غزل

تاروں سے بھرا اک آسماں ہو
ہمارے واسطے ایسا جہاں ہو

خزاں کا دور اب آنے نہ پائے
کہ پھولوں سے بھرا یہ گلستاں ہو

نگاہیں ڈھونڈتی رہتی ہیں اکژ
خدا جانے کہ آخر تم کہاں ہو

میں اس کے ساتھ کچھ لمحہ گزاروں
مرا بھی کوئی ایسا مہرباں ہو

یقیں مجھ پر کرے لیکن میں چاہوں
حنا سے بھی کبھی وہ بدگماں ہو

حنا نسیم روبی
آرہ ۔بہار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest