عصمت دری اور جنسی استحصال کے بعد اب گروکل بنے بد فعلی کے اڈے

اب گرو کل بھی بچوں کے لئے محفوظ نہیں ،ہریانہ کے روہتک ضلع میں صدر تھانہ کے تحت بھیاپور لاڑھوت میں گروکل کے بچوں نے اپنےسینئرز پر بد فعلی کا الزام لگایا ہے ، ان بچوں نے بتایا کہ تقریباً ایک سال سے سینئر طلبا ان کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں -ان بچوں نےاپنے اساتذہ سے بھی شکایت کی لیکن انکی کوئی سنوائی نہیں ہوئی تب ہار کر ان بچوں نے اپنے والدین سے اسکی شکایت کیمتاثرہ بچوں نے کنبہ کے سامنے گروکل میں رہنے سے انکار کر دیا۔ معاملہ کے انکشاف پر انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی اور صدر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے اس معاملہ میں پوکسو ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی ہے اور متاثرین کی طبی جانچ کی جا رہی ہےرکشا بندھن تہوار پر گروکل میں پڑھنے والے بچوں کےرشتے دار اور ماں باپ جب ان سے ملنے کے لئے گروکل پہنچے ۔ تو بچے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور چھ بچوں نے ان کے سامنے روتے روتے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے ان کے ساتھ گروکل میں جنسی استحصال ہو رہا ہے اور کسی کو بتانے پر جان سے مارنے کی دھمکی مل رہی ہے، اب وہ کسی بھی قیمت پر گروکل میں نہیں رہیں گے۔
معاملہ کے بے نقاب ہو جانے پر لواحقین وہاں ہنگامہ کرنے لگے۔ معاملہ بڑھتا دیکھ کر وہاں سے انتظامیہ کے افسران اور اساتذہ باہر نکل گئے۔ اس کے بعد لواحقین نے صدر پولیس کو اس کی اطلاع دی۔ پولیس گروکل پہنچی اور بچوں کے بیانات درج کئے اور ان سے پوچھ گچھ کیپولیس نے اس سلسلے میں تحفظ اطفال افسر کو بھی اطلاع دے دی ہے۔ ساتھ ہی پولیس نے بچوں کی طبی جانچ کرائی اور اس سلسلے میں پوکسو ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest