صحافت کے ستون ، انسانیت کے علمبردار کلدیپ نیر نہیں رہے، دہلی میں آخری رسوم ادا

نئی دہلی:صحافت کے ستون کلدیپ نیر کاگزشتہ روز انتقال ہوگیا۔ ن کے انتقال سے نہ صرف صحافی برادری بلکہ سیاسی ، سماجی اور ادبی دنیا میں بھی غم کی لہر پائی جا رہی ہے ۔ہندوستان کے کہنہ مشق صحافی کا لودھی روڈ شمشان گھاٹ میں آخری رسوم ادا کردی گئیں۔وہ 95 برس کے تھے۔اردو زبان میں صحافت کا آغاز کرنے والےصحافی کے انتقال پر ملک بھر سے سیاسی رہنمائوں ،ادیبوں ، سرکردہ شخصیات، سماجی کارکنان یعنی کل ہر چہار جانب سے تعزیتی پیغام آنے شروع ہوگئے۔ کلدیپ نیر ۱۴؍ اگست ۱۹۲۴؍ کو سیال کوٹ جو پاکستان میں ہے پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم سیال کوٹ میں ہی حاصل کی جبکہ لاہور سے وکالت میں ڈگری حاصل کی ۔ یوایس اے سے صحافت میں ڈگری حاصل کی جبکہ پی ایچ ڈی فلسفہ میںکی ۔کلدیپ نیر پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی ) حکومت ہند میں کئی سال تک اپنی خدمات انجام دی۔ اس کے علاوہ یو این آئی ، دی اسٹیٹس مین ، انڈین ایکسپریس کے ساتھ طویل مدت تک منسلک رہے ۔وہ پچیس سال تک دی ٹائمس لند کے رپورٹر بھی رہے ہیں ۔ کلدیپ نیر شروع میں اردو کے صحافی تھے او ر اردو زبان میں لکھتے تھے ۔ وہ دہلی میں اسٹیٹس مین کے مدیر بھی تھے ۔ کلدیپ نیر ہندوستان میں ۱۹۷۵؍ سے ۱۹۷۷؍ تک لگائی گئی ایمرجنسی میں گرفتار بھی کیے گئے تھے اور جیل میں بھی رہے تھے ۔ وہ ۱۹۹۶؍ میں ہندوستان کی طرف سے اقوام متحدہ کے رکن بھی تھے جبکہ ۱۹۹۰؍ میں انھیں گریٹ بریٹین میں ہائی کمشنر مقر ر کیا گیا تھا ۔ وہ ۱۹۹۷؍ میں راجیہ سبھا کے رکن نامزد ہوئے ۔ وہ ۸۰؍ سے زائد اخبارات کے لیے لکھتے تھے اور ۱۴؍ زبانوں میں ان کے کالم شائع ہوتے تھے ۔کلدیپ نیر کی اہم کتابوں میں بٹوین دی لائنس ، ڈسٹنٹ نیور ، اے ٹیل آف دی سب کانٹی نینٹل ، انڈیا آفٹر نہرو ، وال ایٹ واگھا ، انڈیا پاکستان رلیشن شپ ، انڈیا ہائوس ، اسکوپ ، دی ڈے لکس اولڈ شامل ہیں ۔ کلدیپ نیر کونارتھ یونیورسٹی کی طرف سے ایلیومنی ایوارڈ ۱۹۹۹؍ سے دیا گیا ۔ کلدیپ نیر ایک سیکولر قلمکار تھے ۔وہ آر ایس ایس کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے ہیں اور واجپئی حکومت میں کہا تھا کہ ایک ایسا قانون بنایا جائے کہ آر ایس ایس کے کارکنان کو حکومت کے اعلی عہدوں سے دور رکھا جائے اور انھیں نااہل قرار دیا جائے ۔ علاوہ ازیں کلدیپ نیر ملی جماعتوں میں بھی کافی مقبول تھے ۔
ان کے خاندان میں بیوی اور دو بیٹے ہیں۔وہ یونائٹیڈ نیوز آف انڈیا (یو این آئی) کے چیف اڈیٹر اور جنرل منیجر بھی تھے۔وہ کافی دنوں سے علیل تھے اور اسپتال میں زیر علاج تھے۔صدرجمہوریہ ہند رام ناتھ کووند، وزیراعظم نریندر مودی، سابق نائب صدر حامد انصاری، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ سمیت مختلف سیای پارٹیوں کے لیڈران اور ملک کی مشہور صحافیوں نے مسٹر نیر کے انتقال پر اپنے گہرے رنج وغم کااظہار کیا ہے اور ان کے انتقال کو ہندوستانی صحافت کے لئے غیر معمولی نقصان قرار دیا ہے۔مسٹر نیر کے انتقال کی خبر ملتے ہی بڑی تعداد میں ان کے دوست، حامیوں اور صحافی برادری ان کے گھر پر اکٹھے ہوئے۔ اس موقع پر سابق نائب صدر ڈاکٹر حامد انصاری، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، مرکزی وزیر ہرشن وردھن، دلی کے نائب وزیراعلی منیش سسودیا، کانگریس کے خزانجی احمد پٹیل، سابق مرکزی وزیر شرد یادو، سابق مرکزی وزیر اور مشہور صحافی ارون شوری، ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے ڈی راجہ، سینئر صحافی رجت شرما، پنجاب کیسری کے چیف اڈیٹر اور ممبر پارلیمنٹ اشونی چوپڑا اور مشہور صحافی آلوک مہتہ سمیت میڈیا سے تعلق رکھنے والی بڑی شخصیات اور مسٹر نیر کے خاندان والے موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest