی سی کار ان میں سے ایک کانوڑ سے ٹکرا گئی بس پھر کیا تھا، پورا کا پورا کانوڑ کا گروہ کار پر پِل گیا۔ ایک سکھ نوجوان نے کسی طرح اس لڑکی کو بچایا ورنہ شاید وہ بھی اس کا ر لنچنگ کا شکار ہوگئی تھی۔ کانوڑوں کا غصہ تھا یونہی ٹھنڈا نہیں ہوا انھوں نے پوری کار کو الٹ دیا، چکناچور کردیا۔ راہل عرف بلا نام کے جس کانوڑ کو پولیس نے گرفتار کیا ہے اس کا ریکارڈ پہلے ہی خراب تھا ،وہ پڑھا لکھا نہیں ہے، دہلی کے اتم نگر کے آنند وہار علاقہ میں رہتا ہے، اس پر گھر میں چوری کرنے کا ایک کیس اتم نگر تھانہ میں پہلے سے چل رہا ہے۔ وہ کسی گروپ کے ساتھ بھی نہیں گیا تھا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ پولیس تماشائی بنی دیکھتی رہی ،کانوڑیوں نے جب توڑ پھوڑ شروع کی تب بھی پولیس والے تھے کیونکہ اس کی ویڈیو وائرل ہوچکی ہے اور سارے چینلز پر دکھائی جاچکی ہے۔ پولیس والوں نے نہ تو ان پر لاٹھی برسائی اور نہ ہی ان کو منتشر کرنے کےلیے آنسو گیس چھوڑی اور اس طرح ان کانوڑیوں کا آتنک بڑھتا گیا۔
مظفرنگر میں بھی یہی ہوا، ایک کار میں دو لوگ اور تین بچے تھے، ان کی کار بھی کانوڑ سے ٹکرا گئی اور پھر وہی ہوا جو دلی کے موتی نگر میں ہوا تھا۔ اندر بچے روتے بلکتے رہے اور کانوڑیوں نے شیشہ توڑ کر اندر کا سامان بھی اٹھا لیا ۔ ڈرائیور کو بھی پیٹا۔ وہاں بھی پولیس تماشائی بنی رہی۔
یوپی کے ’راجہ اندر‘ یوگی جی ان کا نوڑیوں کی سیوا کرتے ہیں، ان کوہندوتو کے پجاری کہتے ہیں، لیکن کوئی ان سے سوال کرے کہ، کیا سچ میں یہ ہندومذہب کو فائدہ پہنچا رہے ہیں ، یا بدنام کررہے ہیں۔
آخر ایسے پجاریوں کا کیا علاج ہونا چاہیے۔ ان کانوڑیوں پر میرٹھ کے اے ڈی جی پرشانت کمار ہیلی کاپٹر سے پھول برسارہے تھے، ان ہی کانوڑیوں نے سڑک پر غنڈہ گردی کا ننگا ناچ کرکے ٹریفک جام کردیاتھا۔
ایک سوال اور پوچھنا ہے مجھے، کہ ان کانوڑیوں کو ایک ایک موٹر سائیکل پر تین تین کو بیٹھ کر جانے کی اجازت کس نے دی؟ کیا قانون ان کے لیے نہیں ہے؟ اور پھر ان پر ترنگا لگا کر ترنگے کی بے عزتی کرنے والوں کے لیے کیا سزا ہے؟
پوری دہلی ان کانوڑیوں کے ہجوم اور ڈی جے کے شور وغل سے پریشان رہی۔ بڑے بڑے ٹرک میں بھر کر تیز آواز میں ناچتے گاتے بدتمیزیاں کرتے یہ کانوڑ مذہب کا کون سا فریضہ ادا کرنے جاتے ہیں۔ اور پھر ان کو بنا ء ہیلمیٹ کے موٹر سائیکل پر جانے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ نوانٹری میں بھی سائیلنٹ زون میں بھی یہ بے تحاشا شور و غل کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور پولیس تماشائی بنی دیکھتی رہتی ہے۔
ان کانوڑیوں کی وجہ سے جانے کتنے مریضوں کی ایمبولینس وقت پر نہیں پہنچی ہوگی جانے کتنے ہی مریضوں نے راستے میں ہی دم توڑ دیا ہوگا۔
ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں کانوڑیوں کا گروپ ، جس میں سبھی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہیں، گانجہ پی رہے ہیں اور سب خوب کش پہ کش لگارہے ہیں۔ یہ شاید، وہی لڑکے لڑکیاںہوں گی جو مذہب کی آڑ میں نکل پڑتے ہیں اور پھر پوری دنیا کو اپنی جوتی تلے رکھتے رہیں، یہ سوچ کر کہ ہم مذہبی فریضہ ادا کرنے جارہے ہیں ان کو لگتا ہے کہ اب کسی کو ان کو روکنے ٹوکنے کا حق نہیں ہے۔ حالانکہ اچھے ہندو اورسنجیدہ شہری اس کی مذمت کرتے ہیں۔ مگر کہیں نہ کہیں وہ بھی بے بس ہوجاتے ہیں۔
اس دہشت گردی اور کار لنچنگ کو روکنا ہوگا۔ مذہب کو بدنام ہونے سے بچانا ہوگا۔ ان کانوڑیوں پر لگام کسنی ہوگی اور ان کو مذہب کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کرانا ہوگا۔ تبھی شاید شیو جی کو خوشی ملے گی اور صحیح معنوں میں بھکتی کا حق ادا ہوسکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram