میدان عرفات کی اہمیت اور حجاج کرام

خالدانورپورنوی المظاہری

آج حجاج کرام اسی میدان عرفات میں خیمہ زن ہیں،جہاں آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام کی کے ساتھ حجہ الوداع کے موقع پر خیمہ زن تھے۔وہ لوگ خوش نصیب ہیں جنہیں اللہ نے یہ سعادت بخشی ہے،آج کے دن عرفات میں وقوف کرنے والوں کی اللہ نے معافی کا اعلان کیاہے۔اللہ ہمیں اس مقام پر جانے اور باربارجانے ک توفیق عطاء فرمائَے۔آئیَے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تاریخی خطبہ سماعت کریں،جو آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے اسی میدان عرفات میں آپ نے خطاب فرمایاتھا۔]اے لوگو! تمہارے خون ،تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پراسی طرح حرام ہیں،جس طرح تمہارے اس دن عرفہ ، تمہارے اس مہینہ ذی الحجہ میں اورتمہارے اس شہرمکہ مکرمہ میں حرام ہیں۔یادرکھو!زمانہ جاہلیت کی ساری چیزیں میرے قدموں کے نیچے دفن اورپامال ہیں،اورزمانہ جاہلیت کے خون بھی ختم اورمعاف ہیں،اورسب سے پہلے میں اپنے گھرانہ کے ربیعہ ابن الحارث بن عبدالمطلب کے فرزند کے خون کی معافی کااعلان کرتاہوں،جوقبلہ بنی سعدکے ایک گھرمیں دودھ پینے کیلئے رہتے تھے ،ان کو قبیلہ ہذیل کے آدمیوں نے قتل کردیا،اورزمانہ جاہلیت کے سارے سودی مطالبات معاف کردیئے گئے ہیں اورسب سے پہلے اپنے خاندان کے سودی مطالبات میں سے اپنے چچاعباس بن عبدالمطلب کے سودی مطالبات کے ختم اورسوخت ہونے کااعلان کرتاہوں،ان کے سارے سودی مطالبات آج ختم کردیئے گئے۔اے لوگو!عورتوں کے حقوق اوران کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں خداسے ڈرو،اس لئے کہ تم نے ا ن کو اللہ کی امانت کے طورپرلیاہے اوراللہ کے حکم اوراس کے قانون سے ان کے ساتھ تمتع تمہارے لئے حلال ہواہے، اور تمہارا خاص حق ا ن پریہ ہے کہ جس آدمی کاگھرمیں آنا،تمہاری جگہ اورتمہارے بسترپربیٹھنا ، تم کو پسندنہ ہووہ اس کواس کا موقع نہ دیں؛لیکن اگروہ غلطی کریں تو تم تنبیہ کیلئے ہلکی سزادے سکتے ہو،اوران کا خاص حق تم پر یہ ہے کہ اپنے مقدور اورحیثیت کے مطابق ان کے کھانے ،پینے کابندوبست کرو،اورمیں تمہار ے لئے وہ سامانِ ہدایت چھوڑ رہا ہوں کہ اگرتم اس سے وابستہ رہے اوراس کی پیروی کرتے رہے تو تم کبھی گمراہ نہ ہوگے،وہ ہے کتاب اللہ!اورقیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم سے میرے متعلق پوچھاجائیگاتوبتاؤ!وہاں تم کیا کہوگے، اور کیا جواب دوگے؟حاضرین نے عرض کیا:ہم گواہی دیتے ہیں اورقیامت کے دن بھی گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کاپیغام اوراس کے احکام کوپہونچادیا،اوررہنمائی اورتبلیغ کاحق اداکردیا،اورہماری خیرخواہی کی،اس پر آپﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اورمجمع کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے تین دفعہ فرمایا : ’’اَللّٰہُمَّ اشَّھَدْ۔اَللّٰہُمَّ اشَّھَدْ۔اَللّٰہُمَّ اشَّھَدْ‘‘اے اللہ! تو گواہ رہ،ا ے اللہ !توگواہ رہ،اے اللہ !توگواہ رہ۔یہ اہم اورجامع خطاب نبی کریم ﷺ نے آج سے ساڑھے چودہ سوسال پہلے میدان عرفات کے وادی نمرہ میں ایک لاکھ تیس ہزارجان نثارصحابہ کرام کی موجودگی میں فرمایا۔نبی کریم ﷺ کی آمد سے قبل پوری دنیامیں گھٹاٹوپ اندھیراچھایاہواتھا،بھائی بھائی میں نفرت تھی ،عداوت تھی، باتوں باتوں میں وہ ایک دوسرے کے خونخوار دشمن بن جاتے تھے ،جب اسلام آیااور نبی کریم ﷺ رحمت بن کر سرزمین عرب میں مبعوث ہوئے ،تو آپ ﷺنے انسانیت کی تعلیم دی ،اخوت ومحبت کا در س دیا،ایثاروہمدردی اور قربانی کا جذبہ سکھایا،اور آپﷺ نے بتایاکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ،نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے حقیر جانے ۔نبوت ملنے کے بعد مکی زندگی میں ۱۳؍سال اور مدنی زندگی میں ۱۰؍سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتحاد واتفاق کا سبق پڑھاتے رہے تاکہ مسلمان ایک شیشہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند ہوجائیں ،آپ ﷺنے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھاتے ہوئے واضح ارشاد فرمایا:ایک مومن دوسرے مومن کے حق میں عمارت کے مانند ہے ،جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتاہے۔آپ ﷺنے فرمایا:مومن کی مثال آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے میں ،ایک دوسرے کے ساتھ رحم کرنے میں ،اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت ونرمی کرنے میں ایک جسم کی مانند ہے ،جب اس کا کوئی ایک عضودرد کرتاہے تو اس کا ساراجسم اس کی وجہ سے بیداری اور بخار میں مبتلارہتاہے ۔مگر ۲۳؍سالہ محنت کے باوجود جب آپ ﷺ حجۃ الوداع کے لئے تشریف لے گئے ،تو آپﷺ نے میدان عرفات میں خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلی بات یہی ارشاد فرمائی :اے لوگو!تمہارے خون ، تمہارے مال ، اور تمہاری عزتیں اسی طرح حرام ہیں ،جس طرح آج کے دن ،آج کے مہینہ ،اور اس مقدس شہر میں کسی کا ناحق خون کرنا، کسی کا مال چھینناحرام ہیں،یعنی جس طرح ذی الحجہ کامہینہ حرمت والامہینہ ہے ،اس شہر کو تم قابل حرمت سمجھتے ہو، میدان عرفات میں قتل وقتال حرام سمجھتے ہو،اسی طرح ایک مسلمان کا خون ،مال ،اور عزتیں قابل احترام ہیں،نہ کسی مسلم کاخون کرناجائز ہے ،نہ بغیر رضامندی اس کے مال کو ہڑپ کرنا،اور کسی کی عزت سے کھلواڑکرناجائزہے۔جولوگ اسلام اورکلمہ اسلام کو نہیں مانتے ہیں ،اور کفر وشرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ،وہ تو مسلما نو ں کی جان ،مال،عزت وآبروکے دشمن ہیں ہی،مگر وہ لوگ جو مسلمان بھی ہیں ،کلمہ اسلام کا اقرارو اعتراف بھی کر تے ہیں ، اللہ کے رسول ﷺ کو اپنانبی بھی تسلیم کرتے ہیں ،پھر بھی اپنے محبوب اور پیارے نبی کی پیاری باتوں کو سنی ان سنی کردیتے ہیں،وہ یہ جان کر بھی کہ اللہ کے رسول نے اپنے آخری سفر پر جانے سے قبل اپنے آخری اورپہلے حج میں مسلمانوں کے خون ،مال ،اور عزتوں کو دوسرے پر حرام قراردیاہے ،پھر بھی وہ بلادھڑ ک اپنے بھائی کا خون کرنے کے درپہ ہے ،ناجائز مال پر قبضہ کرکے اپنی خواہشات کی آگ بجھانا چاہتاہے ،اور مسلم بھائیوں کی عزتوں پر کیچڑاچھال کراپنی عزت ،رفعت اور بلندی مقام ومرتبہ کا اظہار اپنے لئے باعث فخروکمال سمجھتاہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے خطاب میں زمانہ جاہلیت کے تمام رسم ورواج کے خاتمہ کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے صاف صاف فرمادیا:اے لوگو!زمانہ جاہلیت کی سا ری چیزیں میرے قدموں کے نیچے پامال وباطل ہیں۔ تم لوگوں نے جب اسلام قبول کرلیاتواسلام اوراس کی تعلیمات کواپناؤ،زمانہ جاہلیت کے رسم ورواج کوچھوڑدو، تاکہ تمہارے سسٹم سے،معاشرہ اورسماج سے،رہن ،سہن،زندگی کے اصول وآداب اور طور طریقوں سے اسلام نمایاں ہوکرنظرآجائے۔ہوسکتاہے کہ زمانہ جاہلیت کاکوئی خون اوربدلہ ہو،اوراسلام قبول کرنے کے بعدبھی مقتول کے وارثین برسر پیکار ہوجائیں،اس لئے اللہ کے رسول ﷺ نے اعلان عام کردیاکہ زمانہ جاہلیت کے خون معاف کردیئے گئے ہیں، اگرزمانہ جاہلیت میں کسی نے کسی کاخون کردیاتھاتواب نہ اس کاقصاص ہے،نہ دیت ہے اورنہ کفارہ ہے،صرف زبانی دعوے نہیں کئے بلکہ اپنے گھرسے اس کی شروعات بھی کی اوراپنے چچازادبھائی ربیعہ بن الحارث کے فرزندکے خون کی معافی کا اعلان کردیا،جوایک شیرخواربچہ تھااورقبیلہ بنی سعدکے یہاں دودھ پیتاتھاا ورہذیل نے اسے مارڈالاتھا۔اُس وقت سودکابھی رواج عام تھا،اوراس سودکی وجہ سے کمزورطاقتورکے بوجھ تلے دبارہتاتھا، طاقتور سودخواری میں غریبوں کاخون چوستاتھا،اصل مال باقی رہتااورسوداتنازیادہ ہوجاتاکہ کئی پشتیں گذرجاتیں مگرسود ختم نہیں ہوتا۔اس لئے اللہ کے رسول ﷺ نے اس ظالمانہ کاروبارکی قطعی حرمت کاقانون نافذکیا،جولوگ نہ مانیں اوراس قانون کی نافرمانی کریں ،اللہ نے قرآن کریم میں ان کے خلاف جنگ کااعلان کردیا۔اس سے سمجھاجاسکتاہے کہ سودی کاروباراللہ ورسول کی نظرمیں کتنابڑاسنگین جرم ہے،اللہ کے رسولﷺ نے ایک موقع پر ارشادفرمایا:سات مہلک اورتباہ کن گناہوں سے بچو،صحابہ کرام نے عرض کیایارسول اللہ ﷺ!وہ سات گناہ کیاہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ کے ساتھ شرک کرنا،جادوکرنا،ناحق کسی کاقتل کرنا،سودکھانا،یتیم کامال کھانا، جہادمیں لشکراسلام کاساتھ چھوڑکربھاگ کھڑاہونا،اللہ کی پاک دامن باندیوں پرزناکی تہمت لگانا۔شب معراج میں اللہ کے رسول کوجنت ودوزخ کے مناظربھی دکھائے گئےـ واپس آئے تو آپ ﷺ نے ارشادفرمایا: میراگذرایسے گروہ پرہواجن کے پیٹ گھروں کی طرح ہیں،اوران میں سانپ بھرے ہوئے ہیں جو باہر سے نظرآتے ہیں،میں نے جبرئیل سے پوچھایہ کون لوگ ہیں؟انہوں نے بتلایاکہ یہ سودخورلوگ ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت فرمائی سودلینے والے، دینے والے پر،کھانے اورکھلانے والے پر،سودی دستاویزلکھنے والے پر،اوراس کے گواہوں پر۔سودکے بارے میں اس قدرواضح اورسخت حکم کے باوجودزمانہ جاہلیت کے سودی معاملے کاکوئی شخص مطالبہ کرسکتاتھا،اس لئے اللہ کے رسول ﷺ نے میدان عرفات میں اس کا بھی دروازہ بندکردیاکہ اے لوگو!زمانہ جاہلیت کے سارے سودی مطالبات معاف وختم کردیئے گئے،اپنے گھرسے اس کی شروعات بھی کردی،اوراپنے چچاعباس بن عبدالمطلب کے سودی مطالبات کے ختم وسوخت ہونے کااعلان کردیا۔نبی کریم ﷺ کی آمدسے قبل سب سے زیادہ ظلم عورتوں پرہوتاتھا،وہ بازاروں میں فروخت ہوتی تھیں،وہ ماں جس نے نوماہ بچہ کو اپنے کو کوکھ میں رکھا،وہ اس قابل بھی نہیں تھی کہ اس منحوس اورظالم سماج کے خلاف اپنی زبان کھول سکے،اگرکسی گھرمیں بیٹی پیداہوئی وہ گھرمنحوس سمجھاجاتا،اس کاباپ شرم وحیاء کی باعث مجلسوں میں نہیں جاتا،کہیں کوئی یہ نہ کہدے کہ توفلانہ بیٹی کاباپ ہے،وہ اس شرمندگی کوچھپانے کیلئے اپنی ننھی سی پیاری منی کو زندہ درگورکردیتا،وہ یہ بھی نہیں سوچتاکہ آخرمجھے بھی کسی عورت نے جنم دیاہے،انہی عورتوں کے وجودسے تو میر ا وجودہے۔اللہ کے رسول ﷺ مسیحابن کرسرزمین عرب میں تشریف لائے،عورتوں کو آزادی دی،ان کے حقوق دیئے،ان کی خریدوفروخت پرپابندی لگائی،ان کے خلاف ہورہی کرپشن اورظالم قوانین کاخاتمہ کیا ، اور اپنے آخری سفرپرجانے سے قبل میدان عرفات میں اعلان عام کردیا:اے لوگو!عورتوں کے حقوق اوران کے ساتھ برتاؤکے بارے میں اللہ سے ڈرو،تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طورپرلیاہے،اللہ کے حکم اورقانون سے ان سے فائدہ حاصل کرناتمہارے لئے حلال ہواہے،تم اپنی حیثیت کے مطابق ان کے کھانے،پینے کاانتظام کرو ، ہاں! اللہ کے رسول ﷺ نے عورتوں سے بھی کہاتم وہ کام نہ کروجوتمہارے شوہرکوناپسندہو،اس کے باوجود اگر عورتیں غلطی کریں تو تنبیہ کیلئے ہلکی سزادینے کااللہ کے رسول نے ا ختیاردیا؛مگراس میں تکلیف دینامقصودنہ ہو۔اپنے خطاب کے اخیرمیں آپ ﷺ نے ارشادفرمایا:اے لوگو!میں تمہارے لئے وہ سامانِ ہدایت چھوڑکر جارہاہوں اگرتم ا س سے وابستہ رہے، اس کی پیروی کرتے رہے ،اس میں موجوددستورالٰہی کو مانتے رہے، اور قانون خداوندی کی تابعداری کرتے رہے ،توتم کبھی گمراہ نہ ہوگے،اوروہ ہے کتاب اللہ یعنی قرآن کریم!قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے،جس میں قیامت تک پیش آنے والے سارے مسائل کاحل موجودہے، دینی ،دنیوی اعتبارسے انسانوں کے فلاح وکامرانی کادرس موجودہے،اس کی تعلیمات پرعمل کرنے والاانسان کبھی بھی سیدھاراستہ سے نہیں بھٹک سکتا،اس لئے کہ یہ کتاب جس کی طرف سے نازل ہوئی ،جس پر نازل ہوئی، اورجس کے ذریعہ سے اتری،ذرہ برابربھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں نکالی جاسکتی ہے۔اللہ خودفرماتے ہیں:یہ ایسی کتاب ہے جسمیں کوئی شک نہیں،یہ ہدایت ہے ڈرنے والوں کیلئے۔لیکن افسوس آج وہی کتاب ہم سے چھوٹ گئی،اس کے معانی ،مفاہیم اورترجموں پرغوروفکرکرناہم اپنے لئے ضروری نہیں سمجھتے،پنج وقتہ نمازوں میں سورۃ الفاتحہ اوردیگرآیات کی ہم تلاوت کرتے تو ہیں؛ مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس کے ترجموں کوپڑھیں،سمجھیں اورجانیں کہ اللہ ہم سے کیا خطاب کرناچاہتے ہیں۔جب ہم کسی دوسرے ملک میں روزگارکی تلاش کیلئے نکلتے ہیں،تواس سے پہلے انگریزی زبان کوسیکھنالازم وضروری کرلیتے ہیں،کوچنگ کرتے ہیں،اوراس زبان پر عبورحاصل کرنے کیلئے ہزارہاجدوجہدکرتے ہیں، مگرپتہ نہیں عربی زبان سیکھنے کی طرف ہم متوجہ کیوں نہیں ہوتے،جب کہ یہ زبان اسلام کی زبان ہے،اوراس کتاب کی زبان ہے جوہمارے آخری نبی ﷺ اپنے آخری سفرپرجانے سے قبل ہماری ہدایت کیلئے چھوڑگئے ہیں۔نبی کریم ﷺ کایہ خطاب کوئی معمولی خطاب نہیں تھا،بلکہ اس قدرجامع :کہ انسانوں کے سماجی ومعاشرتی مسائل کامکمل حل اس میں آپ ﷺ نے سمیٹ دیاہے،اوربتادیاکہ سماجی ومعاشرتی ہمدردی، خیرخواہی اورجذبہ ایثار، قربانی بھی اسلام ہی کاحصہ ہے۔یہ وہ حجۃ الوداع ہے اوروہ میدان عرفات جہاں پرقرآن کریم کی آخری آیت نازل ہوئی:’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی‘‘آج میں نے تمہارے لئے تمہارادین مکمل کردیااورتم پراپنی نعمت کااتمام کردیا۔یقینایہ کوئی عام زبان نہیں تھی؛بلکہ وحی کی زبان تھی،اور آپ کو یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ اب آپ اس دنیاسے رحلت فرمانے والے ہیں؛ اس لئے اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں سے پوچھا بتاؤ! قیامت کے دن تم سے میرے بارے میں پوچھاجائیگاکہ میں نے اللہ کی ہدایت پہونچائی یانہیں،توکیاجواب دوگے؟ ایک لاکھ تیس ہزارکاٹھاٹھیں مارتاہواسمندرنے پرزورآوازمیں بولا:’’ہم آج بھی گواہی دیتے ہیں اور قیامت کے دن بھی گواہی دیں گے کہ آپﷺ نے اللہ کے احکام اوراس کے پیغام کوہم تک پہونچادیئے،آپ ﷺ نے نصیحت وخیرخواہی کی اورتبلیغ کاپوراپوراحق اداکردیا۔‘‘اس پرآپ ﷺ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اورلوگوں کے مجمع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین دفعہ فرمایا:اے اللہ !توگواہ رہ،اے اللہ !تو گواہ رہ، اے اللہ ! توگواہ رہ،میں نے تیرے احکام تیرے بندوں تک پہونچادیئے اوریہ تیرے بندے اقرارواعتراف کرتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram