پروین شیر کی نظموں کا تازہ ترین مجموعہ ’’بے کرانیاں ‘‘(شعری مجموعہ)

تبصرہ نگار: محمد نوشاد عالم ندوی

’بے کرانیاں‘ محترمہ پروین شیر کی نظموں کا تازہ ترین مجموعہ ہے۔ پروین شیر اردو دنیا کے لیے محتاج تعارف نہیں ہیں، وہ پٹنہ میں پیدا ہوئیں اور شادی کے بعد کناڈا منتقل ہوگئیں، اب وہ امریکہ میں ہیں۔ پروین شیر کا شمار ان فن کاروں میں نہیں کیا جاتا جو اپنی جوان العمری میں بہ سلسلہ روزگار بیرونی ممالک جاتے ہیں، اس عمر کے حضرات اردو زبان کا گہرا شعور بھی رکھتے ہیں، لیکن پروین شیر نے صرف سولہ برس کے مراحل ہی طے کیے تھے کہ انہیں وطن عزیز کو خیرباد کہنا پڑا۔ سب سے پہلے تو میں یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ پروین شیر کی شعری زبان پوری طرح اردو تہذیب وثقافت میں رچی بسی ہوئی ہے۔ گویا انھوں نے اپنی عمر کے ابتدائی زمانوں میں جو اردو زبان سیکھی تھی اور اپنے خاندان کے ادیبوں کی محبتوں میں جو شعور پروان چڑھاتھا اسے مسلسل قدیم و جدید اردو ادب کے مطالعے سے جلا بخشتی رہیں۔ ان کی نظموں کی زبان میں پختہ کاری اور صلابت کا احساس ہوتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ’بے کرانیاں‘ ہی ان کا تمام سرمایہ سخن ہے۔ اس سے قبل ’کرچیاں‘ اور ’نہالِ دل پر سحاب‘ جیسے شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں، اور یہ دونوں ’بے کرانیاں‘ ہی کی طرح ذولسانی (یعنی اردو اور انگریزی) ہیں اور انھوں نے اپنی نظموں کے تاثرات کو خود اپنی پینٹنگز سے بھی آراستہ دوآتشہ کیا ہے۔ ’نہال دل پر سحاب جیسے‘ ان کی ماں کی موت پر لکھی ہوئی نظموں کا مجموعہ ہے جو اردو شاعری کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔ پروین شیر کی نظموں کی ایک خاص خوبی جو میری نظر میں ہے وہ اس کا دھیما آہنگ ہے۔ انھوں نے انسانیت کے اندوہ ناک تجربات اور تضادات کو جو شعری زبان دی ہے ، اس میں درد مندی بھی ہے، غصہ بھی ہے، احتجاج بھی ،وہ شکوہ بھی کرتی ہیں ، تاسف کا اظہار بھی کرتی ہیں، لیکن ان تمام قسم کے جذبات کو انھوں نے بے حد مہذب لب و لہجے میں ادا کیا ہے۔ وہ طبیعت کے لحاظ سے بے حد جذباتی معلوم ہوتی ہیں، لیکن شعر کے تقاضوں کا انہیں گہرا احساس ولحاظ بھی رہتا ہے، اس لیے کسی بھی نظم میں ان کا جمال، جلال کی راہ نہیں لیتا۔ جذباتیت ایک سطح پر پہنچ کر نعرے میں بھی بدل سکتی ہے جیسا کہ ترقی پسند شعرا کے یہاں دکھائی دیتا ہے، لیکن پروین شیر خواہ گلہ گزاری کریں یا احتجاج وہ ایک خاص حد سے تجاوز نہیں کرتیں۔ میں یہاں ان کی نظم قوت کی مثال دینا چاہتا ہوں۔ یہ ایک عجیب و غریب نظم ہے، پہلی نظر میں اس کی علامتی تہہ داری ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس کے بعد اور کئی سوال اس سے برآمد ہوتے ہیں:
چمچماتی دور تک جاتی ہوئی پختہ سڑک اور
اس کے وزنی پائوں کے نیچے دبی
روئیدگی کی بے بسی
بے حد گھٹن
تاریکیاں
رستے معطل
رک نہیں سکتے مگر یہ حوصلے اب
درد آگیں قوتوں کی دھار نے چیرا ہے پتھر
ہرطرف پھیلیں دراریں
پتھروں کی ہر شگاف رگ سے
رستا جارہا ہے بھربھری مٹی کا تازہ خون
جیسے پھوٹ کر پھر سے نکل آئے ہوں
پچھلے دور کے زخموں کے انکُر!!
نظم مایوسی سے شروع ہوتی ہے جس میں ایک احتجاج کی لَے بھی شامل ہے کہ انسان اپنی سہولتوں پر فطرت کو قربان کرتاجارہا ہے پھر بھی فطرت کی اپنی طاقت ہے وہ خو دبخود اپنا راستہ بنالیتی ہے۔ انسان زمین کو چھیدرہا ہے اسے چھلنی چھلنی کررہا ہے۔ اس پر پختہ تر سڑکیں بنارہا ہے۔ محلے دو محلے کھڑا کررہا ہے، گویا فطرت سے اس کی روئیدگی اور قوت نمو پر ڈاکہ ڈالنے سے باز نہیں آرہا ہے، تاہم کبھی وہ یک بہ یک چشمے کی مانند پھوٹ نکلتی ہے کبھی رنگارنگ پودوں، پھولوں کی شکل میں اپنی پنہاں صورتوں کو آشکار کرتی ہے۔ علامتی سطح پر انسان پر جبرو تحکم سے پیش آنے والی طاقتوں کے خلاف بھی یہ نظم احتجاج کرتی ہے، لیکن عارضی سطح پر ہی انسانی آرزو مندیوں کو کچلا اور دبایا جاسکتا ہے، آخر کار انسانی آرزو مندیاں ایک ایسی قوت بن کر پھوٹ نکلتی ہیں جنہیں کوئی جابرانہ قوت نہیں دباسکتی۔
پروین شیر کی زیادہ تر نظموں میں امیدوناامیدی، قنوط اور رجا کے درمیان کشمکش دکھائی دیتی ہے۔ یہی چیز آخری موڑ پر، سیڑھیاں، بے کراں، وہاں یہاں، عجلت پرواز وغیرہ جیسی نظموںسے عیاں ہے۔
پروین شیر ایک منفرد شاعرہ ہیں، انھوں نے عورت اور مرد کو دو الگ الگ خانوں میں رکھ کر نہیں دیکھا ہے جیسا کہ ہماری بیشتر شاعرات کا رجحان ہے۔ انھوں نے ساری انسانیت کو ایک اکائی کے طور پر دیکھا ہے، جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
پروین شیر کی کئی نظموں میںچاہے وہ زندگی اور موت کے ازلی اور ابدی سوالوں میں الجھی ہوئی ہوں، چاہے اپنی ذاتی زندگی کے تجربوں سے دوچار ہوں، ان کا رومانی اور شاعرانہ انداز حاوی رہتا ہے۔ ان کی شاعری مدھم راگ کی شاعری ہے اور جو تصویریں وہ وضع کرتی ہیں کبھی لفظوں سے ، کبھی رنگوں سے ، اس کا تاثر بھی دھیمے، نرم آثار آبی رنگوں کا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں نت نئے لسانی خوشے اور بندشیں وضع کی ہیں، جو ان کے شعری اسلوب کا ایک منفرد انداز ہے۔ قابل شاعرہ نے ’’بے کرانیاں‘‘ میں انسانی زندگی میں پیش آنے والے چیلنجز ، انفراد اور ایک سراسر ابدی سفر کی لفظی تصویر کشی ہے، جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں جس طرح کی نظمیں شامل کی ہیں اور جس انداز میں مصوری کے ساتھ کتابوں کی زینت بنایا ہے وہ اس کتاب کی مقبولیت کا ضامن ہے۔
کتاب دیدہ زیب ہے، ظاہر اور باطن خوبصورتی کا پیکر ہے۔ اردو میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے، جس کا آغاز پروین شیر نے کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے یہ کتاب کسی بیرونی ملک میں طبع ہوئی ہے۔ اس کتاب سے یہ بھی احساس ہوا کہ اردو اشاعتی اداروں نے پرنٹنگ اور پیش کش میں کافی ترقی کی ہے۔
پتہ: شاہین باغ، جامعہ نگر ، اوکھلا، نئی دہلی
9015763829/ 8826096452
mohdnaushad14@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest