غزل

جب مقدر میں ہے تنہائی سے یاری پاگل
پھر وہی شخص ہے کیوں ذہن پہ طاری،پاگل؟
رات بھر تیری تمنّا کے سفر میں گزری
دور تک تیرگئ راہ پکاری پاگل
مجھ کو رکنے نہ دیا میری جنوں خیزی نے
عقل کہتی ہی رہی فکر سے عاری پاگل
تجھ کو ہر صبح کے آغاز پہ سوچا میں نے
مجھ کو کرتی ہی رہی میری خماری پاگل
تو نے کاغذ پہ کبھی نقش بنایا تھا مرِا
گر گئی مجھکو وہی نقش نگاری پاگل
جھوم کر جب مرے چہرے پہ وہ لہرائی تھی
تم نے کس ناز سے وہ زلف سنواری پاگل
میرا سایہ ہی فقط ساتھ مرے چلتا ہے
اپنےسائے سے ہی رکھتی ہوں میں یاری پاگل
اس نے دل ہار کے زریاب مُجھے جیت لیا
عشق کی ریت ہے دنیا سے نیاری ، پاگل

ہاجرہ نور زرؔیاب ،آکولہ ،مہاراشٹر، انڈیا‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram