پاکستان: شکست کی کھسیاہٹ

از ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی

پاکستان میں انتخابات 25جولائی کو مکمل ہوگئے اور 28جولائی تک تمام نتائج  کے اعلانات بھی اعلان کر دیئے گئے ۔انتخابات سے قبل بھی پاکستانی اقتدار کو اس وقت ایک زلزلے سے گزرنا پڑا کہ جب وہاں کے منتخب وزیر اعظم پاکستان مسلم لیگ کے نواز شریف کو وہاں کی عدالت عالیہ نے اقتصادی بدعنوانی کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنادی اور ان کو وزارت عظمی سے ہاتھ دھونے پڑے ساتھ ہی ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو بھی جیل جانا پڑا اور پاکستان کی حکومت مسلم لیگ ن کے ایک دیگر وزیر شاہدخاقان عباسی صاحب کو سونپ دی گئی ۔پاکستان میں جمہوریت کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ان معنوں میں  تھا کہ ایک تو وہاں کی جمہوریت کو ابھی تک بالغ نہیں سمجھا جاتا اس سے قبل وہاں کسی بھی منتخبہ حکومت نے اپنی مدت اقتدار مکمل نہیں کی تھی ۔دوسرے ایک عدالت  کے ذریعے اپنے فیصلے کو اپنے ہی ملک کے وزیر اعظم کے خلاف عمل درآمد کروانا کسی سیاسی طوفان سے کم نہیں ہوتا۔ایشیا میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے خود ہمارے ملک میں 1976میں جب اندراگاندھی کے حکومت کے خلاف ایک عدالت نے فیصلہ سنایا تو نہ صرف یہ کہ اس فیصلے کا احترام نہیں کیا گیا بلکہ ملک کو اگلے ہی دن ایمرجنسی کے سانحے سے گزارنا پڑا اور مسلسل 19ماہ ملک کی جمہوریت مطلق العنانیت کا شکار رہی آج بھی ہمارے سیاستدان اس دور کو بھارتی جمہوریت کا سیاہ دور کہتے ہیں لیکن پاکستان نے اپنے وزیر اعظم کو کسی بڑے طوفان کے بغیر جیل رسید کر دیا ۔نواز شریف اس وقت لندن میں تھے وہ اپنے بیٹی کے ہمراہ بڑے طمطراق کے ساتھ وطن واپس آئے اور ایک بڑے سیاسی ڈرامے کے سا تھ بڑی آن بان کے ساتھ جیل چلے گئے ۔غالبا ان کو یہ توقع رہی ہوگی کہ اس واقعے سے پاکستانی عوام میں ان کے تئیں ہمدردی کا ایک جذبہ بیدار ہوگا اور رائے عامہ ان کے حق میں ہموار ہو جائے گی لیکن آنے والے وقت نے ان کے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا۔شاید پاکستانی عوام طے کر چکے تھے کہ اب ہر قیمت پر وہ اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔
پاکستان میں جمہوریت کے جڑیں کمزور کرنے میں وہاں کی سیاسی جماعتوں نے خود ہی ایک بڑا کردار نبھایا ہے مسلم لیگ سے لے کر پیپلز پارٹی تک کوئی بھی جماعت پاکستانی عوام کی خواہشات کے آئینہ دارثابت نہ ہوسکی بلکہ ہوس اقتدار کے ہاتھوں مغلوب حکمرانوں نےاپنے ہی عوام کی دولت لوٹی اور ان کو بنیادی شہری سہولیات سے بھی محروم ہی رکھا ۔محض جذباتی نعروں اور ہندوستان کی دشمنی پر مبنی سیاست دوام حاصل نہیں کر سکی عوام نے بھی سبھی کوموقع دیا۔مسلم لیگ کے بعد پیپلز پارٹی ہی وہاں کی دوسرے سب سے بڑی پارٹی رہی ۔ قومی مہاجر موومنٹ اپنا اثرورسوخ سندھ اور کراچی سے آگے نہ بڑھاسکا۔ مہاجرین کے ایک بڑی تعدد نے محض مہاجر کے نام پر مقامی مفادات کے پیش نظر الطاف صاحب کو اپنا لیڈر تو ضرور مانا مگر الطاف صاحب نے ان مہاجرین کا جو حشر کیا وہ بھی سب نے دیکھ لیا۔ جماعت اسلامی پاکستان ، جمعیۃ علما ء پاکستان ،جمعیۃ اہل حدیث اور اس قسم کی متعدد مذہبی جماعتیں بھی میدان سیاست میں زور آزمائی کرتی رہیں لیکن ان میں سے کسی بھی جماعت کو کبھی 10.12% سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں ہوا۔
اس سے ظاہر ہے کہ پاکستانی عوام مذاہبی عقائد کی بنیاد پر نہیں بلکہ ترقی اور فلاح بہبود کی خاطر جمہوری عمل میں حصہ لے رہے تھے۔مگر بد قسمتی سے غیر مذہبی سیاسی جماعتوں نے عوام کی اس خواہش کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے اپنے لئے ایک قرعہ فال سمجھ لیا اور مسلسل عوام کا استحصال کیا جاتا رہا۔اب جبکہ 2018میں عوام کو ایکبار پھرحکومت چننے کا موقع ملا تو ایک ابھرتا ہواسیاستداں ان کے امیدوں کا مرکز بن گیا اور انہوں نے تمام آزمودہ روائتی مذہبی اور غیر مذہبی سیاسی جماعتوں کو باہر کا راستہ دکھانے کا عہد کر لیا ۔اور نتائج نے واضح کر دیا کہ عوام کو عمران خاں پر اعتماد ہے اس  لئے سب سے زیادہ ووٹ ملے۔  ایک لہر رواں دواں تھی اسی لئے ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاب کو 47فیصد سے زائدووٹ حاصل ہوئے جو پاکستان میں اب تک کسی بھی سیاسی پارٹی کو ملنے والے فیصد سے زیادہ ہے۔ اس لہر نے بڑے بڑے قد آور لیڈروں کو پاکستان پارلیمنٹ سے باہر کا راستہ دکھادیا ۔جماعت اسلامی پاکستان، جمعیۃ علما پاکستان ،متحد مجلس عمل جیسی فلک بوس قیادتیں زمیں بوس ہوگئیں ۔متحدہ مہاجر مومنٹ خود اپنے گڑھ میں 12سے زائد سیٹیں حاصل نہ کر سکا۔ پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر جا پہنچی اور پاکستان مسلم لیگ ن بس کسی طرح خراب اختلاف کا درجہ بچانے میں کامیاب ہوسکی ۔
اس بات کا خدشہ پہلے سے تھا کہ اس بار پاکستان میں پارلیمنٹ معلق ہوگی اورچونکہ پاکستان میں جمہوریت کا استحکام ہمیشہ ہی مخدوش رہتا ہے چنانچہ خدشہ اب بھی تھا کہ اگر پارلیمنٹ معلق ہوئی تو ایک بار پھر وہاں فوج کو حکومت پر قابض ہونے کا موقع ملے گا۔ دوران انتخابات میں نے پاکستان کے متعدد صحافیوں اورسفارتکارورں سے رابطہ کر کے متوقع نتائج پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ہر ایک کے رائےیہی تھی کہ معلق پارلیمنٹ کی توقع زیادہ ہے میں نے ان حضرات سے کہا بھی تھا کہ ایسی صورت پاکستانی جمہوریت کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے لیکن وہ لوگ قدرے بے فکر نظر آےکہ معلق پارلیمنٹ کی صورت میں بھی حکومت سازی زیادہ مشکل نہیں ہوگی ۔حالانکہ میں پاکستانی جمہوریت کے سابقہ تجربات کی روشنی میں ان سے مطمئیں نہیں تھا۔ لیکن جب نتائج آئے تو تقریبا یکطرفہ ہی ثابت ہوئے تحریک انصاف کو مکمل اقتدار کے لئے محض 12نشستوں کی کمی پیش آئی اور یہ بہت غنیمت ہے اس لئے کہ اتنی حمایت توان کو حکومت سازی کے لئے بھی اور دوران حکومت قوانیں بنانے اورفیصلے کرنے کے لئے کسی بھی جانب سے بہ آسانی مل سکتی ہے۔ اگر عمراں خان بھارت میں نرسمہاراو کی اقلیت حکومت کے تجربے کو ذہن میں رکھیں تو پاکستان میں بھی اس قسم کی ایک اقلیتی حکومت کا یہ تجربہ بہت آسان ہوسکتا ہے ۔
خلاف توقع عمران خان کو اتنی اکثریت مل جانا وہاں کی سیاسی جماعتوں کے لئے غیر متوقع جیسا ہےاور اس صدمےسے وہ پارٹیاں ابھی ابھرنہیں پا رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ مولوی فضل الرحمان جیسے لوگ نے تو حلف براردری تک کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے اور انتخابی دھاندلیوں کے الزامات عائد کر دئے۔ وہ تو کہیے غنیمت یہ ہوا کہ پاکستان میں ابھی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کارواج نہیں ہوا ہے اور بیلٹ پیپر سے ہی انتخاب ہوتا ہے ورنہ اس الزام کو قوت حاصل کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔
واضح رہےکہ پاکستانی انتخاب عالمی ماہرین کی ایک ۱۲ رکنی کمیٹی کے مشاہدے میں ہوئے جن میں ہمارے ملک کے سابق چیف الیکشن کمیشنر ایس وائی قریشی صاحب بھی شامل تھے انتخابات کے بعدوطن واپسی پر قریشی صاحب نے انڈین ایکسپریس میں ایک طویل مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے اس مرتبہ پاکستان میں انتخابات کے طریقے کی بھر پور تعریف کرتے ہوےاسے آزادانہ اور منصفانہ الیکشن قرار دیا جائے۔
اسی طرح بہت سے دوسرے مشاہدین اور مبصرین نے بھی انتخابی بد عنوانیوں کا انکار کیا ہے اس سب سے قطع نظراگر واقعی انتخابی دھاندلی ہوتی تو پاکستان کے عوام خود سڑکوں پر ہوتے۔ مگر جس طرح وہاں کی سڑکوں پر عوامی جشن کا ماحول دیکھا گیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کا ووٹ در حقیقت کس کو ملا ہے۔ ویسے بھی اگرخواجہ آصف، احسان اقبال اور چودھری نثار جیسے تحریک انصاف کے سخت ترین ناقدین انتخاب میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو دھاندلی کا الزام شکست خوردہ حزب اختلاف کی کھسیاہٹ کے سوا کیا ہوسکتا ہے ۔ بہرحال پاکستانی جمہوریت کا یہ پہلا موقع ہے کہ جمہوری اقتدار اس قدر آسانی سے ایک جماعت سے دوسری جماعت کو منتقل ہو رہا ہے۔
ہمارے ملک کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں عوامی خواہشات کی آئینہ دار ایک جمہوری حکومت قائم رہے ۔دونوں ممالک کے تعلقات جمہوریت کی صحت پر ہی منحصر ہیں ۔ایسے میں پاکستان میں مضبوط ہوتے ہوئے جمہوری عمل کو فال نیک سمجھنا چاہئے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمار ےملک کی زمام ایک مخصوص نظریے کے حامی ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو پاکستان دشمنی کی بنیاد پر ہی اپنے سیاسی بساط کو مضبوط کرتے ہیں ان کے سیاسی وجود کی بقاپاکستان کے نام پر منحصر ہوتی ہے۔ بات بات پر پاکستان کا نام لے کر فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینا ہی ان کا مقصد ہے۔
عمران خان نے اپنے پہلی ہی تقریر میں ہماری حکومت سے گفتگو کا عندیہ دیا ہے اور ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ معاملات کو حل کرنے کی اگر نیت موجود ہو تو گولی سے نہیں بولی سے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں ۔ دونوں ممالک کا سیاسی، اقتصادی اور معاشر تی اشتراک عمل خطے میں عالمی طاقتوں کی جست و خیز کوبے اثر کر سکتا ہے جو دونوں ممالک کے لئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ویسے ہمیں پاکستانی عوام کا معترف اس لئے بھی ہونا چاہئے کہ انہوں نے جذباتی اور دشمنی پر مبنی نعرہ دینے والوں اور ہندوستان میں سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینے والے عناصر کی کامیابی کے ساتھ سرکوبی کی ہے اور حز ب مجاہدین اور جماعت الدعوۃجیسی تنظیموں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ عوام ان سے عاجز ہو چکے ہیں اور اب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر ایک پر سکوں زندگی جینا چاہتے ہیں۔ اس لئے جدید طرز فکر کے حامل ایک نیم سیاسی لیڈر کے ہاتھوں پاکستان کی قیادت سونپی ہے ۔ دیکھنا یہی یہ ہے کہ یہ نیم سیاستداں پختہ کار سیاستداں کے مرحلے میں داخل ہونے تک کیا عوام سے کئے گئے وعدوں پر قائم رہ سکے گا اور کیا دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات کے استواری کے لئے وہ صرف اپنے ذہن اور نظر یے پر کار بند رہتے ہوئے کوئی عمل آوری کرے گا یا عالمی طاقتوں کے سامنے سرنگوںہونے پر مجبور ہو جائے گا۔ ویسے ایک بات تو ہے کہ اقتدار کی لگام سنبھالنے سے قبل ہی عمران خان نے امریکہ کو واضح اشارے تو کر دئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایران، ترکی، پاکستان اور روس کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی ایک غیر مشتہر میٹنگ بھی اپنے دامن میں بہت سے پیغامات لئے ہوئےہے

(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest