اخوان المسلمون کے سرکردہ رہنما سمیت 75 افراد کو سزائے موت

قاہرہ: مصر کی عدالت نے اخوان المسلمون کے سپریم لیڈر محمد بدیع سمیت 75 افراد کو سزائے موت سنا دی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر میں اخوان المسلمون کی اعلیٰ قیادت سمیت 75 افراد کو 2013 میں حکومت الٹنے کے خلاف دھرنے میں شرکت کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنا دی ہے۔ مصر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر سزائے موت سنائی گئی ہیں۔ سزا پانے والے والوں میں دھرنے اور مظاہروں کی کوریج کرنے والے فوٹو جرنلسٹ ابو زائد بھی شامل ہیں۔مصر کے سرکاری ٹی وی نے بتایا ہے کہ عدالت نے اتنی بڑی تعداد میں دی گئی موت کی سزا پر ملک کے مفتیٴ اعظم سے بھی رائے طلب کرلی ہے۔ مفتی اعظم کی رائے ملنے کے بعد سزا پر عمل درآمد کرایا جائے گا۔ سرکاری اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ موت کی سزا پانے والے تمام مجرموں کو رواں سال 8 ستمبر کو پھانسی دی جائے گی۔واضح رہے کہ اگست 2013 میں صدر حسنی مبارک کی جمہوری حکومت کو الٹنے پر پُھوٹنے والے ہنگاموں میں سیکڑوں مظاہرین اور درجنوں سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد پُر تشدد دھرنا اور مظاہرہ کرنے کے الزام میں اخوان المسلمون کے رہنماؤں سمیت 739 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram